ایک وقت تھا جب فیس بک واقعی “سوشل نیٹ ورک” تھا۔ لوگ پوسٹ کرتے تھے , دوست دیکھتے تھے بات آگے بڑھتی تھی۔ مگر آج سوال یہ ہے ؟
کیا فیس بک اب بھی سوشل پلیٹ فارم ہے یا مکمل طور پر اشتہاری معیشت کا حصہ بن چکا ہے؟
حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے مگر جھکاؤ واضح طور پر بزنس ماڈل کی طرف ہے۔
فیس بک کا اصل ایندھن اشتہارات ہین۔
اگر ہم جذبات سے نکل کر صرف ڈیٹا دیکھیں تو تصویر بہت واضح ہو جاتی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق میٹا (فیس بک کی پیرنٹ کمپنی) کی آمدنی کا 97 فیصد سے زیادہ حصہ اشتہارات سے آتا ہے۔
اس کا مطلب سادہ ہے ٫جس پلیٹ فارم کی کمائی ہی اشتہارات سے ہو٫ وہ لازمی طور پر وہی نظام بنائے گا جو اشتہارات کو زیادہ فائدہ دے۔
اسی لیے فیس بک پر اشتہارات کی تعداد قیمت اور اثر دونوں بڑھ رہے ہیں کیونکہ کمپنی کا بزنس ماڈل اسی پر کھڑا ہے۔
آرگینک ریچ — حقیقت یا ماضی کی یاد؟
آج بہت سے پیج ایڈمن اور کریئیٹرز ایک ہی شکایت کرتے ہیں پہلے پوسٹ ہزاروں لوگوں تک جاتی تھی٫ اب سینکڑوں تک بھی نہیں جاتی۔
اعداد و شمار بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 2025 کے آس پاس اوسط فیس بک آرگینک ریچ کئی کیسز میں صرف تقریباً 1% سے 2% تک رہ گئی ہے۔
یعنی اگر آپ کے 10 ہزار فالور ہیں، تو ممکن ہے آپ کی پوسٹ صرف چند سو لوگوں تک پہنچے وہ بھی اگر الگورتھم اجازت دے۔
اصل تبدیلی کہاں آئی؟
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔
یہ ایک سسٹم لیول شفٹ ہے
صارفین کی تعداد بڑھ گئی
کانٹینٹ کا سیلاب آ گیا
الگورتھم انگیجمنٹ اور ویڈیو کو ترجیح دینے لگا
اور سب سے بڑھ کر مونیٹائزیشن بنیادی مقصد بن گئی ہے
یہی وجہ ہے کہ آج ریلز، ویڈیو اور پیڈ پروموشن کو زیادہ اہمیت مل رہی ہے۔
نئی حقیقت “Pay to Play”
سوشل میڈیا ماہرین اب کھل کر کہتے ہیں
سوشل میڈیا اب مکمل طور پر فری ریچ پلیٹ فارم نہیں رہا — بلکہ Pay to Play ماڈل کی طرف جا چکا ہے ٫یعنی
اگر آپ بزنس کرتے ہیں تو اشتہار دینا پڑے گا
اگر آپ کریئیٹر ہیں تو ویڈیو اور ہائی انگیجمنٹ لازمی ہے۔۔
اگر آپ صرف پوسٹ کر رہے ہیں تو ریچ محدود رہے گی مستقبل کیا ہوگا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ فیس بک ختم نہیں ہو رہا بلکہ بدل رہا ہے۔
حالیہ مالی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اشتہارات کی مضبوط آمدنی ہی کمپنی کے AI اور مستقبل کے منصوبوں کو فنڈ کر رہی ہے۔
یعنی سادہ الفاظ میں:
صارف = ڈیٹا
ڈیٹا = اشتہار
اشتہار = کمپنی کی طاقت
اصل سوال
مسئلہ یہ نہیں کہ فیس بک بدل گیا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک اسے پرانے انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔
آخری بات
فیس بک اب صرف دوستوں سے جڑنے کی جگہ نہیں
یہ ایک ڈیجیٹل مارکیٹ ہے۔
جو اس حقیقت کو سمجھ گیا، وہ آگے نکل جائے گا۔
جو صرف شکایت کرے گا، وہ الگورتھم میں گم ہو جائے گا۔










