• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

میاں اقبال دانش ادب صحافت اور سماجی خدمات کا درخشاں باب ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر ۔۔ محمد عمر شاکر

webmaster by webmaster
اگست 16, 2025
in کالم
0
پیرا فورس اور اربابِ اختیار سے درد مندانہ اپیل ۔ تحریر ..محمد عمر شاکر

چلے گئے وہ روشنی بکھیرنے والے چراغ
اب اندھیروں میں ڈھونڈتے ہیں ہم ان کے سراغ

ضلع لیہ کے علاقے دھوری اڈہ دانش چوک کی فضائیں یکم اگست 2025 بروز جمعہ مبارک کے روز ایک ایسے شخص کے بچھڑنے پر سوگوار ہو گئیں جس نے اپنی زندگی ادب، صحافت اور سماجی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ شاعر، صحافی اور سماجی رہنما میاں اقبال دانش بروز جمعہ المبارک خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی رخصت نے جہاں اہلِ خانہ کو غمزدہ کیا وہیں ادبی و صحافتی حلقے بھی اس نقصان کو ناقابلِ تلافی قرار دے رہے ہیں۔
میاں اقبال دانش 4 جنوری 1962 کو ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی گزارنے کے بعد وہ دھوری اڈہ، ضلع لیہ میں آ کر بس گئے۔ یہی خطہ ان کی عملی زندگی کا مرکز بنا اور یہیں انہوں نے ادب، صحافت اور سماجی خدمات کے وہ نقوش چھوڑے جو مدتوں یاد رکھے جائیں گے۔
ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ادب سے محبت تھا۔ انہیں پنجابی زبان و ادب سے خاص لگاؤ تھا۔ وہ دھرتی کی خوشبو اور عوامی جذبات کو اپنے اشعار میں سمو دیتے تھے۔ ان کی شاعری کا مجموعہ "دھوری نامہ” آج بھی اس خطے کی ثقافت اور جذبات کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں سادگی کے ساتھ دلوں کو چھو لینے والی گہرائی پائی جاتی تھی۔
صحافت کے میدان میں بھی میاں اقبال دانش نے اپنے نقوش چھوڑے۔ وہ چوک اعظم کے پریس کلب میں انجمنِ صحافیاں کے صدر رہے۔ ان کے دور صدارت میں کئی قومی اور صوبائی سطح کی شخصیات پریس کلب کے پروگرامز میں شریک ہوئیں۔ ان کی قیادت میں صحافت کو ایک نئی جہت ملی اور مقامی صحافیوں کو اپنی شناخت قائم کرنے کا حوصلہ ملا۔ وہ مختلف قومی و علاقائی اخبارات سے وابستہ رہے اور ان کے مضامین و کالمز شائع ہوتے رہے۔ یہی نہیں بلکہ صحافت اور سماجی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف تقریبات میں اعزازات اور شیلڈز سے بھی نوازا گیا۔
میاں اقبال دانش کی سرگرمیاں صرف ادب و صحافت تک محدود نہ تھیں۔ وہ دھوری اڈہ کی انجمن تاجران میں بھی متحرک کردار ادا کرتے رہے۔ تاجروں کے مسائل کو اجاگر کرنا، ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اور اتحاد و بھائی چارے کو فروغ دینا ان کے کارناموں میں شامل تھا۔ وہ ہمیشہ عوامی فلاح کے لیے کوشاں رہتے اور دھوری اڈہ کے مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرتے۔
ان کی ذاتی زندگی میں ایک اور پہلو بھی نمایاں تھا اور وہ ان کی خوش اخلاقی تھی۔ ان کی ہنس مکھ طبیعت نے انہیں دوستوں کے درمیان بے حد مقبول بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص یہ محسوس کرتا کہ میاں صاحب کا سب سے قریبی تعلق اسی سے ہے۔ ان کے گہرے تعلقات رکھنے والوں میں محمد بوٹا شاکر، ملک شہزاد افق تھہیم راقم محمد عمر شاکر غلام عباس سندھو، طارق نفیس، ملک صابر عطاء تھہیم مرزا رضوان بیگ محمد ارشد سفیر جیسے مخلص دوست شامل تھے۔ مگر دراصل ان کی محبت اور خلوص کی وسعت اتنی تھی کہ ہر ملنے والا اپنے آپ کو ان کا خاص دوست سمجھتا تھا
ملک صابر عطاء تھہیم کچھ عرصہ سے میاں اقبال دانش کے اعزاز میں ایک شام کے منانے کا پروگرام ترتیب دینے کے بارے مجھ سے مشاورت کر رہے تھے مگر شائد قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا
ان کی وفات پر اہلِ علاقہ، ادبی و صحافتی شخصیات اور سماجی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ سب کا کہنا ہے کہ میاں اقبال دانش ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جو قلم کو امانت سمجھتے، ادب کو زندگی کی روح مانتے اور خدمت کو عبادت سمجھتے تھے
میاں اقبال دانش کا بیٹا سلطان دانش اب میاں صاحب کا جانشیں بن کر انکی روایات کو امید ہے اچھے انداز میں آگے بڑھائیں گے
اللہ سبحانہ وتعالی میاں اقبال دانش کو اپنی جوارِ رحمت جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین و احباب کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

ان کی یاد میں یہ تعزیتی شعر ان کے چاہنے والوں کے دل کی آواز ہے
یادیں تری جگا کے دلوں میں چراغ ہیں
تو جا چکا ہے پھر بھی ہمارے ساتھ ہے

Post Views: 45
Tags: column by umer shakir
Previous Post

لاہور ۔سٹیٹ بینک نے جشنِ معرکۂ حق کے موقع پر 75 روپے کے یادگاری سکّے کا اجرا کر دیا۔

Next Post

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیرِ صدارت کپاس کی نگہداشت بارے صوبائی کمیٹی کا اجلاس

Next Post
سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیرِ صدارت کپاس کی نگہداشت بارے  صوبائی کمیٹی کا اجلاس

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیرِ صدارت کپاس کی نگہداشت بارے صوبائی کمیٹی کا اجلاس

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026

چلے گئے وہ روشنی بکھیرنے والے چراغ
اب اندھیروں میں ڈھونڈتے ہیں ہم ان کے سراغ

ضلع لیہ کے علاقے دھوری اڈہ دانش چوک کی فضائیں یکم اگست 2025 بروز جمعہ مبارک کے روز ایک ایسے شخص کے بچھڑنے پر سوگوار ہو گئیں جس نے اپنی زندگی ادب، صحافت اور سماجی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ شاعر، صحافی اور سماجی رہنما میاں اقبال دانش بروز جمعہ المبارک خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی رخصت نے جہاں اہلِ خانہ کو غمزدہ کیا وہیں ادبی و صحافتی حلقے بھی اس نقصان کو ناقابلِ تلافی قرار دے رہے ہیں۔
میاں اقبال دانش 4 جنوری 1962 کو ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی گزارنے کے بعد وہ دھوری اڈہ، ضلع لیہ میں آ کر بس گئے۔ یہی خطہ ان کی عملی زندگی کا مرکز بنا اور یہیں انہوں نے ادب، صحافت اور سماجی خدمات کے وہ نقوش چھوڑے جو مدتوں یاد رکھے جائیں گے۔
ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ادب سے محبت تھا۔ انہیں پنجابی زبان و ادب سے خاص لگاؤ تھا۔ وہ دھرتی کی خوشبو اور عوامی جذبات کو اپنے اشعار میں سمو دیتے تھے۔ ان کی شاعری کا مجموعہ "دھوری نامہ" آج بھی اس خطے کی ثقافت اور جذبات کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں سادگی کے ساتھ دلوں کو چھو لینے والی گہرائی پائی جاتی تھی۔
صحافت کے میدان میں بھی میاں اقبال دانش نے اپنے نقوش چھوڑے۔ وہ چوک اعظم کے پریس کلب میں انجمنِ صحافیاں کے صدر رہے۔ ان کے دور صدارت میں کئی قومی اور صوبائی سطح کی شخصیات پریس کلب کے پروگرامز میں شریک ہوئیں۔ ان کی قیادت میں صحافت کو ایک نئی جہت ملی اور مقامی صحافیوں کو اپنی شناخت قائم کرنے کا حوصلہ ملا۔ وہ مختلف قومی و علاقائی اخبارات سے وابستہ رہے اور ان کے مضامین و کالمز شائع ہوتے رہے۔ یہی نہیں بلکہ صحافت اور سماجی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف تقریبات میں اعزازات اور شیلڈز سے بھی نوازا گیا۔
میاں اقبال دانش کی سرگرمیاں صرف ادب و صحافت تک محدود نہ تھیں۔ وہ دھوری اڈہ کی انجمن تاجران میں بھی متحرک کردار ادا کرتے رہے۔ تاجروں کے مسائل کو اجاگر کرنا، ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اور اتحاد و بھائی چارے کو فروغ دینا ان کے کارناموں میں شامل تھا۔ وہ ہمیشہ عوامی فلاح کے لیے کوشاں رہتے اور دھوری اڈہ کے مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرتے۔
ان کی ذاتی زندگی میں ایک اور پہلو بھی نمایاں تھا اور وہ ان کی خوش اخلاقی تھی۔ ان کی ہنس مکھ طبیعت نے انہیں دوستوں کے درمیان بے حد مقبول بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص یہ محسوس کرتا کہ میاں صاحب کا سب سے قریبی تعلق اسی سے ہے۔ ان کے گہرے تعلقات رکھنے والوں میں محمد بوٹا شاکر، ملک شہزاد افق تھہیم راقم محمد عمر شاکر غلام عباس سندھو، طارق نفیس، ملک صابر عطاء تھہیم مرزا رضوان بیگ محمد ارشد سفیر جیسے مخلص دوست شامل تھے۔ مگر دراصل ان کی محبت اور خلوص کی وسعت اتنی تھی کہ ہر ملنے والا اپنے آپ کو ان کا خاص دوست سمجھتا تھا
ملک صابر عطاء تھہیم کچھ عرصہ سے میاں اقبال دانش کے اعزاز میں ایک شام کے منانے کا پروگرام ترتیب دینے کے بارے مجھ سے مشاورت کر رہے تھے مگر شائد قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا
ان کی وفات پر اہلِ علاقہ، ادبی و صحافتی شخصیات اور سماجی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ سب کا کہنا ہے کہ میاں اقبال دانش ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جو قلم کو امانت سمجھتے، ادب کو زندگی کی روح مانتے اور خدمت کو عبادت سمجھتے تھے
میاں اقبال دانش کا بیٹا سلطان دانش اب میاں صاحب کا جانشیں بن کر انکی روایات کو امید ہے اچھے انداز میں آگے بڑھائیں گے
اللہ سبحانہ وتعالی میاں اقبال دانش کو اپنی جوارِ رحمت جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین و احباب کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

ان کی یاد میں یہ تعزیتی شعر ان کے چاہنے والوں کے دل کی آواز ہے
یادیں تری جگا کے دلوں میں چراغ ہیں
تو جا چکا ہے پھر بھی ہمارے ساتھ ہے

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.