• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

ڈی آئی جی پو لیس کی تقریر اور میرا موقف ۔ آغا امام رضا ایڈووکیٹ

webmaster by webmaster
ستمبر 23, 2019
in کالم
0
ڈی آئی جی پو لیس کی تقریر اور میرا موقف ۔ آغا امام رضا ایڈووکیٹ

پنجاب پولیس کا اعلی آفیسر اور گالیاں

:کل فیس بک پہ پنجاب پولیس کے ایک اعلی آفیسر کی گھن گھرج  تقریر سنی جسمیں وہ پولیس جوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فر مارھے تھے کہ”کسی نے سوشل میڈیا میں ھم پولیس والوں کے بارے میں منٹو کے افسانے کے کسی جملے میں ترمیم کرکے کہا ھے کہ:”جو طوائف اور ۔۔۔۔۔۔۔۔کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے اسے پولیس والا کہتے ہیں، اور انہوں نے طنزا فلمی انداز میں کہاکہ ہاں ھم حرامزادے ہیں کیونکہ ھم نے سینکڑوں کی تعداد میں ان لوگوں کیلیئے قربانی دی جو ھمیں گالیاں دیتے ہیں” (وغیرہ، وغیرہ)-گو اس بابت دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ کوئ کسی کوکیونکر گالیاں دے، اور اس بات کا بھی کسی کو حق نہیں کہ وہ گالی کے جواب میں دوسرے کوبھی گالی دے یعنی کہ جرم کے بدلے جرم  کہ جیسا پولیس آفیسر موصوف نے پولیس والوں کو اشتعال دیتے ہوئے کہا کہ وہ گالی کا جواب کیوں نہیں دیتے یعنی کہ وہ گالی کا جواب بھی گالی سے ہی دیں یا پھر مار پیٹ پہ اتر آئیں، جوکہ انکے عظیم الشان منصب کا ہر گز تقاضہ نہ تھا اور نہ ہی ھے بلکہ اسطرح تو  وہ اپنی سروس کے حوالے سے  شدید قسم کےمس کنڈکٹ کے مرتکب ٹہرے، گھر کے رکھوالے کو ھتیار ،کھانا اور سر چھپانے کو جگہ اس لیئے نہیں دی جاتی کہ وہ اپنے ہی محسن و مربی کو طعنہ ظنی اور دشنام طرازی کانشانہ بنائے؛ ھتیار کے زور پر اپنےہی مالک کی عزت وناموس سے کھیلے اور موقع پاکر اسکی جان تک لے لے، موصوف کا دوسرے لفظوں میں کہنا تھا کہ وہ اور انکے اہلکار پوری پاکستانی قوم پہ احسان عظیم کر رھے ہیں،جبکہ درحقیقت صورتحال بالکل برعکس ھے،پاکستانی قوم ہی دراصل انکی محسن ومربی ہونے کے باوجود خود فاقے کرکے کم کھا کر ڈائریکٹ و ان ڈائریکٹ ٹیکسز دے کر اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کو اپنے مملکتی اثاٹوں کو آئ ایم ایف و ورلڈ بینک میں گروی رکھواکر حاصل کردہ قرض سے خطیر رقم امن وامان قائم رکھنے والےاداروں پر خرچ کرتی ھے،انہیں پر تعش زندگی فراھم کرتی ھے شاندار بنگلے کوٹھیاں رہائش کیلیئے نوکر چاکروں کی فوج ظفر موج،سفر ی سہولتوں کیلیئے گاڑیوں کے قافلے،بیوی بچوں اور  ان آفیسران  سمیت انکے والدین کے بہترین علاج معالجے کی سہولتیں دیتی ھے،خود سر کاری ھسپتالوں میں معمولی دواوں کیلیئے ترستی ھے،نان شبینہ سے محروم رہتی ہے،اکثر کے بچے ان پولیس آفیسران سے بدرجہا قابل مگر روڈوں پہ گھسٹتے دھکے کھاتے یا ٹوٹی پھوٹی موٹر سائیکلوں پہ بیٹھے ان نام نہاد آفیسران کی ھوٹر لگی گاڑیوں کیلیئے رستہ دیتے حسرت سے کبھی انکو کبھی نیلگوں آسمان کو تکتے ہیں اور آہ بھر کے رہ جاتے ہیں-یہی پولیس آفیسران جو عوام کے طیب لہوپہ پلتے ہیں الٹا انہیں ہی انتہائ حقیر گردانتے ہیں کہ اتنا حقیر تو انکا آقا انگریز بھی انہیں نہ سمجھتا تھا،بات یہ ھے کہ آپ آفیسران   کی جبری بھرتی نہیں ھوئ آپ لوگ بے پناہ شوق و سفارش سے یا اپنی قابلیت کے بل بوتے اس محکمے میں آئے ھم عوام آپکو سیاسی رھنماوں کی طرح ایلکٹ کر کے نہیں لائے،اگر آپکو اپنے آقاو مربی پہ بےجاتشدد، انکے آہ و گریہ زاری کو  ختم نہ کرنے کی تردد اور اس تشدد کوآئیندہ بھی جاری رکھنے کیلیئے انہیں بلیک میل کرتے رہنے کا کوئ یارا ھے تو  بہتر ھوگا کہ ان مناصب کوآپ چھوڑ ہی دیں تاکہ آپ سے کوئ اچھا باکردار اور محسنوں و مربیوں کا کوئ قدر دان آجائے-پوری دنیا میں عوام کے ٹیکسز پہ پلنے والے ادارے عوام کو نہ ہی طعنہ دیتے ہیں اور نہ ھی ان پراحسان جتاتے ہیں، بعض ملکوں میں ان اداروں کے افراد سینکڑوں نہیں،ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں اپنی جانیں دے چکے ہیں مگ حرام ہے کہ کبھی اپنی عوام پہ احسان  جتایا ہو؛اگر آپ لوگوں  کو اپنی جان بہت زیادہ پیاری ھے تو مستعفی ہو کر گھر بیٹھ جائیں تاکہ آپ  سے بہت بہتر اور مخلص لوگ آجائیں ؛دراصل آئینہ سچ بولتا ھے ھم اپنے چہرے پہ لگی کا لک اتارنے کی بجائے آئینہ توڑنے کی کوشش میں جت جاتے ہیں،پولیس کے اعلی آفیسر  موصوف کے بیان سےشدید مس کنڈکٹ بلکہ باغیانہ سوچ کی بو آرھی تھی انکا انداز خطابت پولیس کو بھڑکانے کے مترادف تھا-ریا ستیں، ادارے، اقتدار اعلی سب کچھ عوام کیلیئے ھوتا ھے،کیونکہ جسطرح دھرتی ماں سے اناج پیدا ہوتا ھے اسی طرح اسے پیدا کرنے والا محنت کش دھرتی کا مائ باپ ھوتاھے،اسی طرح کارخانوں میں کام کرنے والا محنت کشں جو ھم سب کیلیئے زندگی کی بنیادی اور لازمی چیزیں فراھم کرتا ھےاور اس جیسے دیگر بہت سے ہی تو عوام ہیں جبکہ ھم سب انکے طفیلیئے ہیں، یہ لوگ ہی ھم سبکے محسن و مربی ہیں اور جو کوئ اپنے محسن ومربی کوبھول جاتا ھے،فطرت اسے بھول جاتی ھے؛اور جو اپنے محسنوں کوڈستا ھے قدرت اسے فنا کر دیتی ھے-

Tags: column by imam raza
Previous Post

لیہ ۔ کوٹ ادو روڈ پر ویگن اورٹرالر میں تصادم ، 2 فراد جاں بحق 4 زخمی

Next Post

’کل مودی نے بہت جارحانہ زبان استعمال کی ‘ ٹرمپ نے ایک بار پھر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی

Next Post
’کل مودی نے بہت جارحانہ زبان استعمال کی ‘ ٹرمپ نے ایک بار پھر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی

’کل مودی نے بہت جارحانہ زبان استعمال کی ‘ ٹرمپ نے ایک بار پھر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ
صبح پاکستان

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

by webmaster
اپریل 20, 2026
0

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...

Read moreDetails
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
ڈیرہ غازی خا  ن   ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ڈیرہ غازی خا ن ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

اپریل 11, 2026
ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

اپریل 10, 2026
پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

اپریل 10, 2026
پنجاب پولیس کا اعلی آفیسر اور گالیاں :کل فیس بک پہ پنجاب پولیس کے ایک اعلی آفیسر کی گھن گھرج  تقریر سنی جسمیں وہ پولیس جوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فر مارھے تھے کہ"کسی نے سوشل میڈیا میں ھم پولیس والوں کے بارے میں منٹو کے افسانے کے کسی جملے میں ترمیم کرکے کہا ھے کہ:"جو طوائف اور ۔۔۔۔۔۔۔۔کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے اسے پولیس والا کہتے ہیں، اور انہوں نے طنزا فلمی انداز میں کہاکہ ہاں ھم حرامزادے ہیں کیونکہ ھم نے سینکڑوں کی تعداد میں ان لوگوں کیلیئے قربانی دی جو ھمیں گالیاں دیتے ہیں" (وغیرہ، وغیرہ)-گو اس بابت دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ کوئ کسی کوکیونکر گالیاں دے، اور اس بات کا بھی کسی کو حق نہیں کہ وہ گالی کے جواب میں دوسرے کوبھی گالی دے یعنی کہ جرم کے بدلے جرم  کہ جیسا پولیس آفیسر موصوف نے پولیس والوں کو اشتعال دیتے ہوئے کہا کہ وہ گالی کا جواب کیوں نہیں دیتے یعنی کہ وہ گالی کا جواب بھی گالی سے ہی دیں یا پھر مار پیٹ پہ اتر آئیں، جوکہ انکے عظیم الشان منصب کا ہر گز تقاضہ نہ تھا اور نہ ہی ھے بلکہ اسطرح تو  وہ اپنی سروس کے حوالے سے  شدید قسم کےمس کنڈکٹ کے مرتکب ٹہرے، گھر کے رکھوالے کو ھتیار ،کھانا اور سر چھپانے کو جگہ اس لیئے نہیں دی جاتی کہ وہ اپنے ہی محسن و مربی کو طعنہ ظنی اور دشنام طرازی کانشانہ بنائے؛ ھتیار کے زور پر اپنےہی مالک کی عزت وناموس سے کھیلے اور موقع پاکر اسکی جان تک لے لے، موصوف کا دوسرے لفظوں میں کہنا تھا کہ وہ اور انکے اہلکار پوری پاکستانی قوم پہ احسان عظیم کر رھے ہیں،جبکہ درحقیقت صورتحال بالکل برعکس ھے،پاکستانی قوم ہی دراصل انکی محسن ومربی ہونے کے باوجود خود فاقے کرکے کم کھا کر ڈائریکٹ و ان ڈائریکٹ ٹیکسز دے کر اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کو اپنے مملکتی اثاٹوں کو آئ ایم ایف و ورلڈ بینک میں گروی رکھواکر حاصل کردہ قرض سے خطیر رقم امن وامان قائم رکھنے والےاداروں پر خرچ کرتی ھے،انہیں پر تعش زندگی فراھم کرتی ھے شاندار بنگلے کوٹھیاں رہائش کیلیئے نوکر چاکروں کی فوج ظفر موج،سفر ی سہولتوں کیلیئے گاڑیوں کے قافلے،بیوی بچوں اور  ان آفیسران  سمیت انکے والدین کے بہترین علاج معالجے کی سہولتیں دیتی ھے،خود سر کاری ھسپتالوں میں معمولی دواوں کیلیئے ترستی ھے،نان شبینہ سے محروم رہتی ہے،اکثر کے بچے ان پولیس آفیسران سے بدرجہا قابل مگر روڈوں پہ گھسٹتے دھکے کھاتے یا ٹوٹی پھوٹی موٹر سائیکلوں پہ بیٹھے ان نام نہاد آفیسران کی ھوٹر لگی گاڑیوں کیلیئے رستہ دیتے حسرت سے کبھی انکو کبھی نیلگوں آسمان کو تکتے ہیں اور آہ بھر کے رہ جاتے ہیں-یہی پولیس آفیسران جو عوام کے طیب لہوپہ پلتے ہیں الٹا انہیں ہی انتہائ حقیر گردانتے ہیں کہ اتنا حقیر تو انکا آقا انگریز بھی انہیں نہ سمجھتا تھا،بات یہ ھے کہ آپ آفیسران   کی جبری بھرتی نہیں ھوئ آپ لوگ بے پناہ شوق و سفارش سے یا اپنی قابلیت کے بل بوتے اس محکمے میں آئے ھم عوام آپکو سیاسی رھنماوں کی طرح ایلکٹ کر کے نہیں لائے،اگر آپکو اپنے آقاو مربی پہ بےجاتشدد، انکے آہ و گریہ زاری کو  ختم نہ کرنے کی تردد اور اس تشدد کوآئیندہ بھی جاری رکھنے کیلیئے انہیں بلیک میل کرتے رہنے کا کوئ یارا ھے تو  بہتر ھوگا کہ ان مناصب کوآپ چھوڑ ہی دیں تاکہ آپ سے کوئ اچھا باکردار اور محسنوں و مربیوں کا کوئ قدر دان آجائے-پوری دنیا میں عوام کے ٹیکسز پہ پلنے والے ادارے عوام کو نہ ہی طعنہ دیتے ہیں اور نہ ھی ان پراحسان جتاتے ہیں، بعض ملکوں میں ان اداروں کے افراد سینکڑوں نہیں،ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں اپنی جانیں دے چکے ہیں مگ حرام ہے کہ کبھی اپنی عوام پہ احسان  جتایا ہو؛اگر آپ لوگوں  کو اپنی جان بہت زیادہ پیاری ھے تو مستعفی ہو کر گھر بیٹھ جائیں تاکہ آپ  سے بہت بہتر اور مخلص لوگ آجائیں ؛دراصل آئینہ سچ بولتا ھے ھم اپنے چہرے پہ لگی کا لک اتارنے کی بجائے آئینہ توڑنے کی کوشش میں جت جاتے ہیں،پولیس کے اعلی آفیسر  موصوف کے بیان سےشدید مس کنڈکٹ بلکہ باغیانہ سوچ کی بو آرھی تھی انکا انداز خطابت پولیس کو بھڑکانے کے مترادف تھا-ریا ستیں، ادارے، اقتدار اعلی سب کچھ عوام کیلیئے ھوتا ھے،کیونکہ جسطرح دھرتی ماں سے اناج پیدا ہوتا ھے اسی طرح اسے پیدا کرنے والا محنت کش دھرتی کا مائ باپ ھوتاھے،اسی طرح کارخانوں میں کام کرنے والا محنت کشں جو ھم سب کیلیئے زندگی کی بنیادی اور لازمی چیزیں فراھم کرتا ھےاور اس جیسے دیگر بہت سے ہی تو عوام ہیں جبکہ ھم سب انکے طفیلیئے ہیں، یہ لوگ ہی ھم سبکے محسن و مربی ہیں اور جو کوئ اپنے محسن ومربی کوبھول جاتا ھے،فطرت اسے بھول جاتی ھے؛اور جو اپنے محسنوں کوڈستا ھے قدرت اسے فنا کر دیتی ھے-
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.