جنوبی پنجاب کا مرکزی شہر لیّہ بلاشبہ اپنی خوبصورتی اور تہذیب کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو گزشتہ انتخابات میں یہاں کے ووٹرز کا رجحان روایت شکن رہا۔ لیّہ کے عوام نے حکمران جماعت کے بجائے پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی دونوں اور صوبائی اسمبلی کی چاروں نشستیں پی ٹی آئی کے حصے میں آئیں۔ اگرچہ آزاد حیثیت میں جیتنے والے امیدوار اصغر گرمانی بعد ازاں حکمران جماعت میں شامل ہوئے، مگر تقدیر کا لکھا کہ انہیں ملک چھوڑنا پڑا اور یوں کوٹ سلطان کا حلقہ آج بھی عملی طور پر پارلیمانی نمائندگی سے محروم ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اپوزیشن کا گڑھ ہونے کے ناطے لیّہ کے عوام ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار تھے کہ شاید انہیں "حسنِ انتخاب” کی قیمت ترقیاتی کاموں میں نظراندازی کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ لیکن پنجاب حکومت نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔ سیاسی اختلافات کے باوجود لیّہ کی تعمیر و ترقی اور تزئین و آرائش حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی اور یہاں کے باسیوں کو کسی "سوتیلے پن” کا احساس نہیں ہونے دیا گیا۔
یہ لیّہ کی خوش قسمتی ہے کہ ہونے والے انتخابات کے بعد اسے یکے بعد دیگرے امیرا بیدار اور آصف ڈوگر جیسے متحرک اور باصلاحیت ڈپٹی کمشنرز میسر آئے۔ ان افسران کی شبانہ روز محنت شہر کی گلیوں اور چوراہوں میں بولتی نظر آتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ میرا ڈی سی آفس سے برسوں سے کوئی واسطہ نہیں رہا، نہ میری سابقہ ڈی سی سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی موجودہ صاحبِ اختیار سے کوئی شناسائی ہے؛ لیکن ایک شہری کی حیثیت سے لیّہ کی بدلتی ہوئی حالت دیکھ کر ان کی کارکردگی کو سراہنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔
پنجاب حکومت کے ادھورے منصوبے اب تکمیل کی جانب گامزن ہیں اور شہر کی صفائی و ستھرائی کا معیار دیدہ زیب ہے۔ اگرچہ بعض اوقات تکنیکی وجوہات کی بنا پر منصوبوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، لیکن یہ اطمینان بخش ہے کہ لیّہ کو اس کا جائز حق مل رہا ہے۔ جہاں منتخب نمائندے اپوزیشن میں رہتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا حق ادا کر رہے ہیں، وہیں حکومتِ پنجاب کی فراخدلی بھی قابلِ ستائش ہے جس نے ترقی کے پہیے کو رکنے نہیں دیا۔ اسی طرح مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی رکنِ اسمبلی بھی لیّہ کے مسائل کے لیے ایک موثر آواز ثابت ہو رہی ہیں۔
"تاہم، اس تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ‘سب اچھا ہے’؛ حقیقت یہ ہے کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ لیّہ میڈیکل کالج کا قیام، دریائی کٹاؤ سے متاثرہ افراد کی آباد کاری، موٹر وے کا تشنہ خواب اور وومن یونیورسٹی جیسے بڑے منصوبے ابھی کاغذوں سے نکل کر زمین پر مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر لیّہ تونسہ پل کی رابطہ سڑکوں کی تعمیر وہ دیرینہ عوامی مطالبہ ہے جو تاحال التوا کا شکار ہے۔ اب جبکہ وفاقی بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، اہلِ علاقہ کی نظریں وفاق پر جمی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت اس بجٹ میں لیّہ تونسہ پل کی اپروچ روڈز کے لیے خطیر فنڈز مختص کرے تاکہ اربوں روپے کی لاگت سے بننے والا یہ پل محض ایک یادگار بننے کے بجائے عملی طور پر آمد و رفت کا ذریعہ بنے۔ امید ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ‘لیّہ ڈویژن’ کے قیام سمیت ان عوامی منصوبوں کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر کے یہاں کے عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گی۔”
"مگر ان تمام مطالبات کی منظوری تب ہی ممکن ہے جب لیّہ کی تمام قیادت ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو۔ میں پہلے بھی یہ تجویز دے چکا ہوں کہ لیّہ کے تمام منتخب اراکینِ اسمبلی، سیاسی جماعتیں، وکلا برادری، صحافی اور سماجی فورمز ان دیرینہ مطالبات کے لیے ایک ‘متفقہ لائحہ عمل’ اختیار کریں۔ جب تک ہم مقامی سطح پر گروہی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک آواز نہیں بنیں گے، تب تک وفاقی اور صوبائی حلقوں میں ہمارے مسائل کو وہ اہمیت نہیں ملے گی جس کے ہم حقدار ہیں۔
الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز
لاہور۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معروف بزرگ صحافی و’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیرالطاف حسن قریشی کے انتقال پر...
Read moreDetails










