• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

بڑھتی ہوئی طلاقیں — معاشرتی بحران یا اجتماعی غفلت؟؟؟؟؟ تحریر .. ارشاد حسین رونگھا

webmaster by webmaster
مئی 17, 2026
in کالم
0
بڑھتی ہوئی طلاقیں — معاشرتی بحران یا اجتماعی غفلت؟؟؟؟؟ تحریر .. ارشاد حسین رونگھا

اسلام آباد جیسے ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ شہر میں طلاق کے مقدمات میں ہوشربا اضافہ نہ صرف ایک عددی حقیقت ہے بلکہ ایک گہرا معاشرتی المیہ بھی ہے۔ جب اعداد و شمار یہ بتائیں کہ ہر گھنٹے درجنوں طلاقیں رجسٹر ہو رہی ہیں، روزانہ سینکڑوں کیسز عدالتوں میں پہنچ رہے ہیں، اور ہزاروں گھر ہر ماہ ٹوٹ رہے ہیں، تو یہ صرف قانونی یا ذاتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو اس خطرناک رجحان کو جنم دے رہے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر، ہم اس کا حل کیسے تلاش کریں؟
طلاق یقیناً اسلام میں ایک جائز مگر ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس کی اجازت اس لیے دی گئی کہ اگر میاں بیوی کے درمیان نباہ ممکن نہ رہے تو وہ عزت کے ساتھ علیحدگی اختیار کر سکیں۔ لیکن جب یہی عمل معمول بنتا جائے، جلد بازی میں فیصلے ہونے لگیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ٹوٹنے لگیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ کہیں نہ کہیں بنیادی خرابی موجود ہے۔
سب سے پہلی اور اہم وجہ برداشت اور صبر کی کمی ہے۔ آج کا انسان تیز رفتار زندگی کا عادی ہو چکا ہے، جہاں ہر چیز فوری چاہیے۔ یہی جلد بازی رشتوں میں بھی در آئی ہے۔ معمولی اختلافات کو برداشت کرنے کی بجائے فوری علیحدگی کو حل سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ شادی ایک ایسا بندھن ہے جو وقت، قربانی، سمجھوتے اور صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ جب یہ عناصر ختم ہو جائیں تو رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کا بے جا استعمال ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے جہاں لوگوں کو قریب کیا، وہیں غلط فہمیاں، بے اعتمادی اور غیر ضروری موازنہ بھی پیدا کیا۔ دوسروں کی بظاہر خوشحال زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنا، یا شریکِ حیات پر بلاوجہ شک کرنا، تعلقات میں دراڑیں ڈال دیتا ہے۔ بعض اوقات آن لائن تعلقات حقیقی رشتوں کو متاثر کرتے ہیں، جو بالآخر طلاق پر منتج ہوتے ہیں۔
تیسری اہم وجہ معاشی دباؤ ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور مالی مشکلات نے گھریلو زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ جب گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے، تو چھوٹے چھوٹے مسائل بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مرد پر معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ اور عورت کی بڑھتی ہوئی توقعات، دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو خواتین کی خودمختاری اور شعور میں اضافہ ہے۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے کہ خواتین اب اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اور ظلم یا ناانصافی برداشت نہیں کرتیں۔ لیکن بعض اوقات معمولی اختلافات کو بھی ناقابل برداشت سمجھ کر علیحدگی کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے، جو کہ ایک انتہا پسندی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح مردوں میں بھی انا، غصہ اور عدم برداشت بڑھتا جا رہا ہے، جو رشتے کو برقرار رکھنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
خاندانی نظام کی کمزوری بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پہلے مشترکہ خاندانی نظام میں بزرگوں کی موجودگی مسائل کو سلجھانے میں مدد دیتی تھی۔ آج کل نیوکلئیر فیملی سسٹم میں میاں بیوی اکیلے ہوتے ہیں، اور رہنمائی یا ثالثی کا فقدان ہوتا ہے۔ نتیجتاً معمولی جھگڑے بھی سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
تعلیم کی کمی یا غلط سمت میں تعلیم بھی ایک عنصر ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ڈگریاں تو دے رہے ہیں مگر انہیں رشتوں کی اہمیت، برداشت، اور اخلاقیات نہیں سکھا رہے۔ شادی سے پہلے کوئی باقاعدہ رہنمائی یا کونسلنگ نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے نوجوان عملی زندگی کے تقاضوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کا حل کیا ہے؟
سب سے پہلے ہمیں انفرادی سطح پر اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ شادی کو ایک وقتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ ہمیں صبر، برداشت، اور معاف کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔ ہر اختلاف کا حل طلاق نہیں ہوتا، بلکہ بات چیت اور سمجھوتہ ہی اصل راستہ ہے۔
خاندانی سطح پر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ شادی سے پہلے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ زندگی صرف خوشیوں کا نام نہیں بلکہ آزمائشوں کا مجموعہ بھی ہے۔ اسی طرح شادی کے بعد بھی والدین کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں اور صرف مثبت رہنمائی فراہم کریں۔
ریاستی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فیملی کورٹس میں صرف کیسز نمٹانے کی بجائے مصالحتی کونسلنگ کو فروغ دیا جائے۔ ہر طلاق کے کیس سے پہلے لازمی کونسلنگ سیشنز رکھے جائیں تاکہ میاں بیوی کو صلح کا موقع مل سکے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ خاندانی اقدار کو فروغ دے، نہ کہ صرف سنسنی خیزی کو۔
علماء اور مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ وہ مساجد اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نکاح کی اصل روح، حقوق و فرائض، اور صبر و برداشت کی تعلیم دیں۔ اسلام نے میاں بیوی کے تعلق کو محبت، رحمت اور سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے، اور ہمیں اسی تعلیم کو اپنانا ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ طلاق میں اضافہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی زوال کی علامت ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ایک غیر مستحکم معاشرے میں پروان چڑھیں گی، جہاں رشتوں کی کوئی وقعت نہیں ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، اپنی اصلاح کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں رشتے مضبوط ہوں، برداشت عام ہو، اور محبت غالب ہو۔ کیونکہ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور جب بنیاد ہی کمزور ہو جائے تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

Post Views: 36
Tags: column by irshad ronga
Previous Post

لیّہ کی ترقی , حقائق , عوامی مطالبات و توقعات تحریر …انجم صحرائی

Next Post

کل کی "انجمن ستائش باہمی "آج کے "ٹرولنگ گروپ”۔۔ الاماں .تحریر ۔۔ انجم صحرائی

Next Post

کل کی "انجمن ستائش باہمی "آج کے "ٹرولنگ گروپ"۔۔ الاماں .تحریر ۔۔ انجم صحرائی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک
قومی/ بین الاقوامی خبریں

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

by webmaster
جولائی 11, 2026
0

کوئٹہ: پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ "آپریشن شعبان" بھرپور انداز میں...

Read moreDetails
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
نوجوان  سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

نوجوان سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

جون 25, 2026
اسلام آباد جیسے ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ شہر میں طلاق کے مقدمات میں ہوشربا اضافہ نہ صرف ایک عددی حقیقت ہے بلکہ ایک گہرا معاشرتی المیہ بھی ہے۔ جب اعداد و شمار یہ بتائیں کہ ہر گھنٹے درجنوں طلاقیں رجسٹر ہو رہی ہیں، روزانہ سینکڑوں کیسز عدالتوں میں پہنچ رہے ہیں، اور ہزاروں گھر ہر ماہ ٹوٹ رہے ہیں، تو یہ صرف قانونی یا ذاتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو اس خطرناک رجحان کو جنم دے رہے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر، ہم اس کا حل کیسے تلاش کریں؟ طلاق یقیناً اسلام میں ایک جائز مگر ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس کی اجازت اس لیے دی گئی کہ اگر میاں بیوی کے درمیان نباہ ممکن نہ رہے تو وہ عزت کے ساتھ علیحدگی اختیار کر سکیں۔ لیکن جب یہی عمل معمول بنتا جائے، جلد بازی میں فیصلے ہونے لگیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ٹوٹنے لگیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ کہیں نہ کہیں بنیادی خرابی موجود ہے۔ سب سے پہلی اور اہم وجہ برداشت اور صبر کی کمی ہے۔ آج کا انسان تیز رفتار زندگی کا عادی ہو چکا ہے، جہاں ہر چیز فوری چاہیے۔ یہی جلد بازی رشتوں میں بھی در آئی ہے۔ معمولی اختلافات کو برداشت کرنے کی بجائے فوری علیحدگی کو حل سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ شادی ایک ایسا بندھن ہے جو وقت، قربانی، سمجھوتے اور صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ جب یہ عناصر ختم ہو جائیں تو رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کا بے جا استعمال ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے جہاں لوگوں کو قریب کیا، وہیں غلط فہمیاں، بے اعتمادی اور غیر ضروری موازنہ بھی پیدا کیا۔ دوسروں کی بظاہر خوشحال زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنا، یا شریکِ حیات پر بلاوجہ شک کرنا، تعلقات میں دراڑیں ڈال دیتا ہے۔ بعض اوقات آن لائن تعلقات حقیقی رشتوں کو متاثر کرتے ہیں، جو بالآخر طلاق پر منتج ہوتے ہیں۔ تیسری اہم وجہ معاشی دباؤ ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور مالی مشکلات نے گھریلو زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ جب گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے، تو چھوٹے چھوٹے مسائل بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مرد پر معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ اور عورت کی بڑھتی ہوئی توقعات، دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو خواتین کی خودمختاری اور شعور میں اضافہ ہے۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے کہ خواتین اب اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اور ظلم یا ناانصافی برداشت نہیں کرتیں۔ لیکن بعض اوقات معمولی اختلافات کو بھی ناقابل برداشت سمجھ کر علیحدگی کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے، جو کہ ایک انتہا پسندی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح مردوں میں بھی انا، غصہ اور عدم برداشت بڑھتا جا رہا ہے، جو رشتے کو برقرار رکھنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ خاندانی نظام کی کمزوری بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پہلے مشترکہ خاندانی نظام میں بزرگوں کی موجودگی مسائل کو سلجھانے میں مدد دیتی تھی۔ آج کل نیوکلئیر فیملی سسٹم میں میاں بیوی اکیلے ہوتے ہیں، اور رہنمائی یا ثالثی کا فقدان ہوتا ہے۔ نتیجتاً معمولی جھگڑے بھی سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ تعلیم کی کمی یا غلط سمت میں تعلیم بھی ایک عنصر ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ڈگریاں تو دے رہے ہیں مگر انہیں رشتوں کی اہمیت، برداشت، اور اخلاقیات نہیں سکھا رہے۔ شادی سے پہلے کوئی باقاعدہ رہنمائی یا کونسلنگ نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے نوجوان عملی زندگی کے تقاضوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کا حل کیا ہے؟ سب سے پہلے ہمیں انفرادی سطح پر اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ شادی کو ایک وقتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ ہمیں صبر، برداشت، اور معاف کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔ ہر اختلاف کا حل طلاق نہیں ہوتا، بلکہ بات چیت اور سمجھوتہ ہی اصل راستہ ہے۔ خاندانی سطح پر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ شادی سے پہلے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ زندگی صرف خوشیوں کا نام نہیں بلکہ آزمائشوں کا مجموعہ بھی ہے۔ اسی طرح شادی کے بعد بھی والدین کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں اور صرف مثبت رہنمائی فراہم کریں۔ ریاستی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فیملی کورٹس میں صرف کیسز نمٹانے کی بجائے مصالحتی کونسلنگ کو فروغ دیا جائے۔ ہر طلاق کے کیس سے پہلے لازمی کونسلنگ سیشنز رکھے جائیں تاکہ میاں بیوی کو صلح کا موقع مل سکے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ خاندانی اقدار کو فروغ دے، نہ کہ صرف سنسنی خیزی کو۔ علماء اور مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ وہ مساجد اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نکاح کی اصل روح، حقوق و فرائض، اور صبر و برداشت کی تعلیم دیں۔ اسلام نے میاں بیوی کے تعلق کو محبت، رحمت اور سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے، اور ہمیں اسی تعلیم کو اپنانا ہوگا۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ طلاق میں اضافہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی زوال کی علامت ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ایک غیر مستحکم معاشرے میں پروان چڑھیں گی، جہاں رشتوں کی کوئی وقعت نہیں ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، اپنی اصلاح کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں رشتے مضبوط ہوں، برداشت عام ہو، اور محبت غالب ہو۔ کیونکہ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور جب بنیاد ہی کمزور ہو جائے تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.