• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

اک اور کہانی ۔ ریاض بھٹی

webmaster by webmaster
فروری 13, 2020
in کالم
0
جھوکا ں تھیسن آباد ول  … تحریر . ریاض بھٹی

ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی،وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے،مسافر سمجھ کر خدمت کی،بادشاہ بہت خوش ہوا،جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے مہر والی انگوٹھی اتاری اور کہا:

تم مجھے نہیں جانتے ہوکہ میں بادشاہ ہوں۔یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو،جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا،دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا،ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا۔بادشاہ چلا گیا، کچھ عرصے کے بعد اس غریب کو کوئی ضرورت پیش آئی،تو وہ محل کے دروازے پر پہنچ گیا،کہا بادشاہ سے ملنا ہے، دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی،کہنے لگا نہیں مل سکتے،مفلس وقلاش آدمی۔ اس شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی،اب جودربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس؟

بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جولے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہو اسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے،چنانچہ دربان اسے ساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا،دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا،اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے،پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے،اس غریب کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا،
دربان نے کہا مل تو لو،کہا اب نہیں ملنا ہے،کام ہوگیا۔ اب واپس جاناہے،تھوڑی دور ہی چلا تھا کہ بادشاہ نماز و دعا سے فارغ ہوگیا
دربان نے کہاایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا
بادشاہ نے کہا فوراًلے کر آو وہ ہمارا محسن ہے،
اس غریب کو واپس لایا گیا، بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے،ایسے کیسے چلے گئے؟
اس غریب نے کہا کہ بادشاہ سلامت!اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کردیں گے۔مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آکر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں،تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔

آج بھی کہانی یہی ہے کہ امت مسلمہ کے تین ارب عوام کے چند حکمران دنیا کے چالیس فیصد قدرتی وسائل کے باوجود اغیار سے بھیک مانگتے پھر رہے ہیں. وہ جن کی اپنی زندگی شراب سے شروع ہو کر عذاب پر ختم ہو رہی ہے جنہیں دنیا میں آخرت سے بھی بدتر عذاب کا سامنا ہے ہمارے حکمران بار بار ان سے جھولی اور کشکول بڑھا کر اقتدار کے چند کھوٹے سکے لے کر تکریم و اطمینان محسوس کرتے ہیں جبکہ یہسچ بارہا ثابت ہو چکا ہے کہ یہود و ہنود ہمارے دوست نہیں ہوسکتے پھر بھی ہم عارضی اور جھوٹے اقتدار کی خاطر ہمیشہ ان کے دروں پر سرنگوں رہتے ہیں جبکہ پوری کائنات میں ایک ہی در ہے جو ہمیشہ کھلا رہتاہے کہ آؤ مانگنے والومجھ سے لے لو جو تمھیں دنیا وا ٓخرت میں مقصود ہے. کاش ہم اس سادہ سی کہانی کا عنوان اور متن خود ہی بن جائیں.

[email protected]

Post Views: 37
Tags: column by riyaz bhatti
Previous Post

کروڑ لعل عیسن ۔کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوامی مسا ئل سے آ گہی اور جلد انصاف فراہم کر نا ہے۔ڈی پی اومحمد حسن اقبال

Next Post

ملتان ۔ سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی ضمانت منظور

Next Post
ملتان ۔ سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی ضمانت منظور

ملتان ۔ سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی ضمانت منظور

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی،وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے،مسافر سمجھ کر خدمت کی،بادشاہ بہت خوش ہوا،جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے مہر والی انگوٹھی اتاری اور کہا: تم مجھے نہیں جانتے ہوکہ میں بادشاہ ہوں۔یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو،جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا،دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا،ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا۔بادشاہ چلا گیا، کچھ عرصے کے بعد اس غریب کو کوئی ضرورت پیش آئی،تو وہ محل کے دروازے پر پہنچ گیا،کہا بادشاہ سے ملنا ہے، دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی،کہنے لگا نہیں مل سکتے،مفلس وقلاش آدمی۔ اس شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی،اب جودربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس؟ بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جولے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہو اسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے،چنانچہ دربان اسے ساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا،دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا،اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے،پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے،اس غریب کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نے کہا مل تو لو،کہا اب نہیں ملنا ہے،کام ہوگیا۔ اب واپس جاناہے،تھوڑی دور ہی چلا تھا کہ بادشاہ نماز و دعا سے فارغ ہوگیا دربان نے کہاایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا بادشاہ نے کہا فوراًلے کر آو وہ ہمارا محسن ہے، اس غریب کو واپس لایا گیا، بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے،ایسے کیسے چلے گئے؟ اس غریب نے کہا کہ بادشاہ سلامت!اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کردیں گے۔مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آکر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں،تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔

آج بھی کہانی یہی ہے کہ امت مسلمہ کے تین ارب عوام کے چند حکمران دنیا کے چالیس فیصد قدرتی وسائل کے باوجود اغیار سے بھیک مانگتے پھر رہے ہیں. وہ جن کی اپنی زندگی شراب سے شروع ہو کر عذاب پر ختم ہو رہی ہے جنہیں دنیا میں آخرت سے بھی بدتر عذاب کا سامنا ہے ہمارے حکمران بار بار ان سے جھولی اور کشکول بڑھا کر اقتدار کے چند کھوٹے سکے لے کر تکریم و اطمینان محسوس کرتے ہیں جبکہ یہسچ بارہا ثابت ہو چکا ہے کہ یہود و ہنود ہمارے دوست نہیں ہوسکتے پھر بھی ہم عارضی اور جھوٹے اقتدار کی خاطر ہمیشہ ان کے دروں پر سرنگوں رہتے ہیں جبکہ پوری کائنات میں ایک ہی در ہے جو ہمیشہ کھلا رہتاہے کہ آؤ مانگنے والومجھ سے لے لو جو تمھیں دنیا وا ٓخرت میں مقصود ہے. کاش ہم اس سادہ سی کہانی کا عنوان اور متن خود ہی بن جائیں.

[email protected]

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.