اسلام آباد جیسے ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ شہر میں طلاق کے مقدمات میں ہوشربا اضافہ نہ صرف ایک عددی حقیقت ہے بلکہ ایک گہرا معاشرتی المیہ بھی ہے۔ جب اعداد و شمار یہ بتائیں کہ ہر گھنٹے درجنوں طلاقیں رجسٹر ہو رہی ہیں، روزانہ سینکڑوں کیسز عدالتوں میں پہنچ رہے ہیں، اور ہزاروں گھر ہر ماہ ٹوٹ رہے ہیں، تو یہ صرف قانونی یا ذاتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو اس خطرناک رجحان کو جنم دے رہے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر، ہم اس کا حل کیسے تلاش کریں؟
طلاق یقیناً اسلام میں ایک جائز مگر ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس کی اجازت اس لیے دی گئی کہ اگر میاں بیوی کے درمیان نباہ ممکن نہ رہے تو وہ عزت کے ساتھ علیحدگی اختیار کر سکیں۔ لیکن جب یہی عمل معمول بنتا جائے، جلد بازی میں فیصلے ہونے لگیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ٹوٹنے لگیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ کہیں نہ کہیں بنیادی خرابی موجود ہے۔
سب سے پہلی اور اہم وجہ برداشت اور صبر کی کمی ہے۔ آج کا انسان تیز رفتار زندگی کا عادی ہو چکا ہے، جہاں ہر چیز فوری چاہیے۔ یہی جلد بازی رشتوں میں بھی در آئی ہے۔ معمولی اختلافات کو برداشت کرنے کی بجائے فوری علیحدگی کو حل سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ شادی ایک ایسا بندھن ہے جو وقت، قربانی، سمجھوتے اور صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ جب یہ عناصر ختم ہو جائیں تو رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کا بے جا استعمال ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے جہاں لوگوں کو قریب کیا، وہیں غلط فہمیاں، بے اعتمادی اور غیر ضروری موازنہ بھی پیدا کیا۔ دوسروں کی بظاہر خوشحال زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنا، یا شریکِ حیات پر بلاوجہ شک کرنا، تعلقات میں دراڑیں ڈال دیتا ہے۔ بعض اوقات آن لائن تعلقات حقیقی رشتوں کو متاثر کرتے ہیں، جو بالآخر طلاق پر منتج ہوتے ہیں۔
تیسری اہم وجہ معاشی دباؤ ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور مالی مشکلات نے گھریلو زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ جب گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے، تو چھوٹے چھوٹے مسائل بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مرد پر معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ اور عورت کی بڑھتی ہوئی توقعات، دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو خواتین کی خودمختاری اور شعور میں اضافہ ہے۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے کہ خواتین اب اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اور ظلم یا ناانصافی برداشت نہیں کرتیں۔ لیکن بعض اوقات معمولی اختلافات کو بھی ناقابل برداشت سمجھ کر علیحدگی کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے، جو کہ ایک انتہا پسندی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح مردوں میں بھی انا، غصہ اور عدم برداشت بڑھتا جا رہا ہے، جو رشتے کو برقرار رکھنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
خاندانی نظام کی کمزوری بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پہلے مشترکہ خاندانی نظام میں بزرگوں کی موجودگی مسائل کو سلجھانے میں مدد دیتی تھی۔ آج کل نیوکلئیر فیملی سسٹم میں میاں بیوی اکیلے ہوتے ہیں، اور رہنمائی یا ثالثی کا فقدان ہوتا ہے۔ نتیجتاً معمولی جھگڑے بھی سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
تعلیم کی کمی یا غلط سمت میں تعلیم بھی ایک عنصر ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ڈگریاں تو دے رہے ہیں مگر انہیں رشتوں کی اہمیت، برداشت، اور اخلاقیات نہیں سکھا رہے۔ شادی سے پہلے کوئی باقاعدہ رہنمائی یا کونسلنگ نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے نوجوان عملی زندگی کے تقاضوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کا حل کیا ہے؟
سب سے پہلے ہمیں انفرادی سطح پر اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ شادی کو ایک وقتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ ہمیں صبر، برداشت، اور معاف کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔ ہر اختلاف کا حل طلاق نہیں ہوتا، بلکہ بات چیت اور سمجھوتہ ہی اصل راستہ ہے۔
خاندانی سطح پر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ شادی سے پہلے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ زندگی صرف خوشیوں کا نام نہیں بلکہ آزمائشوں کا مجموعہ بھی ہے۔ اسی طرح شادی کے بعد بھی والدین کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں اور صرف مثبت رہنمائی فراہم کریں۔
ریاستی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فیملی کورٹس میں صرف کیسز نمٹانے کی بجائے مصالحتی کونسلنگ کو فروغ دیا جائے۔ ہر طلاق کے کیس سے پہلے لازمی کونسلنگ سیشنز رکھے جائیں تاکہ میاں بیوی کو صلح کا موقع مل سکے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ خاندانی اقدار کو فروغ دے، نہ کہ صرف سنسنی خیزی کو۔
علماء اور مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ وہ مساجد اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نکاح کی اصل روح، حقوق و فرائض، اور صبر و برداشت کی تعلیم دیں۔ اسلام نے میاں بیوی کے تعلق کو محبت، رحمت اور سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے، اور ہمیں اسی تعلیم کو اپنانا ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ طلاق میں اضافہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی زوال کی علامت ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ایک غیر مستحکم معاشرے میں پروان چڑھیں گی، جہاں رشتوں کی کوئی وقعت نہیں ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، اپنی اصلاح کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں رشتے مضبوط ہوں، برداشت عام ہو، اور محبت غالب ہو۔ کیونکہ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور جب بنیاد ہی کمزور ہو جائے تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز
لاہور۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معروف بزرگ صحافی و’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیرالطاف حسن قریشی کے انتقال پر...
Read moreDetails










