ہماری مسلسل نالائقی کے باعث نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ زندگی کے جو فیصلے قرآن مجید کو پڑھ کر ، سمجھ کر اور عمل کے ذریعے کرنا تھے اور کرنا ہیں اب وہ محض قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر کئے جانے لگے ہیں ، اس بدنصیبی پر کیا نوحہ پڑھا جائے ۔
ہمارے معاملات جس قادر مطلق کے ہاتھ میں ہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے پھر ہمارا یوں بھٹکنا بتا رہا ہے کہ ہمارا ایمان کامل نہیں ہے ورنہ آئے دن کے نئے تجربات کرنے کی بجائے ہم تقویٰ کی راہ ہموار کرتے تو منزل خود بخود چل کر ہمارے قدموں میں آجاتی ،
یہ ہماری سادہ دلی ہے یا کچھ اور کہنا مناسب نہیں ، ہم پرنٹ میڈیا کے دور میں پیدا ہوئے اور اسی عہد میں نوکر سرکار، آج اتفاق سے 1941ء کا ایک اخباری تراشہ سامنے آیا جس میں لکھا تھا کہ امرتسر میں سونا دو روپے تولہ ہو گیا ہے ، یقین کریں کہ اپنی بے توقیری کے سارے زخم تازہ ہو گئے اور ہم مسلسل اپنے بڑوں بلکہ ان کے بڑوں کو کوسنے لگے کہ کاش وہ کسی طرح صرف ایک ، ایک ہزار روپے کا سونا لے کر محفوظ کرتے تو آج نہ صرف ہم بلکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی خوشحال خان یا خوشحال بھٹی ہوتیں ، تھوڑا سا اور آگے بڑھتے ہیں یہ زمانہ 1989ء کا ہے جب رقم طراز سرکار کے سکیل نمبر 17کے افسر بنے اس وقت سونا صرف ایک ہزار روپے تولہ تھا اور ہم بقلم خود تقریباً چار ہزار روپے تک کی ماہانہ تنخواہ پارہے تھے یعنی چار تولہ سونا خریدنے کی استطاعت تھی اور آج دو لاکھ روپے کمانے کے باوجود آدھا تولہ سونا بھی نہیں خرید سکتے ، ہماری بے توقیری کے چرچے بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں شاید افق تک ، عرشوں کا خالق ومالک ہمارا تماشہ دیکھ رہا ہے ،،یہ محض ہمارا ذاتی خسارہ نہیں بلکہ قومی بھی ہے کہ ہم سے بچھڑنے والے بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری سے سالانہ چالیس ارب کی برآمدات ہو رہی ہیں اور ہم شاید چار ارب بھی نہیں کما پاتے ۔
خیر ، کمانا تو ہم بھی چاہتے ہیں اور کمانا بھی جانتے ہیں ، کما رہے ہیں مگر اس سے کئی گنا زیادہ گنوا رہےہیں ہم کب سدھریں گے جہان بھر کے روز ،روز نئے تجربات سے استفادہ کرنے کی بیکار کوششوں کے سوا ہماری اپنی کوئی سوچ ، کوئی ترتیب اور کوئی تنظیم نہیں اسی لئے کوئی معقول نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ، آج ہم جو بو رہے ہیں اس میں کہیں ایمانداری ، نیک نیتی اور اخلاص تو ہے ہی نہیں ،اس کے بارے میں ہم سوچتے بھی نہیں جبکہ قرآن ہمیں بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے ،۔ تم فکر کیوں نہیں کرتے اور تم تسخیر کیوں نہیں کرتے ۔ ہم جو خود فریبی خود غرضی لالچ اور ناانصافی بوتے چلے آئے ہیں وہی کاٹنا پڑے گی اس لیے عرض ہے کہ
سوچ کر بویا کرو
کاٹنا بھی ہے کبھی ،،،
یہ کبھی ہم ہرروز دیکھ رہےہیں ،،، مگر پھر بھی ؟











