• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کرونا وائرس اور میڈیا کا کردار .. تحریر : ابوذر علی

webmaster by webmaster
جون 14, 2020
in کالم
0
کرونا وائرس اور ہم پاکستانی ..  تحریر ابوذر علی
کرونا وائرس خوفناک حد تک صرف انہی لوگوں کو خوفزدہ کر سکتا ہے جنہیں یا تو میڈیکل سے ذرا بھی لگاؤ نہیں یا وہ احتیاط کرنے میں  بھی احتیاط کرتے ہیں,
لگاؤ ہونے کے باوجود میری وابستگی کم ہی رہی ہے, اللہ بھلا کرے میری چند میل فیمل ڈاکٹر دوست ہیں جن سے معلومات لیتا رہتا ہوں,میں نے کرونا کے حوالے سے جتنا پڑھا اور سمجھا ہے وہ تمام باتیں  قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
پہلی بات جو میں نے سمجھی ہے ہمارا الیکٹرانک میڈیا حسب روایت کرونا کے حوالے سے شدید قسم کی سنسنی پھیلا رہا ہے ۔ میڈیا جس طرح غیر ذمہ داری سے کرونا وائرس کا نفسیاتی خوف صبح شام ہمارے ذہنوں میں بٹھا رہا ہے اسکا ہماری صحت اور نفسیات پر برا اثر پڑ رہاہے۔ میڈیا ہمارے کانوں میں کرونا موت ہے  کا راگ الاپ رہا ہے  اس کے ڈائریکٹ یا اِن ڈائریکٹ اثرات ہر شخص پر کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں، گو کہ اس میں میڈیا کی بدنیتی شامل حال نہیں لیکن ایسے  پروگرامز کے منفی اثرات کو بھی دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔اب اس بات کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ میڈیا کی اگر اس میں بد نیتی شامل نہیں تو وہ بری الذمہ ہے,میں سمجھتا ہوں میڈیا اگر ہر وقت خوف کے سائے مسلط کرنے کی بجائے حوصلہ افزاء اور اس مرض کے حوالے سے مثبت پروگرامز کو  ترجیح دیتا تو آج معاشرے میں خوف کے چھائے بادل چھٹ جاتے اور ہر پاکستانی, ڈاکٹرز کی ہدایات کےمطابق دلیری سے اسکا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہتا۔
اب بھی وقت ہے میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کر سکتا ماہرین اور ماہر نفسیات کی مدد حاصل کر کے قوم کو اس نفسیاتی خوف سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ اب تو میڈیا کے ہر وقت کرونا کے  راگ الاپنے سے معمولی نزلہ زکام سے لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔
میڈیا کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر بھی ہمیں اپنی ذمہ داری کا ثبوت بھی دینا ہوگا اگر ہم کچھ دن کیلئے بری خبروں سے مثلا یہ مر گیا وہ مر گیا اسے شوگر تھی کرونا تھا  مر گیا جیسی بری خبروں سے اجتناب کر لیں تو بہتر ہوگا کیونکہ ہر وقت منفی خبروں سے دوسرے انسانوں کا ایمیون سسٹم خراب ہوتا ہے جو دل کے کمزور ہوتے ہیں۔ ایسی سنسنی نہ پھیلائیں تو میرا خیال ہمارا کوئی نقصان نہیں ہو جائیگا بلکہ انسانیت کا بھلا ہوگا۔
  ان حالات سے میں نے جو بات سمجھی وہ یہ ہے کہ کوئی سادھو, پیر ,پنڈت اور پادری اللہ کے ان مسیحاؤں سے آگے نہیں بڑھ سکتے جو سفید کوٹ پہن کر اسکی عطا کی ہوئی عقل کو سائنسی لیبارٹری میں استعمال کرتے ہیں.
کسی دھوکے میں مت آئیے گا نہ کوئی پیر پھونک سے علاج کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی پنڈت گاؤ موتر سے ……
اب سمجھنے والی بات سمجھتے ہیں وائرس اور بیکٹریا میں کیافرق ہوتا ہے بکٹیریا خطرناک اس لیے ہوتا ہے کیونکہ یہ ہوسٹ کے بغیر بھی بڑھتا رہتا ہے, لیکن جو وائرس ہوتا ہے وہ ایک تو فیملی کے ساتھ رہتا ہے الگ تھلگ نہیں رہتا دوسرا اسے بڑھنے کیلئے ہوسٹ چاہئے ہوتا ہے مطلب انسانی جسم (body)چاہئے ۔
اب کرونا وائرس  وہ ایک طرح سے باقی وائرسز کی بہ نسبت زیادہ پریشان کن نہیں ہے کیونکہ اسکا حجم زیادہ ہے مطلب وزنی ہے تو یہ ہوا میں تیرتا نہیں رہتا جیسے کہ یہ بات کئی ذمہ دار ڈاکٹرز بھی ہمیں بتا چکے ہیں,اب حجم زیادہ ہونے کا فائدہ کیا ہے؟
جب آپکو فلو یا کھانسی وغیرہ ہوتی ہے یا چھینک دیتے ہیں تو وہ وائرس ہوا سے دوسرے لوگوں کے سانس میں شامل ہو جاتا ہے اور انہیں متاثر کرتا ہے کیونکہ یہ ہوا میں تیرتا نہیں اب یہ بھی اللہ کا کرم ہے تو اسے ہر صورت ہوسٹ چاہیے اگر یہ کپڑوں یا زمین پر پڑا ہے تو چند گھنٹے ہی زندہ رہ سکتا ہے ۔
زیادہ نقصان آپکو اپنے ہاتھوں سے ہے لہذا اپنے ہاتھوں کو صاف رکھیئے ,ماسک کا استعمال کریں,گھر صاف رکھیں, باہر سے آئیں تو کپڑے بدل لیجئے,
ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ساری بات صرف قوت مدافعت کی ہے اگر انسان اچھی خوراک لے رہا ہو تو ہو سکتا ہے یہ آپکو محض ٹچ کر کہ واپس چلا جائے,احتیاط کیجئے بحثیت مسلمان ہمارا نصف ایمان  صفائی بھی ہے ۔
کرونا سے مرنے کی بڑی وجہ صرف خوف زدہ ہونا ہے ,اپنا ایمیون سسٹم مضبوط کریں کیونکہ ایمیونٹی کے کم ہوتے ہی وائرس جسم پر حاوی ہو جاتا ہے
اگر ایمیونٹی یعنی قوت مدافعت بڑھانی ہے تو روزہ مرہ کی غذا میں فروٹس,کچی سبزیاں,ادرک اور لیمن کا استعمال زیادہ کر دیں یقین کریں کرونا آپکا بال بیکا بھی  نہیں کر سکے گا۔
اگر صحت مند انسان بھی خوف زدہ ہو جائے تو وہ مر جائیگا ۔جیسا کہ پرانا مقولہ ہے کہ ڈر موت کا بھائی ہے۔
Tags: column by abuzar ali
Previous Post

لیہ ۔ پٹرول پمپس مالکان سرکاری نرخوں پرپٹرول کی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ڈپٹی کمشنر

Next Post

کروڑ لعل عیسن۔اولکھ تشدد کیس میں ایڈیشنل اینڈ شیشن جج کی عدالت سے بھی عبدالرحیم نیازی کی درخواست ضمانت خارج

Next Post
کروڑ لعل عیسن۔اولکھ تشدد کیس میں ایڈیشنل اینڈ شیشن جج  کی عدالت سے بھی عبدالرحیم نیازی کی درخواست ضمانت خارج

کروڑ لعل عیسن۔اولکھ تشدد کیس میں ایڈیشنل اینڈ شیشن جج کی عدالت سے بھی عبدالرحیم نیازی کی درخواست ضمانت خارج

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ
صبح پاکستان

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

by webmaster
اپریل 20, 2026
0

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...

Read moreDetails
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
ڈیرہ غازی خا  ن   ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ڈیرہ غازی خا ن ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

اپریل 11, 2026
ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

اپریل 10, 2026
پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

اپریل 10, 2026
کرونا وائرس خوفناک حد تک صرف انہی لوگوں کو خوفزدہ کر سکتا ہے جنہیں یا تو میڈیکل سے ذرا بھی لگاؤ نہیں یا وہ احتیاط کرنے میں  بھی احتیاط کرتے ہیں,
لگاؤ ہونے کے باوجود میری وابستگی کم ہی رہی ہے, اللہ بھلا کرے میری چند میل فیمل ڈاکٹر دوست ہیں جن سے معلومات لیتا رہتا ہوں,میں نے کرونا کے حوالے سے جتنا پڑھا اور سمجھا ہے وہ تمام باتیں  قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
پہلی بات جو میں نے سمجھی ہے ہمارا الیکٹرانک میڈیا حسب روایت کرونا کے حوالے سے شدید قسم کی سنسنی پھیلا رہا ہے ۔ میڈیا جس طرح غیر ذمہ داری سے کرونا وائرس کا نفسیاتی خوف صبح شام ہمارے ذہنوں میں بٹھا رہا ہے اسکا ہماری صحت اور نفسیات پر برا اثر پڑ رہاہے۔ میڈیا ہمارے کانوں میں کرونا موت ہے  کا راگ الاپ رہا ہے  اس کے ڈائریکٹ یا اِن ڈائریکٹ اثرات ہر شخص پر کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں، گو کہ اس میں میڈیا کی بدنیتی شامل حال نہیں لیکن ایسے  پروگرامز کے منفی اثرات کو بھی دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔اب اس بات کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ میڈیا کی اگر اس میں بد نیتی شامل نہیں تو وہ بری الذمہ ہے,میں سمجھتا ہوں میڈیا اگر ہر وقت خوف کے سائے مسلط کرنے کی بجائے حوصلہ افزاء اور اس مرض کے حوالے سے مثبت پروگرامز کو  ترجیح دیتا تو آج معاشرے میں خوف کے چھائے بادل چھٹ جاتے اور ہر پاکستانی, ڈاکٹرز کی ہدایات کےمطابق دلیری سے اسکا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہتا۔
اب بھی وقت ہے میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کر سکتا ماہرین اور ماہر نفسیات کی مدد حاصل کر کے قوم کو اس نفسیاتی خوف سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ اب تو میڈیا کے ہر وقت کرونا کے  راگ الاپنے سے معمولی نزلہ زکام سے لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔
میڈیا کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر بھی ہمیں اپنی ذمہ داری کا ثبوت بھی دینا ہوگا اگر ہم کچھ دن کیلئے بری خبروں سے مثلا یہ مر گیا وہ مر گیا اسے شوگر تھی کرونا تھا  مر گیا جیسی بری خبروں سے اجتناب کر لیں تو بہتر ہوگا کیونکہ ہر وقت منفی خبروں سے دوسرے انسانوں کا ایمیون سسٹم خراب ہوتا ہے جو دل کے کمزور ہوتے ہیں۔ ایسی سنسنی نہ پھیلائیں تو میرا خیال ہمارا کوئی نقصان نہیں ہو جائیگا بلکہ انسانیت کا بھلا ہوگا۔
  ان حالات سے میں نے جو بات سمجھی وہ یہ ہے کہ کوئی سادھو, پیر ,پنڈت اور پادری اللہ کے ان مسیحاؤں سے آگے نہیں بڑھ سکتے جو سفید کوٹ پہن کر اسکی عطا کی ہوئی عقل کو سائنسی لیبارٹری میں استعمال کرتے ہیں.
کسی دھوکے میں مت آئیے گا نہ کوئی پیر پھونک سے علاج کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی پنڈت گاؤ موتر سے ......
اب سمجھنے والی بات سمجھتے ہیں وائرس اور بیکٹریا میں کیافرق ہوتا ہے بکٹیریا خطرناک اس لیے ہوتا ہے کیونکہ یہ ہوسٹ کے بغیر بھی بڑھتا رہتا ہے, لیکن جو وائرس ہوتا ہے وہ ایک تو فیملی کے ساتھ رہتا ہے الگ تھلگ نہیں رہتا دوسرا اسے بڑھنے کیلئے ہوسٹ چاہئے ہوتا ہے مطلب انسانی جسم (body)چاہئے ۔
اب کرونا وائرس  وہ ایک طرح سے باقی وائرسز کی بہ نسبت زیادہ پریشان کن نہیں ہے کیونکہ اسکا حجم زیادہ ہے مطلب وزنی ہے تو یہ ہوا میں تیرتا نہیں رہتا جیسے کہ یہ بات کئی ذمہ دار ڈاکٹرز بھی ہمیں بتا چکے ہیں,اب حجم زیادہ ہونے کا فائدہ کیا ہے؟
جب آپکو فلو یا کھانسی وغیرہ ہوتی ہے یا چھینک دیتے ہیں تو وہ وائرس ہوا سے دوسرے لوگوں کے سانس میں شامل ہو جاتا ہے اور انہیں متاثر کرتا ہے کیونکہ یہ ہوا میں تیرتا نہیں اب یہ بھی اللہ کا کرم ہے تو اسے ہر صورت ہوسٹ چاہیے اگر یہ کپڑوں یا زمین پر پڑا ہے تو چند گھنٹے ہی زندہ رہ سکتا ہے ۔
زیادہ نقصان آپکو اپنے ہاتھوں سے ہے لہذا اپنے ہاتھوں کو صاف رکھیئے ,ماسک کا استعمال کریں,گھر صاف رکھیں, باہر سے آئیں تو کپڑے بدل لیجئے,
ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ساری بات صرف قوت مدافعت کی ہے اگر انسان اچھی خوراک لے رہا ہو تو ہو سکتا ہے یہ آپکو محض ٹچ کر کہ واپس چلا جائے,احتیاط کیجئے بحثیت مسلمان ہمارا نصف ایمان  صفائی بھی ہے ۔
کرونا سے مرنے کی بڑی وجہ صرف خوف زدہ ہونا ہے ,اپنا ایمیون سسٹم مضبوط کریں کیونکہ ایمیونٹی کے کم ہوتے ہی وائرس جسم پر حاوی ہو جاتا ہے
اگر ایمیونٹی یعنی قوت مدافعت بڑھانی ہے تو روزہ مرہ کی غذا میں فروٹس,کچی سبزیاں,ادرک اور لیمن کا استعمال زیادہ کر دیں یقین کریں کرونا آپکا بال بیکا بھی  نہیں کر سکے گا۔
اگر صحت مند انسان بھی خوف زدہ ہو جائے تو وہ مر جائیگا ۔جیسا کہ پرانا مقولہ ہے کہ ڈر موت کا بھائی ہے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.