• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

وزیراعظم ، وزیراعلیٰ کا دورہ لیہ۔۔ کیا کھویا کیا پایا. عمران شاہ

webmaster by webmaster
مارچ 1, 2020
in کالم
0
وزیراعظم ، وزیراعلیٰ کا دورہ لیہ۔۔ کیا کھویا کیا پایا. عمران شاہ

پاکستان تحریک انصاف کی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد آخر کار رنگ لے آئی اور 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وفاق، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں، پی ٹی آی برسرِ اقتدار آگئی،  اس کامیابی کی سب بڑی وجہ پی ٹی آئی کی جانب سے عوام کے لیے تبدیلی کا نعرہ تھا، حالانکہ اس جماعت نے بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ایلیکٹیبلز کی روایتی سیاست کا سہارا لیا، بہت سے حلقوں میں پرانے سیاسی پہلوانوں نے ہوا کا رخ بھانپتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور ان کو بڑی گرم جوشی سے پارٹی میں شامل کیا گیا مطلب نہ نظام بدلا نہ چہرے بدلے اگر بدلا تو سیاسی پارٹی کا نام بدلا، جیسے کہ پرانی سگریٹ کو نئی پیکنگ میں پیش کردیا جائے، مگر پھر بھی عوام نے پی ٹی آئی کی حکومت سے امیدیں وابستہ رکھیں، تحریک انصاف نے اپنی الیکشن کمپین میں جنوبی پنجاب کو ترجیحی بنیادوں پر پر الگ صوبہ بنانے کے حوالے سے وعدہ کیا، جس وعدے کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب کی عوام نے بھرپور مینڈیٹ دیا، وقت کے ساتھ ساتھ موجودہ حکمران جماعت کو اپنے کیے گئے بہت سے ارادوں کے برعکس جانا پڑا،جیسا کہ انکے سیاسی قائدین اپنے انتخابی جلوسوں میں کہتے دکھائی دیتے تھے کہ ہم IMF  کے پاس کبھی نہیں جائیں گے مگر پھر سب نے دیکھا کہ حکومت نے IMF سے مشکل شرائط پر قرضہ حاصل کیا، جس کے انہوں یہ دلائل دیے کہ وقت کا تقاضا ہے، معاشی بحران ہے، مجبوری ہے، سو عوام نے اپنے حکمرانوں کے فیصلوں پر سر تسلیم خم کیا، مگر اب اس حکومت کا دوسرا سال مکمل ہونے کو آیا ہے، مہنگائی اپنے عروج پر ہے، بجلی مہنگی، پٹرول مہنگا، چینی اور آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا، دوسری طرف ایوان اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی مراعات میں اضافے دیکھنے میں آئے اور ممبران اسمبلی و وزراء کے پروٹوکول پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں، تو ایسے میں عام آدمی کے دل میں ہزاروں سوال ایسے اٹھتے ہیں کہ کیا سارا بوجھ ہمارے ناتواں کندھوں نے اٹھانا ہے، موجودہ حکومت میں جنوبی پنجاب ایک بار پھر بری طرح سے نظر انداز کیا گیا، صرف وزیر اعلیٰ کے ذاتی حلقے میں ترقیاتی کام جاری و ساری ہیں، جب سے پاکستان تحریک انصاف کو حکمرانی ملی تھی اسی روز سے سننے میں آیا تھا کہ وزیراعلیٰ ہر ماہ پورے صوبے کہ کسی نہ کسی ضلع کا دورہ کیا کریں گے تاکہ اصلاح احوال ہو، مگر ایسا بھی نہ ہو سکا ضلع لیہ جو کہ ان کے حلقے کا ہمسایہ ضلع ہے وہاں تک انکی تشریف آوری نہ ہو سکی، آخرکا 21 فروری 2020 کو ضلع لیہ کی قسمت چمکی اور بیک وقت وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحب احساس پروگرام کے افتتاح کے لیے لیہ تشریف لائے، احساس پروگرام ایک بہت جامع حکمت عملی کے تحت وضع کیا گیا ہے جس کا مقصد غریب طبقے کو ایک باعزت روزگار فراہم کرنا ہے،  احساس پروگرام کا افتتاح اہلیان لیہ کے لیے نہایت خوش آئند تھا، ضلعی انتظامیہ نے اس ایونٹ کے لیے بہت بہترین انتظامات کیے تھے، مگر سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس ایونٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی ضلعی باڈی بالکل بے بس اور غیر فعال دکھائی دی، اور تو اور منتخب نمائندوں کو بھی ایونٹ ہال میں جانے کے لیے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑے، اہلیانِ لیہ کو اس تاریخ ساز جلسے سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، امید کی جارہی تھی کہ وزیراعظم پاکستان لیہ کو ڈویژن بنانے کی نوید سنائیں گے،  لیہ کی تھل یونیورسٹی کا اعلان فرمائیں گے جو کہ ویسے ہی گزشتہ دور حکومت کا پراجیکٹ تھا، چوک اعظم کا کو تحصیل کا درجہ دیا جائے گا، لیہ میں ماں بچے کی صحت کے ہسپتال کا اعلان ہوگا، لیکن ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں اور ہوا کچھ یوں کہ جیسا کہ مظفر گڑھ کی سیاست ہمیشہ سے تگڑی رہی اور مظفر گڑھ کے سیاست دانوں نے اپنے علاقے کی جنگ لڑی تو وہ اسی طرح لیہ میں کھڑے بازی لے گئے اور محترم وزیراعظم نے چوک سرور شہید کو تحصیلِ بنانے کا اعلان فرماء دیا، جس کے بعد سے آج تک لیہ کے تمام منتخب نمائندے اپنے حلقے کے لوگوں کے سامنے وضاحتیں پیش کرتے نظر آئے، کہا جاتاہے کہ سیاست میں وقت اور موقع دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں، بیچارے لیہ کے منتخب نمائندے ہمیشہ کی طرح موقع ہی گنوا بیٹھے اور منہ تکتے رہ گئے ، کچھ دانشوروں کا فرمانا ہے کہ یہ غیر سیاسی تقریب تھی، تو اگر ایسا تھا تو یہاں چوک سرور شہید کا اعلان کیوں کیا گیا، تقریب کے فوراً بعد ایک زبردست ہلچل دیکھنے میں آئی، اور تمام منتخب نمائندے اکٹھے ہو کر وزیر اعلیٰ پنجاب کے حضور پیش ہوگئے کہ آقا لیہ تشریف لائیں اور ہماری فیس سیونگ کریں ورنہ ہماری سیاست تباہ ہو جائے گی جس پر محترم وزیراعلیٰ نے تاریخ پر تاریخ، تاریخ پر تاریخ کے مصداق ایک کے بعد ایک تاریخ دینا شروع کی ہوئی ہے خدا کرے کہ وہ جلد تشریف لے آئیں ، بے شک اس تقریب اور اعلیٰ شخصیات کی آمد کے ثمرات اپنی جگہ ہونگے مگر اہلیان لیہ میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور وہ اپنے منتخب کردہ سیاسی نمائندوں سے سوال کر رہے ہیں کہ ان کے ضلع کو کیا حاصل ہوا تحریک انصاف کے دور میں….. سوال تو بنتا ہے، کیا اب بھی ہمارے سیاست دان روایتی سیاست پر اکتفا کریں گے یا پھر اپنے وقار کو اجاگر کرنے کے لیے جو وقت ان کے پاس بچا ہے اس میں ضلع لیہ کے لیے کوئی تاریخی اور ٹھوس اقدامات سرانجام دیں گے…

Tags: column by imran shah
Previous Post

لیہ ۔ دنیا و آخرت کی کامیابی تعلیمات نبی کریمؐ پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے ۔مفتی احمد رضا اعظمی

Next Post

ڈیرہ غازی خان۔گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ورلڈ تھنکنگ ڈے کی تقریبات

Next Post
ڈیرہ غازی خان۔گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ورلڈ تھنکنگ ڈے کی تقریبات

ڈیرہ غازی خان۔گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ورلڈ تھنکنگ ڈے کی تقریبات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ،  معیشت کے استحکام  کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ، معیشت کے استحکام کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان

by webmaster
مارچ 10, 2026
0

اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال...

Read moreDetails
امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: انا للہ و انا الیہ راجعون

امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: انا للہ و انا الیہ راجعون

مارچ 1, 2026
ملتان ۔پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیرِ اہتمام پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی افسران کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ  کا انعقاد

ملتان ۔پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیرِ اہتمام پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی افسران کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

فروری 21, 2026
عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی

عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی

فروری 13, 2026
مریم نواز نے لاہور ڈویژن کا اجلاس بلالیا، آج پھر ریلی نکالیں گی

پنجاب بھر میں کھیلوں کے حوالے سے بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز

فروری 11, 2026
پاکستان تحریک انصاف کی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد آخر کار رنگ لے آئی اور 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وفاق، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں، پی ٹی آی برسرِ اقتدار آگئی،  اس کامیابی کی سب بڑی وجہ پی ٹی آئی کی جانب سے عوام کے لیے تبدیلی کا نعرہ تھا، حالانکہ اس جماعت نے بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ایلیکٹیبلز کی روایتی سیاست کا سہارا لیا، بہت سے حلقوں میں پرانے سیاسی پہلوانوں نے ہوا کا رخ بھانپتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور ان کو بڑی گرم جوشی سے پارٹی میں شامل کیا گیا مطلب نہ نظام بدلا نہ چہرے بدلے اگر بدلا تو سیاسی پارٹی کا نام بدلا، جیسے کہ پرانی سگریٹ کو نئی پیکنگ میں پیش کردیا جائے، مگر پھر بھی عوام نے پی ٹی آئی کی حکومت سے امیدیں وابستہ رکھیں، تحریک انصاف نے اپنی الیکشن کمپین میں جنوبی پنجاب کو ترجیحی بنیادوں پر پر الگ صوبہ بنانے کے حوالے سے وعدہ کیا، جس وعدے کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب کی عوام نے بھرپور مینڈیٹ دیا، وقت کے ساتھ ساتھ موجودہ حکمران جماعت کو اپنے کیے گئے بہت سے ارادوں کے برعکس جانا پڑا،جیسا کہ انکے سیاسی قائدین اپنے انتخابی جلوسوں میں کہتے دکھائی دیتے تھے کہ ہم IMF  کے پاس کبھی نہیں جائیں گے مگر پھر سب نے دیکھا کہ حکومت نے IMF سے مشکل شرائط پر قرضہ حاصل کیا، جس کے انہوں یہ دلائل دیے کہ وقت کا تقاضا ہے، معاشی بحران ہے، مجبوری ہے، سو عوام نے اپنے حکمرانوں کے فیصلوں پر سر تسلیم خم کیا، مگر اب اس حکومت کا دوسرا سال مکمل ہونے کو آیا ہے، مہنگائی اپنے عروج پر ہے، بجلی مہنگی، پٹرول مہنگا، چینی اور آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا، دوسری طرف ایوان اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی مراعات میں اضافے دیکھنے میں آئے اور ممبران اسمبلی و وزراء کے پروٹوکول پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں، تو ایسے میں عام آدمی کے دل میں ہزاروں سوال ایسے اٹھتے ہیں کہ کیا سارا بوجھ ہمارے ناتواں کندھوں نے اٹھانا ہے، موجودہ حکومت میں جنوبی پنجاب ایک بار پھر بری طرح سے نظر انداز کیا گیا، صرف وزیر اعلیٰ کے ذاتی حلقے میں ترقیاتی کام جاری و ساری ہیں، جب سے پاکستان تحریک انصاف کو حکمرانی ملی تھی اسی روز سے سننے میں آیا تھا کہ وزیراعلیٰ ہر ماہ پورے صوبے کہ کسی نہ کسی ضلع کا دورہ کیا کریں گے تاکہ اصلاح احوال ہو، مگر ایسا بھی نہ ہو سکا ضلع لیہ جو کہ ان کے حلقے کا ہمسایہ ضلع ہے وہاں تک انکی تشریف آوری نہ ہو سکی، آخرکا 21 فروری 2020 کو ضلع لیہ کی قسمت چمکی اور بیک وقت وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحب احساس پروگرام کے افتتاح کے لیے لیہ تشریف لائے، احساس پروگرام ایک بہت جامع حکمت عملی کے تحت وضع کیا گیا ہے جس کا مقصد غریب طبقے کو ایک باعزت روزگار فراہم کرنا ہے،  احساس پروگرام کا افتتاح اہلیان لیہ کے لیے نہایت خوش آئند تھا، ضلعی انتظامیہ نے اس ایونٹ کے لیے بہت بہترین انتظامات کیے تھے، مگر سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس ایونٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی ضلعی باڈی بالکل بے بس اور غیر فعال دکھائی دی، اور تو اور منتخب نمائندوں کو بھی ایونٹ ہال میں جانے کے لیے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑے، اہلیانِ لیہ کو اس تاریخ ساز جلسے سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، امید کی جارہی تھی کہ وزیراعظم پاکستان لیہ کو ڈویژن بنانے کی نوید سنائیں گے،  لیہ کی تھل یونیورسٹی کا اعلان فرمائیں گے جو کہ ویسے ہی گزشتہ دور حکومت کا پراجیکٹ تھا، چوک اعظم کا کو تحصیل کا درجہ دیا جائے گا، لیہ میں ماں بچے کی صحت کے ہسپتال کا اعلان ہوگا، لیکن ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں اور ہوا کچھ یوں کہ جیسا کہ مظفر گڑھ کی سیاست ہمیشہ سے تگڑی رہی اور مظفر گڑھ کے سیاست دانوں نے اپنے علاقے کی جنگ لڑی تو وہ اسی طرح لیہ میں کھڑے بازی لے گئے اور محترم وزیراعظم نے چوک سرور شہید کو تحصیلِ بنانے کا اعلان فرماء دیا، جس کے بعد سے آج تک لیہ کے تمام منتخب نمائندے اپنے حلقے کے لوگوں کے سامنے وضاحتیں پیش کرتے نظر آئے، کہا جاتاہے کہ سیاست میں وقت اور موقع دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں، بیچارے لیہ کے منتخب نمائندے ہمیشہ کی طرح موقع ہی گنوا بیٹھے اور منہ تکتے رہ گئے ، کچھ دانشوروں کا فرمانا ہے کہ یہ غیر سیاسی تقریب تھی، تو اگر ایسا تھا تو یہاں چوک سرور شہید کا اعلان کیوں کیا گیا، تقریب کے فوراً بعد ایک زبردست ہلچل دیکھنے میں آئی، اور تمام منتخب نمائندے اکٹھے ہو کر وزیر اعلیٰ پنجاب کے حضور پیش ہوگئے کہ آقا لیہ تشریف لائیں اور ہماری فیس سیونگ کریں ورنہ ہماری سیاست تباہ ہو جائے گی جس پر محترم وزیراعلیٰ نے تاریخ پر تاریخ، تاریخ پر تاریخ کے مصداق ایک کے بعد ایک تاریخ دینا شروع کی ہوئی ہے خدا کرے کہ وہ جلد تشریف لے آئیں ، بے شک اس تقریب اور اعلیٰ شخصیات کی آمد کے ثمرات اپنی جگہ ہونگے مگر اہلیان لیہ میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور وہ اپنے منتخب کردہ سیاسی نمائندوں سے سوال کر رہے ہیں کہ ان کے ضلع کو کیا حاصل ہوا تحریک انصاف کے دور میں..... سوال تو بنتا ہے، کیا اب بھی ہمارے سیاست دان روایتی سیاست پر اکتفا کریں گے یا پھر اپنے وقار کو اجاگر کرنے کے لیے جو وقت ان کے پاس بچا ہے اس میں ضلع لیہ کے لیے کوئی تاریخی اور ٹھوس اقدامات سرانجام دیں گے...
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.