مجھے لسانی بنیادوں پر صوبوں کے قیام کے مطالبے سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔ نہ میں مہاجر صوبے کا حامی ہوں اور نہ ہی میں نے کبھی سرائیکی صوبے کی حمایت کی، میں ہمیشہ لسانی تفریق سے بالاتر رہا ہوں۔ میں نے کبھی بھی نہ لسانی تعصبات کی بات کی، نہ صحافت میں اور نہ سیاست میں۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میری ترجیح ہمیشہ پاکستانیت رہی، پاکستان رہا۔ ہمارے اخبار ‘صبحِ پاکستان’ کی پیشانی پر لکھی جلی تحریر ‘پاکستانیت کا علمبردار’ ہماری اسی ترجیح، خواہش اور بیانیے کا اظہار ہے۔ لسانی صوبے سے فکری اور تنظیمی اختلاف کے باوجود میں سرائیکی وسیب کو تسلیم کرتا ہوں اور سرائیکی زبان سے مجھے پیار ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان کا سرائیکی وسیب میری جنم بھومی ہے اور سرائیکی زبان اردو کی طرح میری ماں بولی ہے۔
لسانی بنیادوں کی بجائے انتظامی بنیادوں پر صوبوں کے قیام کا مطالبہ ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے۔ دیرینہ اس تناظر میں کہ تحریکِ استقلال نے اپنے منشور میں بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی اور انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبوں کے قیام کا اعلان کیا تھا، یہ شاید 70 کے عشرے کی بات ہے۔ مرحوم شاہین سرائیکی کہا کرتے تھے کہ ‘میں پانچ ہزار سال سے سرائیکی ہوں’۔۔۔ ہوں گے۔۔۔ میں نے کبھی مرحوم کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ‘سرائیکی زبان’ اور ‘سرائیکی صوبے’ کی اصطلاحات کے باقاعدہ سیاسی و عوامی استعمال کا آغاز 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ون یونٹ ختم ہونے کے بعد ایک طرف ‘تحریکِ بحالی صوبہ بہاولپور’ زوروں پر تھی، تو دوسری طرف ملتان صوبے کے قیام کی سرگوشیاں بھی سننے کو ملتی تھیں۔ بہاولپور کی طرح ملتان صوبہ بھی اپنی تاریخی حیثیت کے پیشِ نظر ایک منفرد انتظامی اکائی کا درجہ رکھتا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان دونوں انتظامی مطالبات کو یکجا کر کے ایک لسانی یا جغرافیائی شناخت (سرائیکی وسیب) کے طور پر ابھارا گیا۔
لسانی سیاست اور لسانی صوبوں کے قیام سے سیاسی اختلاف کے باوجود، ایک سیاسی کارکن ہونے کی حیثیت سے میں نظریاتی سرائیکی قیادت کا ہمیشہ سے معترف رہا ہوں۔ اختلافات کے باوجود، تاج محمد لنگاہ، شاہین سرائیکی، اکرم میرانی، ظہور دھریجہ اور برکت اعوان جیسے سرائیکی وسیب کے نظریاتی رہنماؤں کی اپنی سیاسی و فکری سوچ سے سچی وابستگی، میرے دل میں ان دانشور رہنماؤں کی اہمیت اور عزت بڑھا دیتی ہے۔ فکری اختلافِ رائے کے باوجود مجھے ان دوستوں کی اپنے مقصد سے لگن، پُرخلوص، سچی اور ایماندارانہ جدوجہد کا ہمیشہ اعتراف رہا ہے۔
ایک وقت ایسا آیا جب پنجاب میں لسانی تعصبات خاصے زیرِ بحث رہے۔ پنجابی، سرائیکی، آبادکار اور مہاجر کے لسانی اختلافات کو ہوا دی گئی، لیکن لسانی بنیادوں پر اختلاف اور افتراق و تفریق کی ڈگڈگی بجانے والے انتشاری عناصر اپنے مذموم مقصد میں ناکام رہے۔ سرائیکی وسیب کے پُرامن، بھائی چارے پر یقین رکھنے والے محبِ وطن پاکستانیوں نے لسانی بنیادوں پر انتشار و افتراق کی اس سازش کو یکسر رد کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ گو مختلف ادوار میں قانون ساز اداروں میں نئے صوبے کے قیام کے مطالبے کو اٹھایا گیا، جیسے سابقہ تحریکِ انصاف کی حکومت میں ‘صوبہ جنوبی پنجاب’ کا ذکر سامنے آیا اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بھی قائم ہوا، لیکن کسی بھی سرکاری فورم پر ‘سرائیکی صوبہ’ کی آواز سنائی نہیں دی۔۔۔ اور نہ ہی کسی بڑی پولیٹیکل پارٹی نے ‘سرائیکی’ نام سے کسی صوبے کی حمایت کی، کیونکہ تمام جماعتی بیانیے لسانی تقسیم کے بجائے انتظامی بنیادوں پر ہی استوار رہے۔جنوبی پنجاب میں لسانی بنیادوں پر روہی تھل داماں کے نام پر بھی علاقائی تقسیم نمایاں نظر آتی ہے .جنوبی پنجاب میں بہاولپور , ملتان , سرائیکی اور تھل صوبوں کا مطالبہ اسی علاقائی فکری اختلاف کا مظہر ہے .شاید لسانی بنیادوں پر صوبوں کا مطالبہ کرنے والے مقامی سیاسی دھڑوں اور ذاتی شخصی اظہار کے لئےپیداکےجانےوالے سرائیکی وسیب میں اسی افتراق و انتشار کا نتیجہ ہے کہ لسانی بنیاد پر صوبوں کے مطالبہ کو نہ تو حکومت نے اور نہ ہی سیاسی قوتوں نے کبھی سیریس لیا .
’اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں‘ کے مصداق، سرائیکی صوبے کے کاز کو کمزور کرنے میں وسیب کے بعض دانشوروں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ دروغ بر گردنِ راوی، سال 2014 میں جنوبی پنجاب کے کچھ مخصوص افراد کی طرف سے سرائیکی صوبے کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے ‘تھل صوبہ’ کا شوشہ چھوڑا گیا۔ مختلف افراد اور تنظیموں کی طرف سے حکومتِ وقت کو تھل صوبے کی تجویز کے حق میں خطوط لکھے گئے اور یوں سرائیکی صوبے اور تھل صوبے کے اس مصنوعی تنازعے کی آڑ میں وسیب کی محرومی مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اس اندرونی تقسیم کی وجہ سے تھل اور اس سے جڑے اضلاع کے محروم عوام کو نہ تو ملتان کے ‘نشتر’ جیسا کوئی بڑا ہسپتال میسر آ سکا، نہ کوئی بڑی وومن یونیورسٹی بن سکی، اور نہ ہی ان پسماندہ علاقوں کو موٹروے یا ایئرپورٹ کے نیٹ ورک سے جوڑا جا سکا؛ یوں یہ پورا خطہ ترقی کی دوڑ میں دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔
یہاں یہ وضاحت بھی کرتا چلوں کہ ہم لسانی بنیادوں پر صوبوں کے قیام کے مخالف ہیں , انتظامی بنیادوں پر صوبوں کے قیام کا مطالبہ ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے ..ہماری تجویز ہے کہ حکومت ہر ڈویزن کو صوبہ کا درجہ دے دے . جنوبی پنجاب ہو یا تھل ..صوبہ بننا چاہے, تاکہ علاقائی تعمیر و ترقی کا سفر تیز ہو اور علاقائی محرومیوں کا خاتمہ ہو .








