(رانا شکیل، اعجاز بخاری اور ڈاکٹر احسان الٰہی مرحوم کے نام ایک قلبی خراجِ عقیدت)
گزرے ہفتے بہت سے پیارے دوست ہمیں اس فانی دنیا میں روتا سسکتا چھوڑ کر اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ رانا شکیل، اعجاز بخاری اور کروڑ لعل عیسن کے ڈاکٹر احسان الٰہی… کل تک جو ہمارے درمیان ہنستی مسکراتی، زندگی سے بھرپور شخصیات تھیں، آج وہ محض ایک قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔ ان تینوں مرحومین سے میرا محض رسمی نہیں، بلکہ گہرا قلبی، خاندانی اور احترام و وفا کا دیرینہ تعلق تھا۔
میری اصل دوستی ڈاکٹر احسان الٰہی کے والدِ بزرگوار، محترم ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب سے تھی۔ میری ڈاکٹر فضل صاحب سے ملاقات اس دور میں ہوئی جب وہ بلدیہ کروڑ کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ میں نے بحیثیتِ صحافی اس نو منتخب چیئرمین کا انٹرویو کیا تھا؛ اس مٹی سے جڑے انسان سے اس زمانے میں جو تعلق بنا، وہ آج بھی میری یادوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ استوار ہے۔
ڈاکٹر احسان الٰہی، اپنے والد کے اکلوتے بیٹے اور 9 بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ والد کی وفات کے بعد اس نوجوان نے جس خوبصورتی، وقار اور ذمہ داری سے اپنے خاندان کی سیاسی اور سماجی روایات کو زندہ رکھا، وہ انہی کا حصہ تھا۔ انہوں نے والد کی رحلت کے بعد ہر ذمہ داری کو خوب نبھایا۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ اچانک ہم سے بچھڑے، تو پورا علاقہ سوگوار ہو گیا۔ مرحوم احسان الٰہی کا جنازہ کروڑ کی تاریخ کے بڑے اور تاریخی جنازوں میں سے ایک تھا، جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی۔

بابا ے صحافت استاد عبد الحکیم شوق کے داماد رانا شکیل سے میرا پیار، احترام اور محبت کا رشتہ اس زمانے میں جڑا جب شکیل ابھی نو عمری کے دور سے گزر رہے تھے اور ان کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔ ان کے والد بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے زندگی نے ان کا کڑا امتحان لیا۔ لیکن شکیل نے ہمت نہ ہاری, دن رات بے پناہ محنت کی اور ایک کامیاب کاروباری کے طور پر اپنے آپ کو منوایا۔ وہ اپنی مخلصی اور قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت لیّہ انجمنِ تاجران کے منتخب رہنما بنے اور تاجر برادری کے حقوق کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ان کا یوں چلے جانا تاجر برادری اور ہمارے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
اسی طرح محترم سید اعجاز بخاری مرحوم سے میرے احترام و عقیدت کا تعلق بہت پرانا تھا۔ مرحوم ایک بینک آفیسر تھے، لیکن ان کی طبیعت میں رتی برابر بھی دنیا داری نہ تھی۔ وہ ایک سچے درویش صفت اور متوکل انسان تھے۔ ہر حال میں خوش رہنا اور دوسروں میں خوشیاں تقسیم کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ مرحوم کے سسر اور ‘تھل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج’ کے بانی فضل حق رضوی صاحب ہمارے نہایت مہربان دوست تھے۔ اس کالج کے ابتدائی بانی ارکان میں ہمیں بھی شریکِ سفر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ تعلق خاندانی محبت میں بدل گیا تھا۔
آج اعجاز بخاری صاحب تو دنیا میں نہیں رہے، لیکن قدرت نے ان کے ہونہار بیٹے، معروف صحافی اور سماجی رہنما عمران علی شاہ کی صورت میں لیّہ کو ایک اِنتہائی متحرک اور مخلص شخصیت عطا کی ہے۔ قدرت نے عمران کو ایک خوبصورت اور سحر انگیز آواز سے نوازا ہے۔ بلا شبہ عمران نے اپنے والد کی بے مثال خدمت کی، خاص طور پر رخصت کے آخری لمحات میں۔ بابا کے آخری وقت میں، ان کے کان کے پاس آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ عمران کا نعتِ رسولﷺ سنانے کا وہ ویڈیو کلپ جس نے بھی دیکھا اور سنا، اس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل خون کے آنسو رویا۔ یہ منظر دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے وہ لختِ جگر اپنے درویش باپ کے دل کی آواز بن کر پکار رہا ہو:
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے
اور گلیوں میں قصداً بھٹک جائیں گے
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے
یہ ایک بیٹے کی اپنے باپ کے لیے محبت اور عقیدت کی معراج تھی، جس نے ہر سننے والے کو تڑپا کر رکھ دیا۔
کہتے ہیں کہ ‘مرنا کوئی خبر نہیں، جینا خبر ہے’، لیکن ہر گھڑی موت زندگی کے تعاقب میں ہے۔ جب وقتِ مقررہ کا گھڑیال بجتا ہے، تو زندگی ہار جاتی ہے اور موت اسے دبوچ لیتی ہے۔
اللہ پاک رانا شکیل، سید اعجاز بخاری اور ڈاکٹر احسان الٰہی کے درجات بلند کرے، انہیں جوارِ رحمت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے اور ان کے تمام لواحقین کو یہ تڑپا دینے والا صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین ۔






