گلگت میں لینڈسلائیڈنگ سے خوفناک حادثہ پیش آگیا، نالے میں کام کے دوران ملبے تلے دب کر 8 رضاکار جاں...
Read moreDetailsپاک افغان سرحد کے قریب کلیئرنس آپریشن کے دوران بھارتی حمایت یافتہ مزید 14 خوارج ہلاک ہو گئے۔ پاک فوج...
Read moreDetailsراولپنڈی ۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت...
Read moreDetailsوزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران...
Read moreDetailsلاہور ۔اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے گرفتار ہونے والے 9 اراکین گرفتاری کی رہائی اور ایف آئی...
Read moreDetailsلاہور۔برطانوی جریدے ’’ دی اکانومسٹ‘‘ نے اپنے آرٹیکل میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین...
Read moreDetailsجھنگ (صبح پاکستان)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا جھنگ کے علاقے میں لڑکی پر تیزاب ڈالنے کے واقعہ کا...
Read moreDetailsلا ہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب بھر میں جشن آزادی کی سرگرمیاں تیز...
Read moreDetailsلاہور {ویب ڈیسک } وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بھارت کا گنڈاپور کے بیان کو فیٹف...
Read moreDetailsفیصل آباد:انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا...
Read moreDetailsعلیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetailsکوئٹہ۔14اگست (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہاہے کہ بلوچستان کے عوام نے ہر مشکل وقت میں ملک کا دفاع کیا ، آئندہ بھی پیش پیش رہیں گے، گوادر سے ژوب تک اور پورے صوبے میں جشنِ آزادی جس جوش و جذبے سے منایاجارہاہے ،زندہ قومیں ایسی ہی اپنے قومی تہواروں کو مناتی ہیں، مٹھی بھر دہشت گرد روایات کو پامال کر رہے ہیں، معصوم عورتوں، بچوں اور مسافروں کو نشانہ بنانا قبائلی اقدار کے منافی ہے،
دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ کو لیڈ لینی ہوگی اور تمام طبقات کو مل کر اس عفریت کا خاتمہ کرنا ہوگا،بلوچستان کے عوام نے دہشت گردوں کو ہمیشہ مسترد کیا ہے، دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کا وقت قریب ہے اور بلوچستان میں امن کا سورج جلد طلوع ہوگا۔-
ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار میں پاکستان کی 78ویں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی ،اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری ،صوبائی وزراء وارکان اسمبلی میر سلیم احمد کھوسہ ،میرعاصم کرد گیلو،راحیلہ حمیددرانی ،بخت محمد کاکڑ، حاجی ولی محمد نورزئی ،نسیم الرحمٰن ملاخیل، کلثوم نیاز بلوچ، رحمت صالح بلوچ، خیر جان بلوچ، میر زابد ریکی ،چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ،قائم مقام آئی جی پولیس بلوچستان سعید وزیر ،سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑودیگر سول وعسکری حکام موجود تھے ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی قومی ترانے سے قبل پرچم کشائی کی ۔بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ پاکستان کی 78ویں یوم آزادی پربلوچستان و پاکستان کی عوام کو آزادی کی خوشیوں پر مبارکباد پیش کرتاہوں،آج کا دن اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ جس آزادی کیلئے ہمارے بزرگوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں ایک ایسا دشمن جو ہم سے سات گنا بڑا ہے نے اپنے تکبر اور غرور میں وطن پر حملہ کیا لیکن ہماری بہادر افواج نے جس انداز سے اس کے دانت کٹھے کئے اس پرپاکستانی قوم زیادہ مبارکباد کی مستحق ہے ۔انہوں نے کہا کہ اہلیان بلوچستان کی طرف سے صدر پاکستان آصف علی زرداری ،وزیراعظم شہبازشریف ،افواج پاکستان ،فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتاہوں جنہوں نے اس جنگ کے دوران جواں مردی ،دلیری اور بصیرت کے ساتھ ایک قوم ہونے کا مظاہرہ کیا کہ نہ صرف پوری قوم یکجا ہوئی بلکہ جنگ میں جو فتح مبین حاصل کی اس پر اہلیان بلوچستان تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارکباد دیتے ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیاہے یہاں کے لوگ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، اللہ نہ کرے کہ اگر مشکل وقت آئے تو بلوچستان کے لوگ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے۔
میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ بلوچستان کے لوگوں کو مبارکباد دیتاہوں کہ انہوں نے گوادر سے ژوب تک جوش و جذبے کے ساتھ قومی تہوار منایا ، چند لوگ ہیں جو بندوق اور تشدد کے ذریعے پاکستان کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور بلوچستان جو روایات کاامین صوبہ ہے یہاں کے بلوچوں ،پشتونوں ،ہزارہ ،پنجابی ودیگر کے روایات کو بے دردی کے ساتھ کچل رہے ہیں ،معصوم بچوں ،مسافروں کو بے دردی کے ساتھ شہید کررہے ہیں لیکن ہم سب کو اٹھ کھڑا ہونا پڑے گا کہ دہشتگرد جس طرح ہمارے روایات کو پامال کررہے ہیں اس کی اجازت نہ دیں ہم بلوچ مہمان نواز اور مہمانوں کیلئے جان قربان کرنے والے لوگ ہیں ،عجیب بات کہی جارہی ہے کہ خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا گیاہے جس خاتون کے سامنے اس کے شوہر یا اس کے بیٹے کو گولیوں سے چھلنی کیاجاتاہے اور پھر کہا جاتاہے کہ ہم نے خاتون کو چھوڑ دیا یہ معاشرے کی برائی ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں نے جس طرح مسترد کیاہے اس حوالے سے مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور علما کرام سمیت ہرمکتبہ فکر کے لوگوں کو آگے بڑھ کر دہشتگردی ،بے چینی اور بدامنی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا ،ہمیں بہادر افواج ، پولیس اور لیویز جو امن وامان کے قیام کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب خطے میں امن کا سورج پوری آب وتاب کے ساتھ طلوب ہوگا