• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

یوم تکبیر ، یومِ تفکر

webmaster by webmaster
مئی 28, 2016
in کالم
0
یوم تکبیر ، یومِ تفکر
Umaar
محمدعماراحمد ‘لیہ
یوں توہم برسوں سے 28مئی کویومِ تکبیرمناتے آرہے ہیں کہ اس دن ہم نے عالمی وعلاقائی غاصبوں کے تمام ترخدشات،تحفظات اوردھمکیوں کے باوجودوطنِ عزیز کودفاعی طورپرمستحکم کرنے کے لئے ایٹمی تجربات کئے ۔پاکستان اسلامی دنیاکی پہلی ایٹمی قوت جبکہ دنیا کی بڑی ایٹمی قوتوں میں سے ایک ہے۔پاکستان نے دنیامیں امن کے لئے اٹھنے والے ہرقدم سے قدم ملایااورعالمی اداروں کے

شانہ بشانہ رہا۔خطے میں اسلحے کی دوڑ کاسبب بھارتی اجارہ داری اورعالمی قوتوں کی بھارت نوازی کاردِعمل ہے۔بھارت اورپاکستان کے ہمیشہ سے ہی تعلقات کشیدہ رہے ہیں اوربدقسمتی سے عالمی طاقتیں بھارت کے زیادہ قریب ہیں ۔بھارت پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے مگرپاکستان کی خارجہ پالیسی اورسفارکاری کمزورہے کہ پاکستان اپنامقدمہ مضبوطی سے نہیں لڑپایاحالانکہ ہمارے پاس کئی اہم ثبوت موجودہیں۔حالیہ دنوں میں امریکہ کاہمارے ساتھ تلخ رویہ ،بھارت کونیٹو میں شامل کرنے کی باتیں اوربھارت کوایٹمی اثاثوں میں اضافے کی اجازت یہ سب کچھ ہمارے لئے تشویش ناک ہے ۔پاکستان کی امدادکو کڑی شارئط سے مشروط کردیاگیاہے،ایف16کی عدم فراہمی اورملامنصورپرڈرون حملہ یہ ظاہرکرتاہے کہ آنے والاوقت ہمارے لئے کٹھن ہوسکتاہے۔دوسری طرف ہم خطے میں تنہاہورہے ہیں ،ایران بھارت اورافغانستان کے حالیہ معاہدے اورطالبان کے ایران وروس سے روابط ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں ۔چین سے تعلقات پرہمیں بڑازعم ہے مگر ہم یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ چین کے بھارت سے روابط بھی بہتر ہیں اوربھارت سے بھی ہماری طرح کے بلکہ ہم سے بھی زیادہ اقتصادی معاہدے موجود ہیں ۔چین نے مولانامسعوداظہر کے حوالے سے بھارتی قرارداد ویٹو تو کی مگر ہمیں بھی یہ پیغام دیاہے کہ ہم اس طرح کے مسائل خود حل کریں اوریہ بھی کہ پاکستان چین سے اس قدرتوقعات نہ رکھے جس پر ہم پورانہ اترسکیں یا پوراکرنے پرمشکلات کاسامنا کرناپڑے۔
اس28مئی کوہم یومِ تکبیر کی بجائے ’یومِ تفکر‘ کے طورپرمنائیں ۔ہم سوچیں کہ ہماری14,15سالہ دہشتگردی کے خلاف خدمات کاصلہ ہم سے بے رخی وبے اعتنائی کی صورت میں کیوں دیاجارہاہے۔؟ہم امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں مگرامریکہ کمال ڈھٹھائی کے ساتھ یہ اعلان کیوں کررہاہے کہ پاکستان پرڈرون حملے جاری رہیں گے۔؟ہزاروں قربانیوں اوراقتصادی نقصان کے باوجود ہم سے ڈومور کامطالبہ کیوں کیا جارہاہے ۔؟ہم خطے میں تنہاکیوں ہورہے ہیں اور ایران جوہماراتاریخی پڑوسی ہے وہ آج ہمارے مخالف کیمپ میں کیوں جارہاہے۔؟ہم افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت دونوں میں سے کسی کوبھی راضی کیوں نہ کرپائے ۔؟موجودہ انتظامیہ رہی تووہ ہم سے پہلے ہی ناراض اوربھارت کے قریب ہے اوراگرطالبان برسرِ اقتدار آتے ہیں تو وہ بھی ایران کے ذریعے بھارت کے قریب تر ہوگئے توہمارے ہاتھ کیاآئے گا۔؟ ہم ایٹمی قوت توہیں مگر امریکہ،بھارت ،ایران اورافغانستان ہماری سرحدی حدود اورخودمختاری کالحاظ کیوں نہیں رکھتے۔؟امریکہ توامریکہ رہا افغانستان جیسے کمزورملک کارویہ ہم سے ایک حاکم کاساکیوں ہوتاہے۔؟یہ وہ سوال ہیں جوہم جیسی ایٹمی قوت کے لئے لمحہ فکریہ ہیں اوران کے جواب ڈھونڈنا نہایت ضروری اوروقت کااہم تقاضا ہے۔ہمیں ان سوالوں کے جواب ڈھونڈ کر بہتر پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے اورافغانستان کے مستقبل کودیکھتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار اداکرناچاہئے ۔ڈبل گیم ترک کرکے افغان حکومت اورطالبان میں سے ایک فریق کاانتخاب کرناضروری ہے۔اسی طرح برادر ملک ایران سے تعلقات بھی اہم ہیں اورہمیں اپنے اس پڑوسی کومخالف کیمپ میں جانے سے روکنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔برابری کی بنیاد پربھارت اورامریکہ سے تعلقات قائم کرنے چاہئیں اوراپنی خودمختاری کوہرحال میں مقدم رکھناچاہئے ۔خارجہ پالیسی اورسفارتکاری کومضبوط بنیادوں پراستوارکرکے اپنے مثبت کرداراورپڑوسیوں کے منفی کردار کواجاگرکرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ہمیں خودکواتنامضبوط اور غیرت مند بناناہے کہ کوئی بھی ہماری سرحدوں کے تقدس کوپامال نہ کر پائے اوراگر کوئی ایسا کرے تو اسے منہ توڑ جواب دیاجائے تاکہ وہ یا کوئی اور ملک اس طرح کا قدم اٹھانے سے پہلے لاکھ بار سوچے۔
Post Views: 35
Tags: urdu column by umaar
Previous Post

PM Sharif’s message on Youm-e-Takbeer

Next Post

لیہ:ڈسٹرکٹ جیل لیہ میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی فرضی مشق

Next Post

لیہ:ڈسٹرکٹ جیل لیہ میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی فرضی مشق

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
یوم تکبیر ، یومِ تفکر
Umaar محمدعماراحمد ‘لیہ
یوں توہم برسوں سے 28مئی کویومِ تکبیرمناتے آرہے ہیں کہ اس دن ہم نے عالمی وعلاقائی غاصبوں کے تمام ترخدشات،تحفظات اوردھمکیوں کے باوجودوطنِ عزیز کودفاعی طورپرمستحکم کرنے کے لئے ایٹمی تجربات کئے ۔پاکستان اسلامی دنیاکی پہلی ایٹمی قوت جبکہ دنیا کی بڑی ایٹمی قوتوں میں سے ایک ہے۔پاکستان نے دنیامیں امن کے لئے اٹھنے والے ہرقدم سے قدم ملایااورعالمی اداروں کے
شانہ بشانہ رہا۔خطے میں اسلحے کی دوڑ کاسبب بھارتی اجارہ داری اورعالمی قوتوں کی بھارت نوازی کاردِعمل ہے۔بھارت اورپاکستان کے ہمیشہ سے ہی تعلقات کشیدہ رہے ہیں اوربدقسمتی سے عالمی طاقتیں بھارت کے زیادہ قریب ہیں ۔بھارت پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے مگرپاکستان کی خارجہ پالیسی اورسفارکاری کمزورہے کہ پاکستان اپنامقدمہ مضبوطی سے نہیں لڑپایاحالانکہ ہمارے پاس کئی اہم ثبوت موجودہیں۔حالیہ دنوں میں امریکہ کاہمارے ساتھ تلخ رویہ ،بھارت کونیٹو میں شامل کرنے کی باتیں اوربھارت کوایٹمی اثاثوں میں اضافے کی اجازت یہ سب کچھ ہمارے لئے تشویش ناک ہے ۔پاکستان کی امدادکو کڑی شارئط سے مشروط کردیاگیاہے،ایف16کی عدم فراہمی اورملامنصورپرڈرون حملہ یہ ظاہرکرتاہے کہ آنے والاوقت ہمارے لئے کٹھن ہوسکتاہے۔دوسری طرف ہم خطے میں تنہاہورہے ہیں ،ایران بھارت اورافغانستان کے حالیہ معاہدے اورطالبان کے ایران وروس سے روابط ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں ۔چین سے تعلقات پرہمیں بڑازعم ہے مگر ہم یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ چین کے بھارت سے روابط بھی بہتر ہیں اوربھارت سے بھی ہماری طرح کے بلکہ ہم سے بھی زیادہ اقتصادی معاہدے موجود ہیں ۔چین نے مولانامسعوداظہر کے حوالے سے بھارتی قرارداد ویٹو تو کی مگر ہمیں بھی یہ پیغام دیاہے کہ ہم اس طرح کے مسائل خود حل کریں اوریہ بھی کہ پاکستان چین سے اس قدرتوقعات نہ رکھے جس پر ہم پورانہ اترسکیں یا پوراکرنے پرمشکلات کاسامنا کرناپڑے۔ اس28مئی کوہم یومِ تکبیر کی بجائے ’یومِ تفکر‘ کے طورپرمنائیں ۔ہم سوچیں کہ ہماری14,15سالہ دہشتگردی کے خلاف خدمات کاصلہ ہم سے بے رخی وبے اعتنائی کی صورت میں کیوں دیاجارہاہے۔؟ہم امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں مگرامریکہ کمال ڈھٹھائی کے ساتھ یہ اعلان کیوں کررہاہے کہ پاکستان پرڈرون حملے جاری رہیں گے۔؟ہزاروں قربانیوں اوراقتصادی نقصان کے باوجود ہم سے ڈومور کامطالبہ کیوں کیا جارہاہے ۔؟ہم خطے میں تنہاکیوں ہورہے ہیں اور ایران جوہماراتاریخی پڑوسی ہے وہ آج ہمارے مخالف کیمپ میں کیوں جارہاہے۔؟ہم افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت دونوں میں سے کسی کوبھی راضی کیوں نہ کرپائے ۔؟موجودہ انتظامیہ رہی تووہ ہم سے پہلے ہی ناراض اوربھارت کے قریب ہے اوراگرطالبان برسرِ اقتدار آتے ہیں تو وہ بھی ایران کے ذریعے بھارت کے قریب تر ہوگئے توہمارے ہاتھ کیاآئے گا۔؟ ہم ایٹمی قوت توہیں مگر امریکہ،بھارت ،ایران اورافغانستان ہماری سرحدی حدود اورخودمختاری کالحاظ کیوں نہیں رکھتے۔؟امریکہ توامریکہ رہا افغانستان جیسے کمزورملک کارویہ ہم سے ایک حاکم کاساکیوں ہوتاہے۔؟یہ وہ سوال ہیں جوہم جیسی ایٹمی قوت کے لئے لمحہ فکریہ ہیں اوران کے جواب ڈھونڈنا نہایت ضروری اوروقت کااہم تقاضا ہے۔ہمیں ان سوالوں کے جواب ڈھونڈ کر بہتر پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے اورافغانستان کے مستقبل کودیکھتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار اداکرناچاہئے ۔ڈبل گیم ترک کرکے افغان حکومت اورطالبان میں سے ایک فریق کاانتخاب کرناضروری ہے۔اسی طرح برادر ملک ایران سے تعلقات بھی اہم ہیں اورہمیں اپنے اس پڑوسی کومخالف کیمپ میں جانے سے روکنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔برابری کی بنیاد پربھارت اورامریکہ سے تعلقات قائم کرنے چاہئیں اوراپنی خودمختاری کوہرحال میں مقدم رکھناچاہئے ۔خارجہ پالیسی اورسفارتکاری کومضبوط بنیادوں پراستوارکرکے اپنے مثبت کرداراورپڑوسیوں کے منفی کردار کواجاگرکرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ہمیں خودکواتنامضبوط اور غیرت مند بناناہے کہ کوئی بھی ہماری سرحدوں کے تقدس کوپامال نہ کر پائے اوراگر کوئی ایسا کرے تو اسے منہ توڑ جواب دیاجائے تاکہ وہ یا کوئی اور ملک اس طرح کا قدم اٹھانے سے پہلے لاکھ بار سوچے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.