• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کرسی کی ذمہ داریاں ، عفت بھٹی

webmaster by webmaster
جولائی 30, 2018
in کالم
0
کرسی کی ذمہ داریاں ، عفت بھٹی

ی ٹی آئی بھاری مینڈٹ سے کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔عوام نے ووٹ کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا اور اپنا فرض ادا کیا ۔کپتان ملک کا کپتان بن گیا ۔عمران خان کی پہلی تقریر کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ۔سادہ اور آسان فہم الفاظ ہر دل میں اتر گئے ۔اور لگا کہ اب میری قوم اور ملک کی قسمت سنور جائیگی ۔۔انہوں نے کہا میں کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، مجھے اللہ نے سب کچھ دیا تھا، اب بائیس سالہ جدوجہد کے بعد کامیابی دی تو اقتدار میں آکر منشور پر عمل کرنے کا وقت آگیا۔
دنیا کے عظیم لیڈر نبی کریم ﷺ تھے، اور جو ریاست آپ ﷺ نے مدینے میں قائم کی، میں بھی اسی طرح کی فلاحی ریاست کا نظام چاہتا ہوں۔ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ تمام پالیسیاں کمزور طبقے کیلئے نہیں بنیں گی اور طاقتوروں پر بھی قوانین کا اطلاق ہوگا۔
غریب کسانوں، خوراک کی کمی شکار پینتالیس فیصد بچے، تعلیم سے محروم ڈھائی کروڑ بچے اور مجموعی طور پر کمزور طبقے کو اس کا حق دلانا میرا ٹارگٹ ہوگا۔
اپنی ذات کے حوالے سے اچھالے گئے کیچڑ کو میں نظرانداز کرتے ہوئے سب کچھ بھلا چکا۔ کسی کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں ہوگی۔
اگر ہمارا کوئی بندہ غلط کام کرے گا تو قانون ایکشن لے گا۔ احتساب مجھ سے شروع ہوگا۔
گورننس ٹھیک کرکے معیشت بحال کریں گے، کرپشن کے ذریعے لیکیج ختم ہوگئی تو معاشی صورتحال ٹھیک ہوجائے گی۔
سادگی اختیار کروں گا۔ پرائم منسٹر ہاؤس کی بجائے وزرا کے انکلیو میں رہائش اختیار کروں گا۔دھاندلی کا الزام لگانے والے آگے آئیں، تحقیقات میں مدد کروں گا۔ جس حلقے کا کہیں گے، کھول دیں گے۔
اس خطاب کو دیکھیں تو عمران خان کے کئی مثبت پہلو سامنے آتے ہیں ۔بلاشبہ آنے والی حکومت کے سامنے بہت سے مسائل اور رکاوٹیں ہیں ۔ان سے نبرد آزمائی کے لیے وقت درکار ہے مگر جب تہیہ کر لیا جائے تو مشکلات ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہیں ۔عمران خان کے کاندھوں پہ اب بہت بڑی ذمہ داری ہے اور سب سے بڑھ کر عوام کا اعتماد کہ جس نے پرانے جاگیردارانہ اور خاندانی نظام کو ریجیکٹ کر کے اپنی اور ملک کی قسمت عمران خان کے حوالے کی ۔لہذا عمران حان کو اب اپنے کہے ایک ایک لفظ کا پاس رکھنا ہوگا اور پاکستان کو اپنی ترجیحات میں مقدم رکھ کر درست اقدام کرنے ہونگے ۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ملک سب سے اہم ہے ۔ہمیشہ وہی قومیں عزت و وقار پاتی ہیں جو اپنے قدموں پہ آپ کھڑی ہوتی ہیں ۔ہاتھ پھیلانے والی قوم قرضوں اور احسانوں کے بوجھ تلے دب کر خوار ہو جاتی ہے ۔جیسا کہ ہو چکا ہے ۔ دیگر فاتح جماعتوں کو بھی عمران خان کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ دھاندلی کا غل غوغا مچائیں اور ملک اور نئی حکومت کو اسی میں الجھائے رکھیں ۔الیکشن پایہ تکمیل کو پہنچے ہار جیت ہوتی رہتی اچھا کھلاڑی وہی ہوتا جو اسے دل سے تسلیم کرے ۔وقت اور عوام کب تک غلط کا ساتھ دے سکتا ۔عوام نے الیکشن 2018 میں بھرپور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزمائے چہروں کو دھول چٹا دی یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ حکمرانوں کے لیے سبق ہے کہ اگر ہم تخت پہ بٹھا سکتے تو گرا بھی سکتے ۔فرعون و نمرود کب تک کامیاب ہو سکتے ۔کب تک نسل نو کو ہم وراثت میں سامان تباہی دیتے ۔قوم کا یہ جاگا ۔ہوا شعور یہیں دم نہیں توڑے۔گا بلکہ اب آنے۔والے حکمران جوابدہ ہونگے جان توڑ محنت ہی ان کو شاد کام رکھ سکے گی ۔مثل مدینہ ریاست تبھی پایہ تشکیل کو پہنچے۔گی جب دریا کے کنارے ایک بھوکے کتے کی موت کا بھی محاسبہ ہوگا ۔ کامیابی تب قدم چومے۔گی فقیر کا کاسہ نہ ہوگا اور دینے والا ہوگا مگر لینے والا نہ ہوگا ۔جب اسلام مسجد و منبر میں نہیں دلوں میں ہوگا ۔جب ہماری بجلی ہمارا پانی ہماری فصل ہوگی ۔ہمارا کسان خوشحال ہوگا ۔تب حقیقی تبدیلی آئے گی اور یہی نیا پاکستات ہوگا ہم سب کا نیا پاکستان.

Post Views: 29
Tags: cilumn by iffat bhatti
Previous Post

لیہ ۔نو منتخب آزاد ممبران صوبائی اسمبلی سید رفاقت علی گیلانی اور لالہ محمد طا ہر رندھاوا پا کستان تحریک انصاف میں شا مل

Next Post

پنجاب میں حکومت سازی؛ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ میں نمبر گیم جاری

Next Post
پنجاب میں حکومت سازی؛ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ میں نمبر گیم جاری

پنجاب میں حکومت سازی؛ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ میں نمبر گیم جاری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
ی ٹی آئی بھاری مینڈٹ سے کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔عوام نے ووٹ کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا اور اپنا فرض ادا کیا ۔کپتان ملک کا کپتان بن گیا ۔عمران خان کی پہلی تقریر کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ۔سادہ اور آسان فہم الفاظ ہر دل میں اتر گئے ۔اور لگا کہ اب میری قوم اور ملک کی قسمت سنور جائیگی ۔۔انہوں نے کہا میں کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، مجھے اللہ نے سب کچھ دیا تھا، اب بائیس سالہ جدوجہد کے بعد کامیابی دی تو اقتدار میں آکر منشور پر عمل کرنے کا وقت آگیا۔ دنیا کے عظیم لیڈر نبی کریم ﷺ تھے، اور جو ریاست آپ ﷺ نے مدینے میں قائم کی، میں بھی اسی طرح کی فلاحی ریاست کا نظام چاہتا ہوں۔ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ تمام پالیسیاں کمزور طبقے کیلئے نہیں بنیں گی اور طاقتوروں پر بھی قوانین کا اطلاق ہوگا۔ غریب کسانوں، خوراک کی کمی شکار پینتالیس فیصد بچے، تعلیم سے محروم ڈھائی کروڑ بچے اور مجموعی طور پر کمزور طبقے کو اس کا حق دلانا میرا ٹارگٹ ہوگا۔ اپنی ذات کے حوالے سے اچھالے گئے کیچڑ کو میں نظرانداز کرتے ہوئے سب کچھ بھلا چکا۔ کسی کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں ہوگی۔ اگر ہمارا کوئی بندہ غلط کام کرے گا تو قانون ایکشن لے گا۔ احتساب مجھ سے شروع ہوگا۔ گورننس ٹھیک کرکے معیشت بحال کریں گے، کرپشن کے ذریعے لیکیج ختم ہوگئی تو معاشی صورتحال ٹھیک ہوجائے گی۔ سادگی اختیار کروں گا۔ پرائم منسٹر ہاؤس کی بجائے وزرا کے انکلیو میں رہائش اختیار کروں گا۔دھاندلی کا الزام لگانے والے آگے آئیں، تحقیقات میں مدد کروں گا۔ جس حلقے کا کہیں گے، کھول دیں گے۔ اس خطاب کو دیکھیں تو عمران خان کے کئی مثبت پہلو سامنے آتے ہیں ۔بلاشبہ آنے والی حکومت کے سامنے بہت سے مسائل اور رکاوٹیں ہیں ۔ان سے نبرد آزمائی کے لیے وقت درکار ہے مگر جب تہیہ کر لیا جائے تو مشکلات ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہیں ۔عمران خان کے کاندھوں پہ اب بہت بڑی ذمہ داری ہے اور سب سے بڑھ کر عوام کا اعتماد کہ جس نے پرانے جاگیردارانہ اور خاندانی نظام کو ریجیکٹ کر کے اپنی اور ملک کی قسمت عمران خان کے حوالے کی ۔لہذا عمران حان کو اب اپنے کہے ایک ایک لفظ کا پاس رکھنا ہوگا اور پاکستان کو اپنی ترجیحات میں مقدم رکھ کر درست اقدام کرنے ہونگے ۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ملک سب سے اہم ہے ۔ہمیشہ وہی قومیں عزت و وقار پاتی ہیں جو اپنے قدموں پہ آپ کھڑی ہوتی ہیں ۔ہاتھ پھیلانے والی قوم قرضوں اور احسانوں کے بوجھ تلے دب کر خوار ہو جاتی ہے ۔جیسا کہ ہو چکا ہے ۔ دیگر فاتح جماعتوں کو بھی عمران خان کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ دھاندلی کا غل غوغا مچائیں اور ملک اور نئی حکومت کو اسی میں الجھائے رکھیں ۔الیکشن پایہ تکمیل کو پہنچے ہار جیت ہوتی رہتی اچھا کھلاڑی وہی ہوتا جو اسے دل سے تسلیم کرے ۔وقت اور عوام کب تک غلط کا ساتھ دے سکتا ۔عوام نے الیکشن 2018 میں بھرپور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزمائے چہروں کو دھول چٹا دی یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ حکمرانوں کے لیے سبق ہے کہ اگر ہم تخت پہ بٹھا سکتے تو گرا بھی سکتے ۔فرعون و نمرود کب تک کامیاب ہو سکتے ۔کب تک نسل نو کو ہم وراثت میں سامان تباہی دیتے ۔قوم کا یہ جاگا ۔ہوا شعور یہیں دم نہیں توڑے۔گا بلکہ اب آنے۔والے حکمران جوابدہ ہونگے جان توڑ محنت ہی ان کو شاد کام رکھ سکے گی ۔مثل مدینہ ریاست تبھی پایہ تشکیل کو پہنچے۔گی جب دریا کے کنارے ایک بھوکے کتے کی موت کا بھی محاسبہ ہوگا ۔ کامیابی تب قدم چومے۔گی فقیر کا کاسہ نہ ہوگا اور دینے والا ہوگا مگر لینے والا نہ ہوگا ۔جب اسلام مسجد و منبر میں نہیں دلوں میں ہوگا ۔جب ہماری بجلی ہمارا پانی ہماری فصل ہوگی ۔ہمارا کسان خوشحال ہوگا ۔تب حقیقی تبدیلی آئے گی اور یہی نیا پاکستات ہوگا ہم سب کا نیا پاکستان.
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.