• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ میں مجلس مباحثہ کا آغازایک مثبت عمل

webmaster by webmaster
اپریل 17, 2016
in First Page, کالم
0
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ میں مجلس مباحثہ کا آغازایک مثبت عمل
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ میں مجلس مباحثہ کا آغازایک مثبت عمل
رانا عبدالرب
03456150150
207671_151991284950166_279850410_nنائن الیون کا حادثہ عصر حاضر کا سب سے بڑا سانحہ ہے جس نے دنیا کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے مگراس واقعہ کے بعد وہ مذاہب جن کے پیروکاروں کے درمیان نفرت کی وسیع خلیج حائل ہوگئی تھی ان میں مکالمہ کی اشد ضرورت تھی مگر ہر دو نظریات کے دانشورحلقے اس ضرورت کو کماحقہ پورا کرنے سے قاصر رہے جس کی وجہ سے وہ چند چہرے جنھوں نے مذہب کا نقاب اوڑھ کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے جہاں سماج میں امن کے چہرے کو مسخ کرنے کی سعی کی وہاں ہر دومذاہب کے شدت پسند طبقات نے نفرت کی دیواریں اتنی اونچی کردیں جنھیں پھلانگنا ناممکن تھا۔اسی طرح کمیونزم کو بعض مذہبی شدت پسندوں نے غلط رنگ دیا حالاں کہ کمیونزم مساوات اور انسانیت کا

سب سے بڑا منبع ہے۔ جو کمیونزم کے پرچارک تھے انہوں نے مکالمہ اور بحث و مباحثہ کے ذریعے اِس کی تشریح نہ کی اور آج دنیا کی نظر میں کمیونزم ایک مخصوص’’ علامت ‘‘کے طور پر سمجھا اور جانا جاتا ہے۔
دہشت گردی کی جنگ میں ہم ڈیڑھ دہائی کا عرصہ گزار چکے ہیں مگر آج بھی ہمارے ہاں نہ تو کہیں مکالمہ کی سی کوئی فضا نظر آتی ہے اور نہ ہی کوئی بحث و مباحثہ ۔زندگی کے گرداب میں پھنساانسان بہت جلدی بہت کچھ حاصل کرنی کی ،سعی لاحاصل میں پڑا ہوا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ آنے والی نئی نسل کو کتنا پیچھے دھکیل رہا ہے کیوں کہ جس معاشرہ میں مکالمہ یا بحث ومباحثہ کی روایت دم توڑ جاتی ہے وہ معاشرہ آہستہ آہستہ سانس لینا چھوڑ دیتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ معاشرہ دم توڑ جاتا ہے۔ بلاشبہ مکالمہ کے فروغ سے ہی کسی معاشرہ میں شعوری ترقی کا جنم ہوتا ہے اوربحث و مباحثہ سے جہاں انسان ایک دوسرے کے خیالات سے ہم آہنگ ہوتا ہے وہاں تخلیق و تحقیق کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشرہ کبھی جمود کا شکار نہیں رہا کرتا ۔کہیں نہ کہیں ،کوئی نہ کوئی ایسا ’’کردار‘‘ضرور معاشرے میں قائم جمود کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔
ماضی میں سقراط،ارسطو،بیدل ،غالب،حالی،فیض احمد فیض،حبیب جالب،احسان دانش،ڈاکٹر خیال امروھوی ،نیلسن منڈیلاجیسے نامورلوگوں نے معاشرے میں ایک نئی روح Dr. Iftkhar Beg Sbپھونک کر سماج کو ایک ڈھب میں ڈھالا۔اس بار یہ بیڑا معروف شاعر،دانشور ومحقق ڈاکٹر افتخار بیگ نے معاشرے میں قائم جمود کو توڑنے کے لیے جہاں وعلم وآگہی کے دیپ جلائے وہاں طلبا و طالبات میں ’’بحث و مباحثہ‘‘کا آغاز کر کے ’’سوال‘‘اٹھانے سے ’’جواب‘‘کے ملنے تک کا جو سلسلہ شروع کیا وہ یقیناًقابل تحسین ہے۔
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ میں’’ مجلس مباحثہ ‘‘کا آغاز 25فروری 2016ء کو ہوا۔ اس کے اب تک 8اجلاس ہو چکے ہیں۔اس مجلس کے قیام میں کالج ہذا کے پرنسپل پروفیسرمہر اختر وہاب کی دلچسپی نے اہم کردار ادا کیا۔عہدیداران کا چناؤ ڈاکٹر افتخار بیگ نے کیا ۔مجلس مباحثہ کے عہدیداران میں مجاہد اقبال(صدر)عبدالرحمان احمد(جنرل سیکرٹری)عارف حسین(نائب صدر)صدیق احمد(جوائنٹ سیکرٹری)ہیں۔
مجلس مباحثہ کے اِن 8اجلاسوں میں جن جن طلبا نے حصہ لیا ان میں۔مجاہد اقبال(ایم۔اے اردو)عبدالرحمان(بی۔ایس سی )صدیق احمد(یم۔اے اردو)عارف حسین (ایم۔اے اردو)،عامر رضا(ایم۔اے اردو)سارہ اصغر(ایم۔اے اردو)مصباح نورین(ایم۔اے اردو)ثمینہ (ایم۔اے اردو)محمد اعظم (ایم۔اے اردو)سونیا کنول(ایم۔اے اردو)،مصباح ناز(ایم۔اے اردو) مزمل حسین (ایم۔اے اردو)،۔منزہ نذیر(ایم۔اے اردو)عرفات قیوم(ایم۔اے اردو)اقرارکنول(ایم۔اے اردو)شامل ہیں۔اگر دیکھا جائے تو اب تک کہ جوموضوعات اب تک زیر بحث لائے جا چکے ہیں وہ حالاتِ حاضرہ کے اہم موضاعات میں سے ہیں جیسا کہ ’’اسلام میں رواداری‘‘،حقوق نسواں‘‘،’’طلبا پڑھنا چاہتے ہیں ماحول میسرنہیں‘‘،’’اسلام معاشرتی رواداری کا درس دیتا ہے‘‘،’’کیا پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے‘‘،’’میں ٹیکس کیوں دوں‘‘،تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان‘‘شامل ہیں۔
بحث ومباحثہ سے جہاں مختلف موضوعات پر تعلیم یافتہ نئی نسل کو ہر دوفریقین سے کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا وہاں ایسی معلومات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکے گا جو ہماری اذہان کی آنکھوں سے بھی اوجھل ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ گورنمنٹ ونجی تعلیمی اداروں میں مکالمہ اور بحث ومباحثہ کو لازمی قرار دے تاکہ ہمارا معاشرہ ’’سوال‘‘سے ’’جواب‘‘تک پہنچ کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے۔
Post Views: 40
Previous Post

کرپشن زادے … تحریر: محمد شہروز

Next Post

لیہ ۔ ڈاکٹر افتخار بیگ کی کتاب اور ڈاکٹر حمید الفت ملغانی کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے پر تقریب کا نعقاد

Next Post

لیہ ۔ ڈاکٹر افتخار بیگ کی کتاب اور ڈاکٹر حمید الفت ملغانی کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے پر تقریب کا نعقاد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ میں مجلس مباحثہ کا آغازایک مثبت عمل رانا عبدالرب 03456150150 207671_151991284950166_279850410_nنائن الیون کا حادثہ عصر حاضر کا سب سے بڑا سانحہ ہے جس نے دنیا کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے مگراس واقعہ کے بعد وہ مذاہب جن کے پیروکاروں کے درمیان نفرت کی وسیع خلیج حائل ہوگئی تھی ان میں مکالمہ کی اشد ضرورت تھی مگر ہر دو نظریات کے دانشورحلقے اس ضرورت کو کماحقہ پورا کرنے سے قاصر رہے جس کی وجہ سے وہ چند چہرے جنھوں نے مذہب کا نقاب اوڑھ کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے جہاں سماج میں امن کے چہرے کو مسخ کرنے کی سعی کی وہاں ہر دومذاہب کے شدت پسند طبقات نے نفرت کی دیواریں اتنی اونچی کردیں جنھیں پھلانگنا ناممکن تھا۔اسی طرح کمیونزم کو بعض مذہبی شدت پسندوں نے غلط رنگ دیا حالاں کہ کمیونزم مساوات اور انسانیت کا
سب سے بڑا منبع ہے۔ جو کمیونزم کے پرچارک تھے انہوں نے مکالمہ اور بحث و مباحثہ کے ذریعے اِس کی تشریح نہ کی اور آج دنیا کی نظر میں کمیونزم ایک مخصوص’’ علامت ‘‘کے طور پر سمجھا اور جانا جاتا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں ہم ڈیڑھ دہائی کا عرصہ گزار چکے ہیں مگر آج بھی ہمارے ہاں نہ تو کہیں مکالمہ کی سی کوئی فضا نظر آتی ہے اور نہ ہی کوئی بحث و مباحثہ ۔زندگی کے گرداب میں پھنساانسان بہت جلدی بہت کچھ حاصل کرنی کی ،سعی لاحاصل میں پڑا ہوا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ آنے والی نئی نسل کو کتنا پیچھے دھکیل رہا ہے کیوں کہ جس معاشرہ میں مکالمہ یا بحث ومباحثہ کی روایت دم توڑ جاتی ہے وہ معاشرہ آہستہ آہستہ سانس لینا چھوڑ دیتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ معاشرہ دم توڑ جاتا ہے۔ بلاشبہ مکالمہ کے فروغ سے ہی کسی معاشرہ میں شعوری ترقی کا جنم ہوتا ہے اوربحث و مباحثہ سے جہاں انسان ایک دوسرے کے خیالات سے ہم آہنگ ہوتا ہے وہاں تخلیق و تحقیق کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشرہ کبھی جمود کا شکار نہیں رہا کرتا ۔کہیں نہ کہیں ،کوئی نہ کوئی ایسا ’’کردار‘‘ضرور معاشرے میں قائم جمود کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ماضی میں سقراط،ارسطو،بیدل ،غالب،حالی،فیض احمد فیض،حبیب جالب،احسان دانش،ڈاکٹر خیال امروھوی ،نیلسن منڈیلاجیسے نامورلوگوں نے معاشرے میں ایک نئی روح Dr. Iftkhar Beg Sbپھونک کر سماج کو ایک ڈھب میں ڈھالا۔اس بار یہ بیڑا معروف شاعر،دانشور ومحقق ڈاکٹر افتخار بیگ نے معاشرے میں قائم جمود کو توڑنے کے لیے جہاں وعلم وآگہی کے دیپ جلائے وہاں طلبا و طالبات میں ’’بحث و مباحثہ‘‘کا آغاز کر کے ’’سوال‘‘اٹھانے سے ’’جواب‘‘کے ملنے تک کا جو سلسلہ شروع کیا وہ یقیناًقابل تحسین ہے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ میں’’ مجلس مباحثہ ‘‘کا آغاز 25فروری 2016ء کو ہوا۔ اس کے اب تک 8اجلاس ہو چکے ہیں۔اس مجلس کے قیام میں کالج ہذا کے پرنسپل پروفیسرمہر اختر وہاب کی دلچسپی نے اہم کردار ادا کیا۔عہدیداران کا چناؤ ڈاکٹر افتخار بیگ نے کیا ۔مجلس مباحثہ کے عہدیداران میں مجاہد اقبال(صدر)عبدالرحمان احمد(جنرل سیکرٹری)عارف حسین(نائب صدر)صدیق احمد(جوائنٹ سیکرٹری)ہیں۔ مجلس مباحثہ کے اِن 8اجلاسوں میں جن جن طلبا نے حصہ لیا ان میں۔مجاہد اقبال(ایم۔اے اردو)عبدالرحمان(بی۔ایس سی )صدیق احمد(یم۔اے اردو)عارف حسین (ایم۔اے اردو)،عامر رضا(ایم۔اے اردو)سارہ اصغر(ایم۔اے اردو)مصباح نورین(ایم۔اے اردو)ثمینہ (ایم۔اے اردو)محمد اعظم (ایم۔اے اردو)سونیا کنول(ایم۔اے اردو)،مصباح ناز(ایم۔اے اردو) مزمل حسین (ایم۔اے اردو)،۔منزہ نذیر(ایم۔اے اردو)عرفات قیوم(ایم۔اے اردو)اقرارکنول(ایم۔اے اردو)شامل ہیں۔اگر دیکھا جائے تو اب تک کہ جوموضوعات اب تک زیر بحث لائے جا چکے ہیں وہ حالاتِ حاضرہ کے اہم موضاعات میں سے ہیں جیسا کہ ’’اسلام میں رواداری‘‘،حقوق نسواں‘‘،’’طلبا پڑھنا چاہتے ہیں ماحول میسرنہیں‘‘،’’اسلام معاشرتی رواداری کا درس دیتا ہے‘‘،’’کیا پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے‘‘،’’میں ٹیکس کیوں دوں‘‘،تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان‘‘شامل ہیں۔ بحث ومباحثہ سے جہاں مختلف موضوعات پر تعلیم یافتہ نئی نسل کو ہر دوفریقین سے کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا وہاں ایسی معلومات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکے گا جو ہماری اذہان کی آنکھوں سے بھی اوجھل ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ گورنمنٹ ونجی تعلیمی اداروں میں مکالمہ اور بحث ومباحثہ کو لازمی قرار دے تاکہ ہمارا معاشرہ ’’سوال‘‘سے ’’جواب‘‘تک پہنچ کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.