• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

حکومت بتاءےکہ چینی کیوں مہنگی ہوئی اور سولر صارفین کے بل کیوں کاٹے جا رہے ہیں؟ ڈاکٹر مفتاع اسماعیل

webmaster by webmaster
مارچ 21, 2025
in First Page, قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
حکومت بتاءےکہ چینی کیوں مہنگی ہوئی اور سولر صارفین کے بل کیوں کاٹے جا رہے ہیں؟ ڈاکٹر مفتاع اسماعیل

کراچی {صبح پا کستان }حکومتی سولر پالیسی کے خلاف سیکٹری جنرل عوام پاکستان ڈاکٹر مفتاع اسماعیل کی پریس کانفرنس، کنوینئر کراچی شیخ صلاح الدین ، ناصرالدین محمود، اور ندیم اختر آرائیں بھی موجو تھے
پریس کانفرنس کے اہم نکات …
بجلی، چینی اور حکومتی پالیسیوں پر مفتاح اسماعیل کی کڑی تنقید

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام قرض لے کر گھروں میں سولر سسٹم لگانے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومت انہیں مفت بجلی لینے کا طعنہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام گھروں میں مفت بجلی استعمال نہیں کر رہے بلکہ سولر کے ذریعے مہنگی بجلی خرید رہے ہیں۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت 22 روپے فی یونٹ بجلی کو مہنگا قرار دے رہی ہے لیکن 60 روپے یونٹ والی بجلی کو مہنگا نہیں سمجھتی۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ عوام بجلی خریدیں، تو اسے سستی کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ لوگ بجلی خریدیں تو 70-60 روپے فی یونٹ کی قیمت ختم کرے۔

حکومتی نااہلی اور بجلی کا ضیاع
مفتاح اسماعیل نے الزام لگایا کہ بجلی کی تقسیم اور ترسیل کے دوران ڈسکوز 22 ہزار گیگاواٹ آور ضائع کر دیتی ہیں، لیکن حکومت کو یہ بوجھ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے بجلی چوری اور بلوں کی ریکوری میں ناکامی کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا خمیازہ 3 لاکھ صارفین بھگت رہے ہیں۔

سولر پر ٹیکس اور حکومتی معاہدہ توڑنے کا الزام
سابق وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت اب سولر سسٹم پر بھی ٹیکس لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ ہر گھر میں سولر سسٹم لازم ہوگا لیکن اب اپنا معاہدہ توڑ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صارفین کو سولر سسٹم کی خرید و فروخت پر بھی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ 44 روپے یونٹ پر 8 روپے ٹیکس اور تمام یونٹس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جا رہا ہے۔

چینی کی برآمد اور قیمتوں میں اضافہ
مفتاح اسماعیل نے چینی کی برآمد پر بھی سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف کی حکومت میں چینی برآمد ہوئی تو ہم نے اسے غلط پالیسی قرار دیا تھا، لیکن ن لیگی رہنماؤں نے کہا کہ یہ پالیسی شوگر مل مالکان کے دباؤ میں بنائی گئی۔ انہوں نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ اس بار چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کس کے دباؤ پر کیا گیا؟

مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو سے اوپر نہیں جائے گی، لیکن جب برآمد شروع ہوئی تو قیمت 115 روپے تھی، اور اب 175 روپے فی کلو ہو چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قوم کو بتایا جائے کہ چینی کیوں مہنگی ہوئی اور سولر صارفین کے بل کیوں کاٹے جا رہے ہیں؟

معاشی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر سخت اعتراض
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگی بجلی گھروں کی وجہ سے بحران پیدا ہوا، لیکن حکومت 60 روپے یونٹ والی بجلی کو مہنگا نہیں سمجھتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے غلط فیصلے عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں اور چند درجن افراد کی ناقص پالیسیوں کی قیمت پوری قوم چکا رہی ہے۔

انہوں نے حکومت پر جھوٹے اشتہارات چلانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ کہ لوگ مفت بجلی استعمال کر رہے ہیں، سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں لالچ کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے معاشی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

Post Views: 30
Tags: National News
Previous Post

معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے پرائس کنٹرول و کموڈیٹیز مینجمنٹ سلمیٰ بٹ کاایک روزہ دورہ لیہ

Next Post

لیّہ. جی پی او لیہ کے قریب فائرنگ,ایک شخص جاں بحق

Next Post
لیّہ. جی پی او لیہ کے قریب فائرنگ,ایک شخص جاں بحق

لیّہ. جی پی او لیہ کے قریب فائرنگ,ایک شخص جاں بحق

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

آئین کے  آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں 6 ماہ کےلیے فوج تعینات
قومی/ بین الاقوامی خبریں

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں 6 ماہ کےلیے فوج تعینات

by webmaster
اگست 22, 2026
0

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...

Read moreDetails
دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

اگست 2, 2026
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026

کراچی {صبح پا کستان }حکومتی سولر پالیسی کے خلاف سیکٹری جنرل عوام پاکستان ڈاکٹر مفتاع اسماعیل کی پریس کانفرنس، کنوینئر کراچی شیخ صلاح الدین ، ناصرالدین محمود، اور ندیم اختر آرائیں بھی موجو تھے
پریس کانفرنس کے اہم نکات …
بجلی، چینی اور حکومتی پالیسیوں پر مفتاح اسماعیل کی کڑی تنقید

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام قرض لے کر گھروں میں سولر سسٹم لگانے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومت انہیں مفت بجلی لینے کا طعنہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام گھروں میں مفت بجلی استعمال نہیں کر رہے بلکہ سولر کے ذریعے مہنگی بجلی خرید رہے ہیں۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت 22 روپے فی یونٹ بجلی کو مہنگا قرار دے رہی ہے لیکن 60 روپے یونٹ والی بجلی کو مہنگا نہیں سمجھتی۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ عوام بجلی خریدیں، تو اسے سستی کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ لوگ بجلی خریدیں تو 70-60 روپے فی یونٹ کی قیمت ختم کرے۔

حکومتی نااہلی اور بجلی کا ضیاع
مفتاح اسماعیل نے الزام لگایا کہ بجلی کی تقسیم اور ترسیل کے دوران ڈسکوز 22 ہزار گیگاواٹ آور ضائع کر دیتی ہیں، لیکن حکومت کو یہ بوجھ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے بجلی چوری اور بلوں کی ریکوری میں ناکامی کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا خمیازہ 3 لاکھ صارفین بھگت رہے ہیں۔

سولر پر ٹیکس اور حکومتی معاہدہ توڑنے کا الزام
سابق وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت اب سولر سسٹم پر بھی ٹیکس لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ ہر گھر میں سولر سسٹم لازم ہوگا لیکن اب اپنا معاہدہ توڑ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صارفین کو سولر سسٹم کی خرید و فروخت پر بھی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ 44 روپے یونٹ پر 8 روپے ٹیکس اور تمام یونٹس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جا رہا ہے۔

چینی کی برآمد اور قیمتوں میں اضافہ
مفتاح اسماعیل نے چینی کی برآمد پر بھی سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف کی حکومت میں چینی برآمد ہوئی تو ہم نے اسے غلط پالیسی قرار دیا تھا، لیکن ن لیگی رہنماؤں نے کہا کہ یہ پالیسی شوگر مل مالکان کے دباؤ میں بنائی گئی۔ انہوں نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ اس بار چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کس کے دباؤ پر کیا گیا؟

مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو سے اوپر نہیں جائے گی، لیکن جب برآمد شروع ہوئی تو قیمت 115 روپے تھی، اور اب 175 روپے فی کلو ہو چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قوم کو بتایا جائے کہ چینی کیوں مہنگی ہوئی اور سولر صارفین کے بل کیوں کاٹے جا رہے ہیں؟

معاشی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر سخت اعتراض
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگی بجلی گھروں کی وجہ سے بحران پیدا ہوا، لیکن حکومت 60 روپے یونٹ والی بجلی کو مہنگا نہیں سمجھتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے غلط فیصلے عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں اور چند درجن افراد کی ناقص پالیسیوں کی قیمت پوری قوم چکا رہی ہے۔

انہوں نے حکومت پر جھوٹے اشتہارات چلانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ کہ لوگ مفت بجلی استعمال کر رہے ہیں، سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں لالچ کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے معاشی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.