ڈاکٹر عبدالعزیز خدمت، محبت اور خلوص کی ایک لازوال داستان ! تحریر: مہر عمران بوپیرا
زندگی میں بعض شخصیات ایسی ملتی ہیں جو صرف اپنے عہدے یا پیشے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، ...
زندگی میں بعض شخصیات ایسی ملتی ہیں جو صرف اپنے عہدے یا پیشے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، ...
کوئٹہ: پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ "آپریشن شعبان" بھرپور انداز میں...
Read moreDetails
ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب صرف ایک کامیاب معالج نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایسا روشن چراغ ہیں، جس کی روشنی سے ہزاروں زندگیاں منور ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں علم، تجربہ، غیر معمولی تشخیصی صلاحیت اور بے مثال اخلاق سے نوازا ہے ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب علم کے ساتھ عاجزی، محبت اور اخلاص بھی شامل ہو جائے تو انسان صرف ڈاکٹر نہیں رہتا، بلکہ لوگوں کے دلوں کا حقیقی مسیحا بن جاتا ہے
ضلع لیہ میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب کا نام نہ سنا ہو ان کی طبی مہارت، بیماری کی بروقت اور درست تشخیص، مریض کی بات کو تحمل سے سننے کا انداز اور بہترین علاج نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے بعض ڈاکٹر صرف رپورٹس دیکھتے ہیں، لیکن ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب مریض کے چہرے پر لکھی ہوئی تکلیف بھی پڑھ لیتے ہیں یہی وہ خوبی ہے جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے
جب کوئی مریض ان کے کمرے میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف دوائی لینے نہیں آتا بلکہ اعتماد، حوصلہ، تسلی اور امید بھی اپنے ساتھ لے کر واپس جاتا ہے۔ ان کی مسکراہٹ، نرم لہجہ، خندہ پیشانی اور عاجزی مریض کی آدھی بیماری وہیں ختم کر دیتی ہے وہ ہر شخص کو یکساں عزت دیتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو
آج کے اس مادہ پرستانہ دور میں، جب انسانیت کہیں کہیں دم توڑتی محسوس ہوتی ہے، ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہوا ہے غریب، نادار اور مجبور مریضوں کے لیے ان کا دروازہ اور دل ہمیشہ کھلا رہتا ہے، بے شمار ایسے خاندان ہیں جو آج بھی ان کی شفقت، تعاون اور علاج کو اپنی دعاؤں میں یاد کرتے ہیں، یہی دعائیں کسی بھی انسان کی سب سے بڑی کامیابی اور اصل سرمایہ ہوتی ہیں
میری اپنی زندگی میں بھی ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب کا ایسا احسان ہے جسے شاید میں پوری زندگی نہ چکا سکوں جب بھی کسی پریشانی میں انہیں فون کیا، انہوں نے فوراً کال اٹھائی۔ جب بھی کوئی پیغام بھیجا، ہمیشہ محبت، عزت اور اپنائیت سے جواب دیا اس مصروف دور میں، جہاں لوگوں کے پاس اپنے عزیزوں کے لیے بھی وقت کم ہوتا جا رہا ہے، وہاں ڈاکٹر صاحب نے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ مصروف ہیں
ان کا ایک جملہ آج بھی میرے دل میں محفوظ ہے جب بھی بات ہوتی ہے، وہ محبت بھرے انداز میں کہتے ہیں: "جی عمران بھائی۔" شاید دنیا کے لیے یہ دو عام الفاظ ہوں، لیکن میرے لیے یہ احترام، خلوص، محبت اور اپنائیت کی ایک ایسی دولت ہیں جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی
مجھے کئی مرتبہ اپنی فیملی کے مریضوں کو ان کے پرائیویٹ کلینک لے جانے کا موقع ملا، لیکن ہر بار انہوں نے محبت سے فیس واپس کر دی حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کبھی رقم کا نہیں تھا، بلکہ وہ عزت، محبت اور خلوص میرے لیے دنیا کی ہر دولت سے بڑھ کر ہے ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں جو اپنے اخلاق سے دل جیت لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب کو بے شمار عزت سے نوازا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ خوبصورت بات یہ ہے کہ انہوں نے اس عزت کو ہمیشہ اپنے بہترین اخلاق سے سنبھال کر رکھا ہے نہ کبھی کسی مریض کو حقیر سمجھا، نہ کسی کو مایوس کیا، نہ کبھی کسی کے ساتھ سخت لہجہ اختیار کیا یہی وہ صفات ہیں جو انہیں ایک عظیم انسان بناتی ہیں
جو شخص ایک مرتبہ ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب سے علاج کروا لیتا ہے، اس کے دل میں دوبارہ انہی کے پاس آنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ بعض لوگ صرف بیماری کا علاج نہیں کرتے بلکہ انسان کے دل میں جینے کی امید بھی پیدا کر دیتے ہیں
میرے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ میں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں ڈاکٹر صاحب کی محبت، شفقت اور احترام نصیب ہوا اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ضلع لیہ کا حقیقی مسیحا کون ہے تو میں بلا جھجک ایک ہی نام لوں گا کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب
اللہ تعالیٰ ہمارے اس محسن، اس عظیم معالج اور اس بے لوث انسان کو صحتِ کاملہ، درازیٔ عمر، مزید عزت، کامیابیاں اور خدمتِ انسانیت کی مزید توفیق عطا فرمائے اللہ تعالیٰ ان کے علم میں برکت دے، انہیں ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ان کے ہاتھوں مزید انسانوں کو شفا نصیب فرمائے .آمین یا رب العالمین 🤲
مہر عمران بوپیرا