• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر ,ایک بگڑتے معاشرے کی کہانی …انجینئر شیراز حسین رونگھا

webmaster by webmaster
مئی 12, 2026
in کالم
0
سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر ,ایک بگڑتے معاشرے کی کہانی …انجینئر شیراز حسین رونگھا

نسانی معاشرے کی بنیاد ہمیشہ سچ، دیانت اور انصاف پر استوار رہی ہے۔ جب یہ بنیادیں مضبوط ہوں تو قومیں ترقی کرتی ہیں، ادارے مستحکم ہوتے ہیں اور افراد کے درمیان اعتماد پروان چڑھتا ہے۔ لیکن جب سچ اور جھوٹ کے درمیان موجود باریک لکیر کو دانستہ طور پر مٹایا جانے لگے، جب حقائق کو مسخ کر کے جھوٹ کو سچ کا لبادہ پہنایا جائے، تو یہ عمل نہ صرف اخلاقی زوال کی علامت ہوتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن جاتا ہے۔
آج کے دور میں یہ المیہ شدت اختیار کر چکا ہے کہ سچ کو چھپانا اور جھوٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایک ہنر سمجھا جانے لگا ہے۔ سوشل میڈیا، سیاسی بیانات، حتیٰ کہ روزمرہ گفتگو میں بھی حقائق کی تحریف ایک عام سی بات بن گئی ہے۔ لوگ بغیر تحقیق کے خبریں پھیلا دیتے ہیں، ذاتی مفادات کی خاطر دوسروں پر الزامات لگا دیتے ہیں اور سچ کو دبانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف فرد کی اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اجتماعی طور پر ایک ایسی فضا پیدا کرتا ہے جہاں اعتماد کا فقدان جنم لیتا ہے۔
سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا بظاہر ایک آسان عمل معلوم ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ کو اس قدر خوبصورتی سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ سچ کا گمان دینے لگتا ہے۔ میڈیا، پروپیگنڈا اور ذاتی مفادات کے تحت بیانیے اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں کہ عام آدمی حقیقت تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔ نتیجتاً، ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں سچائی کمزور اور جھوٹ طاقتور نظر آنے لگتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کی بنیاد ہمیشہ کمزور ہوتی ہے۔ جھوٹ وقتی طور پر فائدہ دے سکتا ہے، لیکن یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سچ کو دبانے کی جتنی بھی کوششیں کی گئیں، آخرکار سچ سامنے آ کر رہا۔ سچ ایک چراغ کی مانند ہے جسے جتنا بھی چھپانے کی کوشش کی جائے، وہ اپنی روشنی سے اندھیروں کو چیر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ دل کی گہرائیوں میں سچ کو سننا اور سچ کا سامنا کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ سچ میں سکون اور اطمینان پوشیدہ ہوتا ہے۔
معاشرے میں انصاف اور میرٹ کا قیام سچ کے بغیر ممکن نہیں۔ جب فیصلے جھوٹ اور مفادات کی بنیاد پر کیے جائیں تو انصاف کا قتل ہوتا ہے اور میرٹ پامال ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں جھوٹ کو فوقیت دی جائے، وہاں اہل افراد پیچھے رہ جاتے ہیں اور نااہل لوگ آگے آ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے کمزور ہو جاتے ہیں، ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور عوام میں مایوسی پھیل جاتی ہے۔
سچ کا ساتھ دینا بلاشبہ ایک مشکل کام ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں جھوٹ کو فروغ دیا جا رہا ہو۔ سچ بولنے والے افراد کو اکثر تنقید، مخالفت اور حتیٰ کہ ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر چند لوگ بھی ہمت کر کے سچ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، تو وہ ایک نئی سوچ کو جنم دے سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔
تعلیم اس حوالے سے ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر نئی نسل کو سچائی، دیانت اور تحقیق کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے، تو وہ جھوٹ اور فریب کے جال میں پھنسنے سے بچ سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں تنقیدی سوچ پیدا کریں، تاکہ وہ ہر بات کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے کے بجائے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔ اسی طرح والدین اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ سچ کو ترجیح دیں، چاہے اس کے لیے انہیں مشکلات ہی کیوں نہ اٹھانی پڑیں۔
میڈیا کا کردار بھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا سچ کو سامنے لانے اور جھوٹ کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر میڈیا خود ہی سنسنی خیزی اور مفادات کی دوڑ میں شامل ہو جائے، تو پھر سچ کی تلاش مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور حقائق کو دیانتداری کے ساتھ عوام تک پہنچائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سچ اور جھوٹ کی جنگ صرف اجتماعی سطح پر نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی لڑی جاتی ہے۔ ہر فرد کو اپنے اندر جھانکنا ہوگا اور یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سچ کا ساتھ دے گا یا جھوٹ کا۔ چھوٹے چھوٹے جھوٹ بھی ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بھی سچائی کو اپنائیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک بہتر اور خوبصورت معاشرے کے قیام کے لیے سچ اور جھوٹ میں واضح تفریق ناگزیر ہے۔ جب تک ہم سچ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، انصاف اور میرٹ کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نہ صرف خود سچ بولیں گے بلکہ دوسروں کو بھی سچ کی ترغیب دیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک مضبوط، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
سچ کی طاقت کو پہچانیں، جھوٹ کے فریب سے بچیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں سچ کو عزت اور جھوٹ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ کیونکہ جب سچ زندہ ہوتا ہے تو قومیں زندہ رہتی ہیں، اور جب جھوٹ غالب آ جائے تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔

Tags: column by sheraz rongha
Previous Post

کوٹ سلطان کے ملک کریم بخش کھوکھر , لیّہ یونیورسٹی اور بہادر ای لائبریری .. تحریر: انجم صحرائی

Next Post

خواتین کے حقوق کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے ،خاتون محتسب اعلیٰ پنجاب نجمہ افضل خان

Next Post
خواتین کے حقوق کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے ،خاتون محتسب اعلیٰ پنجاب نجمہ افضل خان

خواتین کے حقوق کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے ،خاتون محتسب اعلیٰ پنجاب نجمہ افضل خان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

ملتان. حکومت کے عیدالاضحی پر صفائی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے احکامات
قومی/ بین الاقوامی خبریں

لاہور ۔جائیداد کے دستاویزات کے حصول کیلئے بائیو میٹرک تصدیق لازم ،پنجاب حکومت کا فیصلہ

by webmaster
مئی 12, 2026
0

لاہور ۔ پنجاب حکومت نے جائیداد کے دستاویزات کے حصول کیلئے بائیو میٹرک تصدیق لازم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس...

Read moreDetails
معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل ,   ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل , ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

مئی 10, 2026
راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

اپریل 20, 2026
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
ڈیرہ غازی خا  ن   ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ڈیرہ غازی خا ن ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

اپریل 11, 2026
نسانی معاشرے کی بنیاد ہمیشہ سچ، دیانت اور انصاف پر استوار رہی ہے۔ جب یہ بنیادیں مضبوط ہوں تو قومیں ترقی کرتی ہیں، ادارے مستحکم ہوتے ہیں اور افراد کے درمیان اعتماد پروان چڑھتا ہے۔ لیکن جب سچ اور جھوٹ کے درمیان موجود باریک لکیر کو دانستہ طور پر مٹایا جانے لگے، جب حقائق کو مسخ کر کے جھوٹ کو سچ کا لبادہ پہنایا جائے، تو یہ عمل نہ صرف اخلاقی زوال کی علامت ہوتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں یہ المیہ شدت اختیار کر چکا ہے کہ سچ کو چھپانا اور جھوٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایک ہنر سمجھا جانے لگا ہے۔ سوشل میڈیا، سیاسی بیانات، حتیٰ کہ روزمرہ گفتگو میں بھی حقائق کی تحریف ایک عام سی بات بن گئی ہے۔ لوگ بغیر تحقیق کے خبریں پھیلا دیتے ہیں، ذاتی مفادات کی خاطر دوسروں پر الزامات لگا دیتے ہیں اور سچ کو دبانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف فرد کی اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اجتماعی طور پر ایک ایسی فضا پیدا کرتا ہے جہاں اعتماد کا فقدان جنم لیتا ہے۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا بظاہر ایک آسان عمل معلوم ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ کو اس قدر خوبصورتی سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ سچ کا گمان دینے لگتا ہے۔ میڈیا، پروپیگنڈا اور ذاتی مفادات کے تحت بیانیے اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں کہ عام آدمی حقیقت تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔ نتیجتاً، ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں سچائی کمزور اور جھوٹ طاقتور نظر آنے لگتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کی بنیاد ہمیشہ کمزور ہوتی ہے۔ جھوٹ وقتی طور پر فائدہ دے سکتا ہے، لیکن یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سچ کو دبانے کی جتنی بھی کوششیں کی گئیں، آخرکار سچ سامنے آ کر رہا۔ سچ ایک چراغ کی مانند ہے جسے جتنا بھی چھپانے کی کوشش کی جائے، وہ اپنی روشنی سے اندھیروں کو چیر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ دل کی گہرائیوں میں سچ کو سننا اور سچ کا سامنا کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ سچ میں سکون اور اطمینان پوشیدہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں انصاف اور میرٹ کا قیام سچ کے بغیر ممکن نہیں۔ جب فیصلے جھوٹ اور مفادات کی بنیاد پر کیے جائیں تو انصاف کا قتل ہوتا ہے اور میرٹ پامال ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں جھوٹ کو فوقیت دی جائے، وہاں اہل افراد پیچھے رہ جاتے ہیں اور نااہل لوگ آگے آ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے کمزور ہو جاتے ہیں، ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور عوام میں مایوسی پھیل جاتی ہے۔ سچ کا ساتھ دینا بلاشبہ ایک مشکل کام ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں جھوٹ کو فروغ دیا جا رہا ہو۔ سچ بولنے والے افراد کو اکثر تنقید، مخالفت اور حتیٰ کہ ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر چند لوگ بھی ہمت کر کے سچ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، تو وہ ایک نئی سوچ کو جنم دے سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔ تعلیم اس حوالے سے ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر نئی نسل کو سچائی، دیانت اور تحقیق کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے، تو وہ جھوٹ اور فریب کے جال میں پھنسنے سے بچ سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں تنقیدی سوچ پیدا کریں، تاکہ وہ ہر بات کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے کے بجائے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔ اسی طرح والدین اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ سچ کو ترجیح دیں، چاہے اس کے لیے انہیں مشکلات ہی کیوں نہ اٹھانی پڑیں۔ میڈیا کا کردار بھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا سچ کو سامنے لانے اور جھوٹ کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر میڈیا خود ہی سنسنی خیزی اور مفادات کی دوڑ میں شامل ہو جائے، تو پھر سچ کی تلاش مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور حقائق کو دیانتداری کے ساتھ عوام تک پہنچائے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سچ اور جھوٹ کی جنگ صرف اجتماعی سطح پر نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی لڑی جاتی ہے۔ ہر فرد کو اپنے اندر جھانکنا ہوگا اور یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سچ کا ساتھ دے گا یا جھوٹ کا۔ چھوٹے چھوٹے جھوٹ بھی ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بھی سچائی کو اپنائیں۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک بہتر اور خوبصورت معاشرے کے قیام کے لیے سچ اور جھوٹ میں واضح تفریق ناگزیر ہے۔ جب تک ہم سچ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، انصاف اور میرٹ کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نہ صرف خود سچ بولیں گے بلکہ دوسروں کو بھی سچ کی ترغیب دیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک مضبوط، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ سچ کی طاقت کو پہچانیں، جھوٹ کے فریب سے بچیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں سچ کو عزت اور جھوٹ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ کیونکہ جب سچ زندہ ہوتا ہے تو قومیں زندہ رہتی ہیں، اور جب جھوٹ غالب آ جائے تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.