اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لیّہ جنوبی پنجاب کا ایک خوبصورت ترین شہر ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں شہر کے بنیادی ڈھانچے اور ظاہری منظرنامے کو تبدیل کرنے کے لیے نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔ شہر کی دو اہم داخلی سڑکیں مکمل طور پر کارپٹیڈ ہو چکی ہیں، جن میں کروڑ لعل عیسن سے لیّہ اور لیّہ سے کوٹ سلطان جانے والی دونوں بڑی سڑکیں شامل ہیں۔ دوسری طرف، لیّہ تا چوک اعظم دو رویہ سڑک گو کہ ابھی نا مکمل ہے، لیکن جتنی سڑک تعمیر ہو چکی ہے وہ دو رویہ (ڈبل روڈ) ہی ہے اور بہترین سفری سہولت فراہم کر رہی ہے۔
لیہ تونسہ پل کی اپروچ روڈ بھی ابھی بننا ہیں ، جب یہ منصوبہ مکمل ہو گا تو لیہ کا مغربی روٹ بھی مکمل ہو جاءے گا ۔چاروں طرف کار پیٹیٹد سڑکیں لیہ شہر کی مرکزیت اور خوبصورت میں اضا فہ کا سبب ہوں گی ۔
خاص طور پر چوک اعظم لیّہ روڈ کا داخلی راستہ (انٹرنس) اپنی بناوٹ میں خاصا خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اس دو رویہ سڑک پر ایک شاندار اور خوبصورت داخلی دروازہ (بابِ لیّہ) تعمیر کر رہی ہے، جس سے شہر کے حسن اور وقار میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، اس مختصر سی دو رویہ سڑک کے ہر چوک اور چوراہے کو سجانے، سنوارنے اور گرین بیلٹس بنانے پر خطیر رقم خرچ کی گئی ہے، جس نے دیکھنے والوں کو بے حد متاثر کیا ہے۔ اسی طرح شہر کی دیگر مرکزی شاہراہوں جیسے چوبارہ روڈ، کالج روڈ اور کچہری روڈ کی باقاعدہ مرمت، تزئین و آرائش اور صفائی ستھرائی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ شہر میں ‘ستھرا پنجاب’ مہم کے تحت ٹیمیں خاصی متحرک دکھائی دیتی ہیں اور محکمہ کے سینیٹری ورکرز دن رات اپنی ڈیوٹی میں سرگرمِ عمل نظر آتے ہیں، جو کہ یقیناً لائقِ تحسین ہے۔
لیکن اس چمک دمک کے پیچھے اندرونِ شہر کی گلیوں اور محلوں کی ابتر صورتحال بھی ایک کڑوا اور ناقابلِ تردید سچ ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی تمام تر توجہ صرف بیرونی سڑکوں پر مرکوز ہے، جبکہ مین روڈ سے جڑے پوش علاقے، جن میں ہاؤسنگ کالونی نمبر 1 اور 2، ٹی ڈی اے (TDA) کالونی اور ایمپلائز کالونی ، محلہ قادر آباد ، محلہ فیض آباد سمیت دیگر محلے اور شہر سے ملحقہ آبادیاں شامل ہیں، شدید نظر انداز ہو رہے ہیں۔ ان پوش علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر کے دیگر پرانے محلوں اور آبادیوں کی گلیاں طویل عرصے سے شکست و ریخت کا شکار ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جونہی کوئی شہری یا مسافر خوبصورت و چمکدار مین سڑک کو چھوڑ کر گاڑی، رکشے یا پیدل ان ملحقہ محلوں کی گلیوں میں داخل ہوتا ہے، تو شہر کی ظاہری خوبصورتی کا سارا جادو ایک پل میں ہوا ہو جاتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے اندرونِ شہر کی گلیوں کی کوئی مرمت یا تعمیرِ نو نہیں کی گئی۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ان راستوں پر جا بجا گہرے گڑھے پڑے ہوئے ہیں، جو معمولی بارش میں جگہ جگہ تالاب کا منظر پیش کرتے ہیں۔ ان اکھڑی ہوئی گلیوں کی وجہ سے بزرگوں، بچوں اور خواتین کو آمد و رفت میں شدید دقت، ذہنی کوفت اور جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ ترقی کا پہیہ صرف بیرونی سڑکوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے
حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی اور غیر فعالیت کے باعث نچلی سطح پر عوام کے مسائل (جیسے نکاسی آب، پینے کا صاف پانی، اور سڑکوں کی مرمت) کی بروقت نشاندہی نہیں ہو پا رہی۔ اس خلا کے نتیجے میں سرکاری محکمے زمینی حقائق سے کٹ کر کام کرتے ہیں، جس سے ترقیاتی ترجیحات غیر متوازن ہو جاتی ہیں اور فنڈز کا درست استعمال ممکن نہیں رہتا۔ فوری طور پر لوکل باڈیز (Local Bodies) کے انتخابات کروائے جائیں تاکہ عوامی نمائندے براہ راست اپنے حلقوں کے مسائل حل کر سکیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پنجاب، ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر لیّہ اور بلدیہ (میونسپل کمیٹی) کے اعلیٰ حکام شہر کے اس سنگین مسئلے پر فوری طور پر نوٹس لیں۔ شہر کا حسن صرف بیرونی شاہراہوں کی چمک دمک سے نہیں، بلکہ اس کے باسیوں کو ملنے والی بنیادی سہولیات سے مشروط ہے۔
انتظامیہ سے گزارش ہے کہ فنڈز کا رخ اب صرف بیرونی دکھاوے سے ہٹا کر اندرونِ شہر کی گلیوں کی طرف موڑا جائے، اور ہاؤسنگ کالونیز سمیت تمام شہر کے محلوں کی سکشت و ریخت کا شکار گلیوں کی فوری تعمیرو مرمت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کیے جائیں، تاکہ لیّہ کے شہریوں کو اس روز روز کی تکلیف اور عذاب سے نجات مل سکے۔










