پاکستانی معاشرہ ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ کبھی شادی کو زندگی بھر کا مقدس بندھن سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہی رشتہ چند ماہ میں عدالتوں کی فائل بن کر رہ جاتا ہے۔ اٹھارہ مئی 2026 جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً تین سو خلع کے کیسز درج ہوتے ہیں یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے حیران کن خطرے کی گھنٹی ہے۔ سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد لو میرج یعنی پسند کی شادیوں کی ہوتی ہے، جو بعض اوقات ایک ماہ سے ایک سال کے اندر ہی ٹوٹ جاتی ہیں۔
یہ اعداد و شمار صرف عدالتوں کے ریکارڈ نہیں بلکہ ٹوٹے خوابوں، بکھرتے خاندانوں، ذہنی دباؤ، معاشرتی بے چینی اور آنے والی نسلوں کے عدم تحفظ کی داستان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ وہ محبتیں جو کبھی جان دینے اور دنیا سے لڑ جانے کے دعوے کرتی تھیں، چند مہینوں میں نفرت، الزام تراشی اور عدالت کے دروازے تک کیوں پہنچ جاتی ہیں؟
اس کی پہلی اور سب سے بڑی وجہ “تصوراتی محبت” ہے۔ آج کی نوجوان نسل محبت کو حقیقت کے بجائے فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا کے فلٹرز میں دیکھتی ہے۔ انسٹاگرام کی تصویریں، ٹک ٹاک کی ویڈیوز اور رومانوی ڈرامے نوجوانوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ شادی صرف محبت، تحائف، لمبی ڈرائیوز اور جذباتی جملوں کا نام ہے، جبکہ حقیقت میں شادی ایک ذمہ داری، برداشت، قربانی اور مزاجوں کے ٹکراؤ کو سنبھالنے کا نام ہے۔ جب عملی زندگی شروع ہوتی ہے تو رومانوی خواب بجلی کے بل، مہنگائی، گھریلو ذمے داریوں اور خاندانوں کے اختلافات کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں۔
دوسری اہم وجہ “ناپختگی” ہے۔ ہمارے ہاں اکثر نوجوان جذبات میں آ کر شادی تو کر لیتے ہیں مگر ذہنی طور پر ازدواجی زندگی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ لڑکا خود بے روزگار یا غیر مستحکم ہوتا ہے، جبکہ لڑکی کو ایک فلمی ہیرو جیسی زندگی کی توقع ہوتی ہے۔ جب حقیقت توقعات سے مختلف نکلتی ہے تو مایوسی جنم لیتی ہے، پھر چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
تیسری وجہ “خاندانوں کی مداخلت” ہے۔ پسند کی شادیوں میں اکثر دونوں خاندان پہلے ہی ناخوش ہوتے ہیں۔ پھر معمولی اختلافات کو انا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔ ساس، بہو، نند، داماد اور رشتہ دار اپنی اپنی عدالتیں لگا لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دو افراد کا رشتہ پورے خاندانوں کی جنگ بن جاتا ہے۔
سوشل میڈیا بھی اس تباہی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آج ہر شخص اپنی ازدواجی زندگی کا موازنہ دوسروں کی مصنوعی خوشیوں سے کرتا ہے۔ بیوی اپنے شوہر کا موازنہ کسی امیر انفلوئنسر سے کرتی ہے اور شوہر اپنی بیوی کو کسی ماڈل جیسی شخصیت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اس مسلسل موازنے نے شکر، برداشت اور قناعت جیسی خوبصورت اقدار کو ختم کر دیا ہے۔
ایک اور خطرناک پہلو “ایگو” یعنی انا ہے۔ پہلے گھروں میں بزرگ سمجھوتہ کرا دیتے تھے، اب ہر شخص جیتنا چاہتا ہے۔ معافی مانگنا کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک معمولی غلط فہمی طلاق یا خلع تک پہنچ جاتی ہے۔
معاشی دباؤ بھی ان رشتوں کو کھا رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی، کرایوں اور اخراجات نے نوجوان طبقے کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ جب جیب خالی ہو تو محبت بھی اکثر امتحان میں پڑ جاتی ہے۔ اسلام آباد جیسے مہنگے شہر میں نئی شادی شدہ جوڑی کے لیے الگ گھر، اخراجات اور معیارِ زندگی برقرار رکھنا آسان نہیں رہا۔
یہ صورتحال صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔ ٹوٹتے خاندان بچوں کی نفسیات تباہ کرتے ہیں، والدین کو ذہنی اذیت دیتے ہیں اور معاشرے میں عدم اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں رشتے کمزور ہو جائیں، وہاں انسان اندر سے تنہا اور غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔
لیکن اس مسئلے کا حل موجود ہے، بشرطیکہ ہم سنجیدگی سے سوچیں۔
سب سے پہلے نوجوانوں کو شادی سے پہلے “ازدواجی تربیت” دی جانی چاہیے۔ جس طرح ڈرائیونگ کے لیے لائسنس ضروری ہے، اسی طرح شادی سے پہلے بھی ذہنی و اخلاقی تربیت ہونی چاہیے تاکہ نوجوان سمجھ سکیں کہ شادی صرف محبت نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔
دوسرا، والدین کو چاہیے کہ بچوں کی پسند کو عزت دیں مگر جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ رہنمائی بھی کریں۔ صرف ضد یا انا کی بنیاد پر رشتوں کو ناکام نہ ہونے دیں۔
تیسرا، سوشل میڈیا کے مصنوعی معیاروں سے نکلنا ہوگا۔ حقیقی زندگی میں مکمل انسان نہیں ہوتے، بلکہ خامیوں کے ساتھ ایک دوسرے کو قبول کرنا ہی کامیاب رشتے کی بنیاد ہے۔
چوتھا، حکومت اور عدالتی نظام کو فیملی کونسلنگ سینٹرز فعال بنانے چاہئیں جہاں خلع سے پہلے ماہرین دونوں فریقین کو سمجھانے اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں۔ بہت سے گھر صرف غلط فہمیوں کی وجہ سے ٹوٹ جاتے ہیں۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ محبت صرف حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ نبھانے کا نام بھی ہے۔ شادی جذبات کی وقتی لہر نہیں بلکہ صبر، برداشت، قربانی اور احترام کا مسلسل سفر ہے۔
اسلام آباد کی عدالتوں میں روزانہ تین سو خلع کیسز دراصل ایک سوال ہیں، جو پورے معاشرے سے پوچھ رہے ہیں:
“کیا ہم رشتے بنانا بھول گئے ہیں؟”
اگر ہم نے وقت پر اپنی سوچ، تربیت اور معاشرتی رویوں کو نہ بدلا تو آنے والے برسوں میں عدالتیں مزید بھر جائیں گی، مگر گھر مزید خالی ہو جائیں گے۔
انصاف کی فراہمی ایک مقدس ذمہ داری ہے ، عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
لاہور۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی ایک مقدس ذمہ داری ہے اور...
Read moreDetails







