اب مجھے ہر مذاق سہنا ہے
تشنہ لب ہوں سراب سہنا ہے
زندگی کے قرض ایسے اتریں گے
بد لحاظ و ظالم سماج سہنا ہے
روشنی ہی اند ھیرا جنتی ہے
فطرت کا یہ بھی مزاج سہنا ہے
کلام ۔ انجم صحرائی
اب مجھے ہر مذاق سہنا ہے
تشنہ لب ہوں سراب سہنا ہے
زندگی کے قرض ایسے اتریں گے
بد لحاظ و ظالم سماج سہنا ہے
روشنی ہی اند ھیرا جنتی ہے
فطرت کا یہ بھی مزاج سہنا ہے
کلام ۔ انجم صحرائی
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetailsاب مجھے ہر مذاق سہنا ہے تشنہ لب ہوں سراب سہنا ہے زندگی کے قرض ایسے اتریں گے بد لحاظ و ظالم سماج سہنا ہے روشنی ہی اند ھیرا جنتی ہے فطرت کا یہ بھی مزاج سہنا ہے
کلام ۔ انجم صحرائی