• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

ڈر … تحریر ;- مہر کامران تھند

webmaster by webmaster
ستمبر 14, 2020
in کالم
0
غوطہ کھاتا کسان . تحریر : مہر کامران تھند لیہ

انسان ، حیوان ، چرند ، پرند بمعہ حشرات الارض اور مخلوق خدا جتنی بھی اللہ تعالی نے بنائی ہے ہمہ وقت گھبراہٹ میں رہتی ہے کیونکہ انکے اندر کا ڈر اسے دوسرا قدم اٹھانے یا نہ اٹھانے پر مجبور کررہا ہوتا ہے ، بچپن , جوانی اور حتی کہ بڑھاپے میں بھی ایک ڈر موجود ہوتا ہے ، بچپن میں والدہ کے سامنے بیانگ دہل اور والد کے سامنے بھیگی بلی کی طرح چیز کی فرمائش ، سکول جاتے ہوئے اساتذہ کا ڈر ، سکول وقت پر نہ پہنچنے پر اسمبلی ٹیچر کا ڈر کہیں نہ کہیں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ہوم ورک ، کاپی پراضافی لکیریں ، تختی کی سیاہی ، قلم ، سلیٹ سکہ کی غیر موجودگی ایک ڈر کا ماحول پیدا کئیے رکھتا ، امتحان میں سوالوں کے جوابات نہ آنے کا ڈر ، نتائج میں پاس فیل ہونے کا ڈر ، شعور سے پہلے بڑوں کا ڈر شعور کے بعد اپنے سفید دامن کا ڈر ، یہ ڈر ہی ہے جو انسان کو حیوان بنا دیتا ہے اور حیوانوں کو قابو کرنے کا گر سکھا دیتا ہے ، ماں کو گھر سے نکلتے بچے کی واپسی تک ڈر ، بازار جاتے شوہر کا بیوی کو ڈر ، سڑک حادثے کا ڈر ، راستے میں خونخوار درندوں کا ڈر ، اندھی گولی کا ڈر ، کھیلتے بچے کے ساتھ سلوک کا ڈر ، دو سال سے ستر سال کی خاتون کی عزت لٹ جانے کا ڈر ، بینک سے رقم نکلواتے کھو جانے کا ڈر ، پڑھے لکھے نوجوان کو نوکری تلاش کرنے کا ڈر ، ملازم کو نوکری چھٹ جانے کا ڈر ، مزدور کو مزدوری نہ ملنے کا ڈر ، بھوکے کو شام کی روٹی کا ڈر تھکا دیتا ہے ، دیوار پر بیٹھا کوا کو آپ ہاتھ کا اشارہ ہی کردیں وہ ڈر جاتا ہے کہ شاید یہ گلیل کا بنٹہ ہے یا بندوق کی گولی ۔چند سال قبل لاہور میں ماڈل ٹاون کا سانحہ اس بات کا ڈر پیدا کرگیا کہ آپ ریاست کے حکمرانوں کے خلاف آواز بلند نہیں کرسکتے ، سانحہ ساہیوال کا واقعہ خاندان و بچوں کے ہمراہ قانون نافظ کرنے والے اداروں کا ڈر پیدا کرگیا کہ کہیں آپکو چوراہے راستے پر دہشت گرد قرار دے کر بھی مارا جاسکتا ہے اور آپکے بچوں کو سڑک کنارے بے یارومددگار چھوڑا جاسکتا ہے ، اسی طرح موٹروے پر رات کے تین بجے اکیلی خاتون کو بچوں کے سامنے جسمانی و غیراخلاقی تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے وہاں بھی ایک ڈر تھا جوکہ بچوں کا ڈر تھا ۔ ساری زندگی آپ انہی ڈر و خوف کو محسوس کرتے زندگی گزار دیتے ہیں لیکن یہی ڈر جب اندر سے باہر نکلتا ہے تو ایک انسان تخت سے ٹکرا جاتا ہے ، ظلم کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے ، نتائج کی پرواہ نہیں کرتا کہ کیا ہوگا لیکن وہ کامیاب ضرور ہوجاتا ہے ، یہی ڈر تخت پر بیٹھے یزید کو تھا کہ حسینؑ کی بعیت لی جائے ورنہ یہ تخت وشاہی کسی کام کی نہیں ، یہی ڈر فرعون کو تھا کہ اس نے پیدا ہونے والے ہر بچہ کو مار دینے کا حکم دیا ، مغل شہزادے کو ایک ڈر تھا کہ والد کو تخت سے الگ کرکے بند کوٹھڑی میں ڈال دیا ، بادشاہی چھن جانے کا ڈر پیدا ہوا تو داوود پوترے سندھ سے سیت پور، دائرہ دین پناہ ، لیہ ، کوٹ کروڑ ، بہل سے کلورکوٹ تک جا پہنچے اور حکومت قائم کرلی ، وہی ڈر تھا کہ سیت پور کا بادشاہ آگے بھاگتا رہا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں پکڑا گیا ۔ ایک شریف شہری جس نے پوری زندگی والدین کی عزت و تکریم کے ڈر سے سفید کپڑوں کی طرح گزار دی کہ اس پر داغ نہ لگے لیکن ایسے میں ایک بے نامی داغ لگانے کوئی آ کھڑا ہو جس کو اپنے والدین کا علم نہ ہو کہ انکی تکیریم و عزت کیا تھا تو ایسے میں ڈر پیدا ہوجاتا ہے اور اسی ڈر کی وجہ سے جھکنا پڑتا ہے ۔ یہ ڈر متبادل کی چاہت میں تبدیل ہوسکتا ہے اور وہ چاہت ، مالی ، معاشی و جسمانی ہو۔ جب ڈر اندر سے ختم ہوجائے تو سامنے آنے والی ہر بلا سے ٹکرا سکتے ہیں ، ڈر ختم ہوا تو تین سو تیرا سپاہی ایک ہزار کے سامنے ٹکرا رہا تھا ، کربلا کے بہتر سپاہی ایک لاکھ فوج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ ہوئے ۔بے خوف تنہا نوجوان بھی کئی افراد کو ڈرا رہا ہوتا ہے۔ جس کے اندر کا ڈر ختم۔ہوچکا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags: column by kamran thind
Previous Post

ملتان . موٹروے واقعہ میں ملوث ملزم کی گرفتاری کیلئے سی ٹی ڈی ملتان بھی متحرک

Next Post

شیخ زید ہسپتال کے 9 ڈاکٹرز کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

Next Post
شیخ زید ہسپتال کے 9 ڈاکٹرز کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

شیخ زید ہسپتال کے 9 ڈاکٹرز کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
انسان ، حیوان ، چرند ، پرند بمعہ حشرات الارض اور مخلوق خدا جتنی بھی اللہ تعالی نے بنائی ہے ہمہ وقت گھبراہٹ میں رہتی ہے کیونکہ انکے اندر کا ڈر اسے دوسرا قدم اٹھانے یا نہ اٹھانے پر مجبور کررہا ہوتا ہے ، بچپن , جوانی اور حتی کہ بڑھاپے میں بھی ایک ڈر موجود ہوتا ہے ، بچپن میں والدہ کے سامنے بیانگ دہل اور والد کے سامنے بھیگی بلی کی طرح چیز کی فرمائش ، سکول جاتے ہوئے اساتذہ کا ڈر ، سکول وقت پر نہ پہنچنے پر اسمبلی ٹیچر کا ڈر کہیں نہ کہیں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ہوم ورک ، کاپی پراضافی لکیریں ، تختی کی سیاہی ، قلم ، سلیٹ سکہ کی غیر موجودگی ایک ڈر کا ماحول پیدا کئیے رکھتا ، امتحان میں سوالوں کے جوابات نہ آنے کا ڈر ، نتائج میں پاس فیل ہونے کا ڈر ، شعور سے پہلے بڑوں کا ڈر شعور کے بعد اپنے سفید دامن کا ڈر ، یہ ڈر ہی ہے جو انسان کو حیوان بنا دیتا ہے اور حیوانوں کو قابو کرنے کا گر سکھا دیتا ہے ، ماں کو گھر سے نکلتے بچے کی واپسی تک ڈر ، بازار جاتے شوہر کا بیوی کو ڈر ، سڑک حادثے کا ڈر ، راستے میں خونخوار درندوں کا ڈر ، اندھی گولی کا ڈر ، کھیلتے بچے کے ساتھ سلوک کا ڈر ، دو سال سے ستر سال کی خاتون کی عزت لٹ جانے کا ڈر ، بینک سے رقم نکلواتے کھو جانے کا ڈر ، پڑھے لکھے نوجوان کو نوکری تلاش کرنے کا ڈر ، ملازم کو نوکری چھٹ جانے کا ڈر ، مزدور کو مزدوری نہ ملنے کا ڈر ، بھوکے کو شام کی روٹی کا ڈر تھکا دیتا ہے ، دیوار پر بیٹھا کوا کو آپ ہاتھ کا اشارہ ہی کردیں وہ ڈر جاتا ہے کہ شاید یہ گلیل کا بنٹہ ہے یا بندوق کی گولی ۔چند سال قبل لاہور میں ماڈل ٹاون کا سانحہ اس بات کا ڈر پیدا کرگیا کہ آپ ریاست کے حکمرانوں کے خلاف آواز بلند نہیں کرسکتے ، سانحہ ساہیوال کا واقعہ خاندان و بچوں کے ہمراہ قانون نافظ کرنے والے اداروں کا ڈر پیدا کرگیا کہ کہیں آپکو چوراہے راستے پر دہشت گرد قرار دے کر بھی مارا جاسکتا ہے اور آپکے بچوں کو سڑک کنارے بے یارومددگار چھوڑا جاسکتا ہے ، اسی طرح موٹروے پر رات کے تین بجے اکیلی خاتون کو بچوں کے سامنے جسمانی و غیراخلاقی تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے وہاں بھی ایک ڈر تھا جوکہ بچوں کا ڈر تھا ۔ ساری زندگی آپ انہی ڈر و خوف کو محسوس کرتے زندگی گزار دیتے ہیں لیکن یہی ڈر جب اندر سے باہر نکلتا ہے تو ایک انسان تخت سے ٹکرا جاتا ہے ، ظلم کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے ، نتائج کی پرواہ نہیں کرتا کہ کیا ہوگا لیکن وہ کامیاب ضرور ہوجاتا ہے ، یہی ڈر تخت پر بیٹھے یزید کو تھا کہ حسینؑ کی بعیت لی جائے ورنہ یہ تخت وشاہی کسی کام کی نہیں ، یہی ڈر فرعون کو تھا کہ اس نے پیدا ہونے والے ہر بچہ کو مار دینے کا حکم دیا ، مغل شہزادے کو ایک ڈر تھا کہ والد کو تخت سے الگ کرکے بند کوٹھڑی میں ڈال دیا ، بادشاہی چھن جانے کا ڈر پیدا ہوا تو داوود پوترے سندھ سے سیت پور، دائرہ دین پناہ ، لیہ ، کوٹ کروڑ ، بہل سے کلورکوٹ تک جا پہنچے اور حکومت قائم کرلی ، وہی ڈر تھا کہ سیت پور کا بادشاہ آگے بھاگتا رہا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں پکڑا گیا ۔ ایک شریف شہری جس نے پوری زندگی والدین کی عزت و تکریم کے ڈر سے سفید کپڑوں کی طرح گزار دی کہ اس پر داغ نہ لگے لیکن ایسے میں ایک بے نامی داغ لگانے کوئی آ کھڑا ہو جس کو اپنے والدین کا علم نہ ہو کہ انکی تکیریم و عزت کیا تھا تو ایسے میں ڈر پیدا ہوجاتا ہے اور اسی ڈر کی وجہ سے جھکنا پڑتا ہے ۔ یہ ڈر متبادل کی چاہت میں تبدیل ہوسکتا ہے اور وہ چاہت ، مالی ، معاشی و جسمانی ہو۔ جب ڈر اندر سے ختم ہوجائے تو سامنے آنے والی ہر بلا سے ٹکرا سکتے ہیں ، ڈر ختم ہوا تو تین سو تیرا سپاہی ایک ہزار کے سامنے ٹکرا رہا تھا ، کربلا کے بہتر سپاہی ایک لاکھ فوج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ ہوئے ۔بے خوف تنہا نوجوان بھی کئی افراد کو ڈرا رہا ہوتا ہے۔ جس کے اندر کا ڈر ختم۔ہوچکا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.