• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

تاجروں کی دو روزہ ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری

webmaster by webmaster
اکتوبر 30, 2019
in First Page, لاہور
0
تاجروں کی دو روزہ ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری

لاہور ۔ پاکستان بھر کے بڑے شہروں میں تاجروں کی بڑی تعداد حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دو روزہ شٹر ڈاون ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔

تاجر برادری کا یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب وزیراعظم عمران خان کے استعفے کے لیے شروع کیا جانے والا اپوزیشن کا احتجاجی مارچ نواز شریف کے شہر لاہور پہنچا ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان سمیت تاجروں کی چھوٹی بڑی متعدد تنظیموں کی اپیل پر پشاور، لاہور ، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں کاروباری مراکز اور تجارتی منڈیوں کی بڑی تعداد میں کام بند ہے۔ راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالہ اور سرگودھا سمیت ملک کے مختلف حصوں سے بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ادھر لاہور کی تمام بڑی مارکیٹوں میں بھی شٹر ڈاون ہڑتال جاری ہے۔ اکبری منڈی، سرکلر روڈ، بانساں والا بازار، شاہ عالم مارکیٹ، بیڈن روڈ، ہال روڈ، فیروز پور روڈ، آٹو مارکیٹ ، اعظم مارکیٹ، ، انارکلی، لنڈا بازار، حفیظ سنٹر، ماربل مارکیٹ، لوہا مارکیٹ اور اچھرہ بازار سمیت شہر کی بیشتر بڑی مارکیٹیں بند ہیں۔ بعض مارکیٹوں میں اکا دکا دوکانیں کھلی ہیں جبکہ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ہڑتال نہیں کی گئی۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما نعیم میر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ملک کے تمام چھوٹے بڑےشہروں میں ہڑتال کامیاب رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری ٹیکس دینے کو تیار ہے لیکن سامان کی خرید و فروخت پر شناختی کارڈ کی پابندی قبول نہیں اور فکسڈ ٹیکس کا معاملہ بھی تاجروں کی مشاورت سے حل کیا جائے، ”اگر ہمارے مطالبات اڑتالیس گھنٹوں میں نہ مانے گئے تو پھر ہم تاجر برادری کی مشاورت سے مزید سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے۔‘‘

انجمن تاجران لاہور کے جوائنٹ سیکریٹری میاں محمد سلیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ”حکومت کی معاشی ٹیم ناتجربہ کار ہے، جن کی پالیسیوں کی وجہ سے آج حکومت اور تاجر برادری آمنے سامنے ہے، معاشی ٹیم اور چئیرمین ایف بی آر حالات کی سنگینی کو سمجھیں اور ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے تاجر برادری کو اعتماد میں لیں۔‘‘

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے تاجروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد حفیظ شیخ نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت ملک میں تین لاکھ بانوے ہزار ٹریڈرز ٹیکس دے رہے ہیں اور حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ٹیکس دینے والے تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں، ان کے مسائل حل کئے جائیں۔ ان کے مطابق دوسری طرف ملک میں تیس پینتیس لاکھ ٹریڈرز ایسے ہیں جو ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ ان تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کاروباری برادری کے رہنما اور ایوان صنعت و تجارت لاہورکے سابق صدر میاں شفقت علی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اس مسئلے کو حکمت کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے فیڈرل بورڈ آف ریوینو کو تاجر برادری کو فیس سیونگ دیتے ہوئے کوئی درمیانی راہ نکالنی چاہیے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا سب سے بڑا چیمبر، لاہور چیمبر آف کامرس اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پچیس ہزار اراکین والے اس چیمبر میں تاجروں اور صنعتکاروں دونوں کی نمائندگی موجود ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میاں شفقت کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی لاہور چیمبر ایسے مسائل کا حل نکال کر حکومتی ریونیو ٹارگٹ پورا کرنے میں مدد دے چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ بات درست نہیں ہے کہ تاجر ٹیکس نہیں دیتے، ” چودہ کروڑ لوگ تو بغیر ٹیکس دیے سو روپے کا کارڈ بھی لوڈ نہیں کر سکتے، ایف بی آر ترانوے فیصد ٹیکس تو براہ راست ان ڈائریکٹ طریقے سے لے لیتا ہے، صرف سات فی صد ٹیکس ایف بی آر کی مشینری اکٹھا کرتی ہے اور اس مشینری پر اٹھنے والے اخراجات بھی سترہ فی صد کے قریب ہیں۔‘‘

میاں شفقت کہتے ہیں کہ ٹیکس جمع کرنے کے لیے ٹیکس لینے اور ٹیکس دینے والوں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، ”ایک ایسا ماحول جہاں دوکاندار کی سیل بیس فی صد رہ جائے، تاجر اپنی دوکانیں بیچنے پر مجبور ہو جائیں، ہونڈا اور ٹویوٹا جیسی کمپنیاں بھی اپنی پروڈکشن کم کرنے پر مجبور ہو رہی ہوں تو ٹیکس ٹارگٹ کیسے پورے کیے جا سکتے ہیں؟‘

Source: اصل میڈیا
Tags: National News
Previous Post

آزادی مارچ مولانا فضل الرحمنٰ کی قیادت میں پنجاب میں داخل ہو گیا

Next Post

انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے پاکستان کیخلاف بھارتی درخواست مستردکردی

Next Post
انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے پاکستان کیخلاف بھارتی درخواست مستردکردی

انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے پاکستان کیخلاف بھارتی درخواست مستردکردی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
لاہور ۔ پاکستان بھر کے بڑے شہروں میں تاجروں کی بڑی تعداد حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دو روزہ شٹر ڈاون ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاجر برادری کا یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب وزیراعظم عمران خان کے استعفے کے لیے شروع کیا جانے والا اپوزیشن کا احتجاجی مارچ نواز شریف کے شہر لاہور پہنچا ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان سمیت تاجروں کی چھوٹی بڑی متعدد تنظیموں کی اپیل پر پشاور، لاہور ، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں کاروباری مراکز اور تجارتی منڈیوں کی بڑی تعداد میں کام بند ہے۔ راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالہ اور سرگودھا سمیت ملک کے مختلف حصوں سے بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ادھر لاہور کی تمام بڑی مارکیٹوں میں بھی شٹر ڈاون ہڑتال جاری ہے۔ اکبری منڈی، سرکلر روڈ، بانساں والا بازار، شاہ عالم مارکیٹ، بیڈن روڈ، ہال روڈ، فیروز پور روڈ، آٹو مارکیٹ ، اعظم مارکیٹ، ، انارکلی، لنڈا بازار، حفیظ سنٹر، ماربل مارکیٹ، لوہا مارکیٹ اور اچھرہ بازار سمیت شہر کی بیشتر بڑی مارکیٹیں بند ہیں۔ بعض مارکیٹوں میں اکا دکا دوکانیں کھلی ہیں جبکہ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ہڑتال نہیں کی گئی۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما نعیم میر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ملک کے تمام چھوٹے بڑےشہروں میں ہڑتال کامیاب رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری ٹیکس دینے کو تیار ہے لیکن سامان کی خرید و فروخت پر شناختی کارڈ کی پابندی قبول نہیں اور فکسڈ ٹیکس کا معاملہ بھی تاجروں کی مشاورت سے حل کیا جائے، ”اگر ہمارے مطالبات اڑتالیس گھنٹوں میں نہ مانے گئے تو پھر ہم تاجر برادری کی مشاورت سے مزید سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے۔‘‘ انجمن تاجران لاہور کے جوائنٹ سیکریٹری میاں محمد سلیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ”حکومت کی معاشی ٹیم ناتجربہ کار ہے، جن کی پالیسیوں کی وجہ سے آج حکومت اور تاجر برادری آمنے سامنے ہے، معاشی ٹیم اور چئیرمین ایف بی آر حالات کی سنگینی کو سمجھیں اور ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے تاجر برادری کو اعتماد میں لیں۔‘‘ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے تاجروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد حفیظ شیخ نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت ملک میں تین لاکھ بانوے ہزار ٹریڈرز ٹیکس دے رہے ہیں اور حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ٹیکس دینے والے تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں، ان کے مسائل حل کئے جائیں۔ ان کے مطابق دوسری طرف ملک میں تیس پینتیس لاکھ ٹریڈرز ایسے ہیں جو ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ ان تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کاروباری برادری کے رہنما اور ایوان صنعت و تجارت لاہورکے سابق صدر میاں شفقت علی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اس مسئلے کو حکمت کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے فیڈرل بورڈ آف ریوینو کو تاجر برادری کو فیس سیونگ دیتے ہوئے کوئی درمیانی راہ نکالنی چاہیے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا سب سے بڑا چیمبر، لاہور چیمبر آف کامرس اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پچیس ہزار اراکین والے اس چیمبر میں تاجروں اور صنعتکاروں دونوں کی نمائندگی موجود ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں شفقت کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی لاہور چیمبر ایسے مسائل کا حل نکال کر حکومتی ریونیو ٹارگٹ پورا کرنے میں مدد دے چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ بات درست نہیں ہے کہ تاجر ٹیکس نہیں دیتے، ” چودہ کروڑ لوگ تو بغیر ٹیکس دیے سو روپے کا کارڈ بھی لوڈ نہیں کر سکتے، ایف بی آر ترانوے فیصد ٹیکس تو براہ راست ان ڈائریکٹ طریقے سے لے لیتا ہے، صرف سات فی صد ٹیکس ایف بی آر کی مشینری اکٹھا کرتی ہے اور اس مشینری پر اٹھنے والے اخراجات بھی سترہ فی صد کے قریب ہیں۔‘‘ میاں شفقت کہتے ہیں کہ ٹیکس جمع کرنے کے لیے ٹیکس لینے اور ٹیکس دینے والوں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، ”ایک ایسا ماحول جہاں دوکاندار کی سیل بیس فی صد رہ جائے، تاجر اپنی دوکانیں بیچنے پر مجبور ہو جائیں، ہونڈا اور ٹویوٹا جیسی کمپنیاں بھی اپنی پروڈکشن کم کرنے پر مجبور ہو رہی ہوں تو ٹیکس ٹارگٹ کیسے پورے کیے جا سکتے ہیں؟‘
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.