• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

چوک اعظم کے عوام پولیس ریفارمز کے منتظر .. تحریر ۔ محمد شہباز قریشی

webmaster by webmaster
ستمبر 15, 2019
in کالم
0
چوک اعظم کے عوام پولیس ریفارمز کے منتظر  .. تحریر ۔ محمد شہباز قریشی

الیکشن سے پہلے اور بعد میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ہر تقریر میں پاکستانی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ محکمہ پولیس کو ٹھیک کرکے دکھائیں گے ۔ سیاسی بنیادوں پربھرتی ہونیوالوں کو نکال کر باہر پھینکیں گے ۔ محکمہ سے درندہ صفت ،رشوت خور ،جاہل اور میڈیکل فٹنس نہ رکھنے والے ملازمین کو فارغ کرکے پڑھے لکھے ،ایماندار ،قابل اور اچھی شہریت کے حامل آفیسران کو تعینات کیا جائےگا ۔ قانون وانصاف کی فراہمی ہوگی ۔ ظلم کا دور ختم ہوگا ۔ قانون اور انساف کی فراہمی غریب ،امیر کے لئے یکساں ہوگی ۔ پولیس کے فرسودہ ،نظام میں اصلاحات کی جائیں گی ۔ تھانوں میں مار پیٹ بندکرکے تفتیش کےلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائےگا ۔ ظالموں کی پشت پناہی بندکرکے طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائےگا ۔ یہ وہ چند اہم ترین خواب تھے جو تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کو دکھائے لیکن افسوس حکومت کو ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے باوجود ان وعدوں پر عملدرآمد نہ ہوسکا بلکہ یہ فقط دیوانے کا خواب ثابت ہوئے ۔

بقول شاعر ۔

اس توں وڈا اک بندے دا ہے کوئی ہور غذاب

اک اک کرکے اندھے ہوگئے جس دے سارے خواب

گذشتہ کچھ عرصہ میں میڈیا پر وائرل ہونےوالے پولیس گردی کے چند واقعات نے پولیس کا بھیانک چہرہ عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔ عوام ابھی ماڈل ٹاءون سانحہ میں ہونے والی پولیس گردی کو بھول نہیں پائی تھی کہ ساہیوال میں دہشتگردی کی آڑ میں دن دیہاڑے گولیوں کی بوچھاڑ سے پورا خاندان کا خاندان بھون ڈالا گیا ۔ حکومتی ردعمل کے طور پر شروع میں روایتی بیانات کی بھر مار ۔ وزیروں مشیروں کی آنکھوں سے آنسوءوں کی برسات لیکن بالا آخر نتیجہ صفر ۔ ہمیشہ ایک ہی رٹارٹایا بیان کہ مرنے والوں کو انصاف ملے گا ۔ رحیم یار خان میں پولیس نے تشدد سے قوت گویائی سے محرو م نیم پاگل شخص کو زبان عطاکی اور وہ تاریخی الفاظ;3939; مارنا کتھوں سکھیا جے;3939; کہہ کر پولیس وردی میں ملبوس چندکالی بھیڑوں کے منہ پر زنائے دار تھپڑ رسید کر کے دینا سے رخصت ہوگیا ۔ ابھی ان الفاظ کی بازگشت ذہنوں میں گونج رہی تھی کہ لیہ پولیس کے شیر جوانوں کے ہاتھوں بھٹہ مزدور کو بھیانک تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آگیا ۔ متاثرہ بھٹہ مزدور مسلسل بہوشی اور سریس حالت میں ملتان نشتر ریفر کردیا گیا ۔ جہاں وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے ۔

گذشتہ کچھ عرصہ سے چوک اعظم شہر میں امن وامان کی صورتحال نہایت ابتر ہے چوری ،ڈکیتی ،راہزنی ،منشیات فروشی اور جسم فروشی جیسے جرائم نے جہاں ایک طرف یہاں کے باسیوں کو کربناک اذیت میں مبتلا کررکھا ہے تو دوسری طرف پولیس کی روزی روٹی کھل گئی ہے ۔ ڈکیتوں اور چوروں کو ٹریس آءوٹ کرنے اور موبائل ڈیٹا کو بنیاد بناکر روزانہ کی بنیاد پر چند شرفاء کو اٹھا کر تھانہ اور اور بعض تگڑی آسامیوں کو نجی ٹارچر سیلز میں لے جاکر مارپیٹ اور بعدازا ں مک مکاء کرکے چھوڑنے کے واقعات زباں زدعام ہیں ۔ مقدمات کے اندراج اور بعدازاں بغیر انکوائری اخراج کے علیحدہ علیحدہ ریٹ مقرر ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں ۔ صحافی کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں انکام کام جرائم کی نشاندہی کرنا اور مظلوم عوام کی آواز بننا ہے ۔ جسکی وجہ سے آفیسران و ملازمین کو اپنی خامیوں کو دور کرنے اور اصلاح احوال کا موقع میسر آتا ہے ۔ منی کراچی کے نام سے مشہور ہونے والے شہر چوک اعظم میں امن وامان کی ابتر صورتحال پر جب صحافیوں نے قلم آزمائی کی تو بجائے اس کے کہ پولیس چوروں اورڈکیتوں کا تعاقب کرتی اور شہر کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرتی ۔ مقامی پولیس نے نہایت منفی کردار ادا کرتے ہوئے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ۔ اور میں نہ سدھروں کی رٹ لگادی ۔ ذاتی جیب خرچ سے مخصوص میڈیا سیل کا کا وجود عمل میں لایا گیا جس نے عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر پولیس کا ناجائزدفاع شروع کردیا جوکہ اعلیٰ آفیسران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اورسب اچھا ہے کی رپورٹ پیش کرنے کی ناکام کوشش ثابت ہوا ۔ ذراءع کا کہنا ہے کہ صاحب موصوف لوگوں کو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ میں انسپکٹر نہ ہونے کے باوجود بھی مسلسل سات سال سے ایس ایچ او شپ کرتا چلا آرہا ہوں ۔ میرے بھائی تگڑی پوسٹ پر تعینات ہیں جسکی وجہ سے کوئی میرا بال بیکانہیں کرسکتا ۔ پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ چوک اعظم پولیس جتنا زور ڈکیتیوں کو چوریوں میں بدلنے اور نامزد ملزمان کو حیلے بہانوں سے بیگناہ ڈکلئیر کرنے پر لگارہی ہے اگر اس سے آدھی توانائیاں بھی عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے پر صرف کی جائیں تو عین ممکن ہے کہ عوام مزید لٹنے سے بچ جائے ۔ سوشل میڈیا پر پولیس اور عوام کے درمیان لفظی گولہ باری اور بڑھتا ہوا تناءو شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ اگر اس تشویشناک صورتحال پر بروقت قابوپاکر خو د احتسابی نہ کی گئی تو ود دن دور نہیں جب بے دلی کے شکار پولیس رویہ سے متنفر عوام ہٹ دھرمی پر اترے کرپٹ پولیس مافیا سے دست وگریباں ہوں گے ۔ اگر اداروں کا تقدس پامال ہوگیا تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ ہم قانون کا احترام ہی نہ کرسکے اور کرواسکے تو پھر کیا فائدہ ۔ سچ تو یہ ہے کہ میلے کچیلے اس نظام کو غسل دینے کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چوک اعظم کے عوام پولیس ریفارمز کے شدت سے منتظر ہیں ۔

نوٹ : ۔ کالم نگار محمد شہباز قریشی الہاشمی چوک اعظم کے نو جوان صحافی اور پریس کلب چوک اعظم کے جزل سیکریٹری ہیں

Tags: column by shehbaz qureshi
Previous Post

جدہ جانے والے پی آئی اے کے طیارے کے انجن میں آتشزدگی ،طیارے کی لاہور ایئر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ

Next Post

سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران ملوث ہے، امریکا

Next Post
سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران ملوث ہے، امریکا

سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران ملوث ہے، امریکا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026

الیکشن سے پہلے اور بعد میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ہر تقریر میں پاکستانی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ محکمہ پولیس کو ٹھیک کرکے دکھائیں گے ۔ سیاسی بنیادوں پربھرتی ہونیوالوں کو نکال کر باہر پھینکیں گے ۔ محکمہ سے درندہ صفت ،رشوت خور ،جاہل اور میڈیکل فٹنس نہ رکھنے والے ملازمین کو فارغ کرکے پڑھے لکھے ،ایماندار ،قابل اور اچھی شہریت کے حامل آفیسران کو تعینات کیا جائےگا ۔ قانون وانصاف کی فراہمی ہوگی ۔ ظلم کا دور ختم ہوگا ۔ قانون اور انساف کی فراہمی غریب ،امیر کے لئے یکساں ہوگی ۔ پولیس کے فرسودہ ،نظام میں اصلاحات کی جائیں گی ۔ تھانوں میں مار پیٹ بندکرکے تفتیش کےلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائےگا ۔ ظالموں کی پشت پناہی بندکرکے طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائےگا ۔ یہ وہ چند اہم ترین خواب تھے جو تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کو دکھائے لیکن افسوس حکومت کو ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے باوجود ان وعدوں پر عملدرآمد نہ ہوسکا بلکہ یہ فقط دیوانے کا خواب ثابت ہوئے ۔

بقول شاعر ۔ اس توں وڈا اک بندے دا ہے کوئی ہور غذاب اک اک کرکے اندھے ہوگئے جس دے سارے خواب

گذشتہ کچھ عرصہ میں میڈیا پر وائرل ہونےوالے پولیس گردی کے چند واقعات نے پولیس کا بھیانک چہرہ عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔ عوام ابھی ماڈل ٹاءون سانحہ میں ہونے والی پولیس گردی کو بھول نہیں پائی تھی کہ ساہیوال میں دہشتگردی کی آڑ میں دن دیہاڑے گولیوں کی بوچھاڑ سے پورا خاندان کا خاندان بھون ڈالا گیا ۔ حکومتی ردعمل کے طور پر شروع میں روایتی بیانات کی بھر مار ۔ وزیروں مشیروں کی آنکھوں سے آنسوءوں کی برسات لیکن بالا آخر نتیجہ صفر ۔ ہمیشہ ایک ہی رٹارٹایا بیان کہ مرنے والوں کو انصاف ملے گا ۔ رحیم یار خان میں پولیس نے تشدد سے قوت گویائی سے محرو م نیم پاگل شخص کو زبان عطاکی اور وہ تاریخی الفاظ;3939; مارنا کتھوں سکھیا جے;3939; کہہ کر پولیس وردی میں ملبوس چندکالی بھیڑوں کے منہ پر زنائے دار تھپڑ رسید کر کے دینا سے رخصت ہوگیا ۔ ابھی ان الفاظ کی بازگشت ذہنوں میں گونج رہی تھی کہ لیہ پولیس کے شیر جوانوں کے ہاتھوں بھٹہ مزدور کو بھیانک تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آگیا ۔ متاثرہ بھٹہ مزدور مسلسل بہوشی اور سریس حالت میں ملتان نشتر ریفر کردیا گیا ۔ جہاں وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے ۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے چوک اعظم شہر میں امن وامان کی صورتحال نہایت ابتر ہے چوری ،ڈکیتی ،راہزنی ،منشیات فروشی اور جسم فروشی جیسے جرائم نے جہاں ایک طرف یہاں کے باسیوں کو کربناک اذیت میں مبتلا کررکھا ہے تو دوسری طرف پولیس کی روزی روٹی کھل گئی ہے ۔ ڈکیتوں اور چوروں کو ٹریس آءوٹ کرنے اور موبائل ڈیٹا کو بنیاد بناکر روزانہ کی بنیاد پر چند شرفاء کو اٹھا کر تھانہ اور اور بعض تگڑی آسامیوں کو نجی ٹارچر سیلز میں لے جاکر مارپیٹ اور بعدازا ں مک مکاء کرکے چھوڑنے کے واقعات زباں زدعام ہیں ۔ مقدمات کے اندراج اور بعدازاں بغیر انکوائری اخراج کے علیحدہ علیحدہ ریٹ مقرر ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں ۔ صحافی کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں انکام کام جرائم کی نشاندہی کرنا اور مظلوم عوام کی آواز بننا ہے ۔ جسکی وجہ سے آفیسران و ملازمین کو اپنی خامیوں کو دور کرنے اور اصلاح احوال کا موقع میسر آتا ہے ۔ منی کراچی کے نام سے مشہور ہونے والے شہر چوک اعظم میں امن وامان کی ابتر صورتحال پر جب صحافیوں نے قلم آزمائی کی تو بجائے اس کے کہ پولیس چوروں اورڈکیتوں کا تعاقب کرتی اور شہر کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرتی ۔ مقامی پولیس نے نہایت منفی کردار ادا کرتے ہوئے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ۔ اور میں نہ سدھروں کی رٹ لگادی ۔ ذاتی جیب خرچ سے مخصوص میڈیا سیل کا کا وجود عمل میں لایا گیا جس نے عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر پولیس کا ناجائزدفاع شروع کردیا جوکہ اعلیٰ آفیسران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اورسب اچھا ہے کی رپورٹ پیش کرنے کی ناکام کوشش ثابت ہوا ۔ ذراءع کا کہنا ہے کہ صاحب موصوف لوگوں کو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ میں انسپکٹر نہ ہونے کے باوجود بھی مسلسل سات سال سے ایس ایچ او شپ کرتا چلا آرہا ہوں ۔ میرے بھائی تگڑی پوسٹ پر تعینات ہیں جسکی وجہ سے کوئی میرا بال بیکانہیں کرسکتا ۔ پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ چوک اعظم پولیس جتنا زور ڈکیتیوں کو چوریوں میں بدلنے اور نامزد ملزمان کو حیلے بہانوں سے بیگناہ ڈکلئیر کرنے پر لگارہی ہے اگر اس سے آدھی توانائیاں بھی عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے پر صرف کی جائیں تو عین ممکن ہے کہ عوام مزید لٹنے سے بچ جائے ۔ سوشل میڈیا پر پولیس اور عوام کے درمیان لفظی گولہ باری اور بڑھتا ہوا تناءو شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ اگر اس تشویشناک صورتحال پر بروقت قابوپاکر خو د احتسابی نہ کی گئی تو ود دن دور نہیں جب بے دلی کے شکار پولیس رویہ سے متنفر عوام ہٹ دھرمی پر اترے کرپٹ پولیس مافیا سے دست وگریباں ہوں گے ۔ اگر اداروں کا تقدس پامال ہوگیا تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ ہم قانون کا احترام ہی نہ کرسکے اور کرواسکے تو پھر کیا فائدہ ۔ سچ تو یہ ہے کہ میلے کچیلے اس نظام کو غسل دینے کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چوک اعظم کے عوام پولیس ریفارمز کے شدت سے منتظر ہیں ۔ نوٹ : ۔ کالم نگار محمد شہباز قریشی الہاشمی چوک اعظم کے نو جوان صحافی اور پریس کلب چوک اعظم کے جزل سیکریٹری ہیں

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.