• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

لیّہ کی ترقی , حقائق , عوامی مطالبات و توقعات تحریر …انجم صحرائی

webmaster by webmaster
مئی 17, 2026
in کالم
0
لیّہ کی ترقی , حقائق , عوامی مطالبات و توقعات تحریر …انجم صحرائی

جنوبی پنجاب کا مرکزی شہر لیّہ بلاشبہ اپنی خوبصورتی اور تہذیب کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو گزشتہ انتخابات میں یہاں کے ووٹرز کا رجحان روایت شکن رہا۔ لیّہ کے عوام نے حکمران جماعت کے بجائے پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی دونوں اور صوبائی اسمبلی کی چاروں نشستیں پی ٹی آئی کے حصے میں آئیں۔ اگرچہ آزاد حیثیت میں جیتنے والے امیدوار اصغر گرمانی بعد ازاں حکمران جماعت میں شامل ہوئے، مگر تقدیر کا لکھا کہ انہیں ملک چھوڑنا پڑا اور یوں کوٹ سلطان کا حلقہ آج بھی عملی طور پر پارلیمانی نمائندگی سے محروم ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اپوزیشن کا گڑھ ہونے کے ناطے لیّہ کے عوام ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار تھے کہ شاید انہیں "حسنِ انتخاب” کی قیمت ترقیاتی کاموں میں نظراندازی کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ لیکن پنجاب حکومت نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔ سیاسی اختلافات کے باوجود لیّہ کی تعمیر و ترقی اور تزئین و آرائش حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی اور یہاں کے باسیوں کو کسی "سوتیلے پن” کا احساس نہیں ہونے دیا گیا۔
یہ لیّہ کی خوش قسمتی ہے کہ ہونے والے انتخابات کے بعد اسے یکے بعد دیگرے امیرا بیدار اور آصف ڈوگر جیسے متحرک اور باصلاحیت ڈپٹی کمشنرز میسر آئے۔ ان افسران کی شبانہ روز محنت شہر کی گلیوں اور چوراہوں میں بولتی نظر آتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ میرا ڈی سی آفس سے برسوں سے کوئی واسطہ نہیں رہا، نہ میری سابقہ ڈی سی سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی موجودہ صاحبِ اختیار سے کوئی شناسائی ہے؛ لیکن ایک شہری کی حیثیت سے لیّہ کی بدلتی ہوئی حالت دیکھ کر ان کی کارکردگی کو سراہنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔
پنجاب حکومت کے ادھورے منصوبے اب تکمیل کی جانب گامزن ہیں اور شہر کی صفائی و ستھرائی کا معیار دیدہ زیب ہے۔ اگرچہ بعض اوقات تکنیکی وجوہات کی بنا پر منصوبوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، لیکن یہ اطمینان بخش ہے کہ لیّہ کو اس کا جائز حق مل رہا ہے۔ جہاں منتخب نمائندے اپوزیشن میں رہتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا حق ادا کر رہے ہیں، وہیں حکومتِ پنجاب کی فراخدلی بھی قابلِ ستائش ہے جس نے ترقی کے پہیے کو رکنے نہیں دیا۔ اسی طرح مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی رکنِ اسمبلی بھی لیّہ کے مسائل کے لیے ایک موثر آواز ثابت ہو رہی ہیں۔
"تاہم، اس تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ‘سب اچھا ہے’؛ حقیقت یہ ہے کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ لیّہ میڈیکل کالج کا قیام، دریائی کٹاؤ سے متاثرہ افراد کی آباد کاری، موٹر وے کا تشنہ خواب اور وومن یونیورسٹی جیسے بڑے منصوبے ابھی کاغذوں سے نکل کر زمین پر مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر لیّہ تونسہ پل کی رابطہ سڑکوں کی تعمیر وہ دیرینہ عوامی مطالبہ ہے جو تاحال التوا کا شکار ہے۔ اب جبکہ وفاقی بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، اہلِ علاقہ کی نظریں وفاق پر جمی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت اس بجٹ میں لیّہ تونسہ پل کی اپروچ روڈز کے لیے خطیر فنڈز مختص کرے تاکہ اربوں روپے کی لاگت سے بننے والا یہ پل محض ایک یادگار بننے کے بجائے عملی طور پر آمد و رفت کا ذریعہ بنے۔ امید ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ‘لیّہ ڈویژن’ کے قیام سمیت ان عوامی منصوبوں کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر کے یہاں کے عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گی۔”
"مگر ان تمام مطالبات کی منظوری تب ہی ممکن ہے جب لیّہ کی تمام قیادت ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو۔ میں پہلے بھی یہ تجویز دے چکا ہوں کہ لیّہ کے تمام منتخب اراکینِ اسمبلی، سیاسی جماعتیں، وکلا برادری، صحافی اور سماجی فورمز ان دیرینہ مطالبات کے لیے ایک ‘متفقہ لائحہ عمل’ اختیار کریں۔ جب تک ہم مقامی سطح پر گروہی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک آواز نہیں بنیں گے، تب تک وفاقی اور صوبائی حلقوں میں ہمارے مسائل کو وہ اہمیت نہیں ملے گی جس کے ہم حقدار ہیں۔

Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

پریس کلب چوک اعظم کے زیر اہتمام معرکۂ حق سیمینار اور عظیم الشان تقریب کا انعقاد

Next Post

بڑھتی ہوئی طلاقیں — معاشرتی بحران یا اجتماعی غفلت؟؟؟؟؟ تحریر .. ارشاد حسین رونگھا

Next Post
بڑھتی ہوئی طلاقیں — معاشرتی بحران یا اجتماعی غفلت؟؟؟؟؟ تحریر .. ارشاد حسین رونگھا

بڑھتی ہوئی طلاقیں — معاشرتی بحران یا اجتماعی غفلت؟؟؟؟؟ تحریر .. ارشاد حسین رونگھا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

الطاف حسن قریشی  کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔  وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز
قومی/ بین الاقوامی خبریں

الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز

by webmaster
مئی 17, 2026
0

لاہور۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معروف بزرگ صحافی و’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیرالطاف حسن قریشی کے انتقال پر...

Read moreDetails
ملتان. حکومت کے عیدالاضحی پر صفائی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے احکامات

لاہور ۔جائیداد کے دستاویزات کے حصول کیلئے بائیو میٹرک تصدیق لازم ،پنجاب حکومت کا فیصلہ

مئی 12, 2026
معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل ,   ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل , ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

مئی 10, 2026
راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

اپریل 20, 2026
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
جنوبی پنجاب کا مرکزی شہر لیّہ بلاشبہ اپنی خوبصورتی اور تہذیب کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو گزشتہ انتخابات میں یہاں کے ووٹرز کا رجحان روایت شکن رہا۔ لیّہ کے عوام نے حکمران جماعت کے بجائے پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی دونوں اور صوبائی اسمبلی کی چاروں نشستیں پی ٹی آئی کے حصے میں آئیں۔ اگرچہ آزاد حیثیت میں جیتنے والے امیدوار اصغر گرمانی بعد ازاں حکمران جماعت میں شامل ہوئے، مگر تقدیر کا لکھا کہ انہیں ملک چھوڑنا پڑا اور یوں کوٹ سلطان کا حلقہ آج بھی عملی طور پر پارلیمانی نمائندگی سے محروم ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اپوزیشن کا گڑھ ہونے کے ناطے لیّہ کے عوام ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار تھے کہ شاید انہیں "حسنِ انتخاب" کی قیمت ترقیاتی کاموں میں نظراندازی کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ لیکن پنجاب حکومت نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔ سیاسی اختلافات کے باوجود لیّہ کی تعمیر و ترقی اور تزئین و آرائش حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی اور یہاں کے باسیوں کو کسی "سوتیلے پن" کا احساس نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ لیّہ کی خوش قسمتی ہے کہ ہونے والے انتخابات کے بعد اسے یکے بعد دیگرے امیرا بیدار اور آصف ڈوگر جیسے متحرک اور باصلاحیت ڈپٹی کمشنرز میسر آئے۔ ان افسران کی شبانہ روز محنت شہر کی گلیوں اور چوراہوں میں بولتی نظر آتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ میرا ڈی سی آفس سے برسوں سے کوئی واسطہ نہیں رہا، نہ میری سابقہ ڈی سی سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی موجودہ صاحبِ اختیار سے کوئی شناسائی ہے؛ لیکن ایک شہری کی حیثیت سے لیّہ کی بدلتی ہوئی حالت دیکھ کر ان کی کارکردگی کو سراہنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔ پنجاب حکومت کے ادھورے منصوبے اب تکمیل کی جانب گامزن ہیں اور شہر کی صفائی و ستھرائی کا معیار دیدہ زیب ہے۔ اگرچہ بعض اوقات تکنیکی وجوہات کی بنا پر منصوبوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، لیکن یہ اطمینان بخش ہے کہ لیّہ کو اس کا جائز حق مل رہا ہے۔ جہاں منتخب نمائندے اپوزیشن میں رہتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا حق ادا کر رہے ہیں، وہیں حکومتِ پنجاب کی فراخدلی بھی قابلِ ستائش ہے جس نے ترقی کے پہیے کو رکنے نہیں دیا۔ اسی طرح مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی رکنِ اسمبلی بھی لیّہ کے مسائل کے لیے ایک موثر آواز ثابت ہو رہی ہیں۔ "تاہم، اس تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ 'سب اچھا ہے'؛ حقیقت یہ ہے کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ لیّہ میڈیکل کالج کا قیام، دریائی کٹاؤ سے متاثرہ افراد کی آباد کاری، موٹر وے کا تشنہ خواب اور وومن یونیورسٹی جیسے بڑے منصوبے ابھی کاغذوں سے نکل کر زمین پر مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر لیّہ تونسہ پل کی رابطہ سڑکوں کی تعمیر وہ دیرینہ عوامی مطالبہ ہے جو تاحال التوا کا شکار ہے۔ اب جبکہ وفاقی بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، اہلِ علاقہ کی نظریں وفاق پر جمی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت اس بجٹ میں لیّہ تونسہ پل کی اپروچ روڈز کے لیے خطیر فنڈز مختص کرے تاکہ اربوں روپے کی لاگت سے بننے والا یہ پل محض ایک یادگار بننے کے بجائے عملی طور پر آمد و رفت کا ذریعہ بنے۔ امید ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 'لیّہ ڈویژن' کے قیام سمیت ان عوامی منصوبوں کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر کے یہاں کے عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گی۔" "مگر ان تمام مطالبات کی منظوری تب ہی ممکن ہے جب لیّہ کی تمام قیادت ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو۔ میں پہلے بھی یہ تجویز دے چکا ہوں کہ لیّہ کے تمام منتخب اراکینِ اسمبلی، سیاسی جماعتیں، وکلا برادری، صحافی اور سماجی فورمز ان دیرینہ مطالبات کے لیے ایک 'متفقہ لائحہ عمل' اختیار کریں۔ جب تک ہم مقامی سطح پر گروہی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک آواز نہیں بنیں گے، تب تک وفاقی اور صوبائی حلقوں میں ہمارے مسائل کو وہ اہمیت نہیں ملے گی جس کے ہم حقدار ہیں۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.