• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

سپریم کورٹ: آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

webmaster by webmaster
نومبر 28, 2019
in First Page, قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان کی بیوی بچوں کی تمام پراپرٹیز کا ریکارڈ مانگ لیا، پوری حکومت کے ہوش اڑا دیئے

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت کیس کا مختصر فیصلہ آج ہی سنائے گی۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینج نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا، جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا تو پنشن بھی نہیں مل سکتی۔ عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توسیع سے متعلق نوٹیفکیشن جبکہ جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے متعلق دستاویزات طلب کیں۔

وقفے کے بعد جب دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں، عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں، تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کر دی، کیا آرمی چیف کا عہدہ آج خالی ہے، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، آرمی چیف کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، آپ ادھر ادھر گھومتے رہے ہم نے کسی کو ایڈوائس نہیں کرنا، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا نئی تعیناتی آرٹیکل 243 ون بی کے تحت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مطمئن کرنا ہوگا اب ہونیوالی تعیناتی درست کیسے ہے ؟ اس عہدے کو پُر کرنا ہے تو ضابطے کے تحت کیا جانا چاہیے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا جو سمری پیش کی گئی اس میں تنخواہ اور مراعات کا ذکر نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا سمری میں اگر خلا رہ گیا ہے تو اسے بہتر کریں گے، بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب آپ نے سینے سے لگا کر رکھی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو، تین سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو، کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، ہمارا حق ہے کہ سوال پوچھیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے۔ جسٹس منصور علی خان کل آپ کہہ رہے تھے جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، پارلیمنٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں جو سسٹم ٹھیک کر سکے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا یہ بھی طے کر لیا جائے آئندہ توسیع ہو گی یا نئی تعیناتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا یہ بھی طے کر لیا جائے آئندہ توسیع ہو گی یا نئی تعیناتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ حکومت پہلی بار آئین پر واپس آئی ہے، جب کام آئین کے مطابق ہو تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید نے کہا آرٹیکل 243 میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں، 3 سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانونی نہیں، عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت کا ذکر نہ ہو تو حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے۔

Source: اصل میڈیا
Tags: National News
Previous Post

کروڑ لعل عیسن ۔جماعت اسلامی کے زیر اہتمام قرآن ریلی

Next Post

وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات، انتظامی تبدیلیوں پر اعتماد میں لیا

Next Post
وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات، انتظامی تبدیلیوں پر اعتماد میں لیا

وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات، انتظامی تبدیلیوں پر اعتماد میں لیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ،  معیشت کے استحکام  کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ، معیشت کے استحکام کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان

by webmaster
مارچ 10, 2026
0

اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال...

Read moreDetails
امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: انا للہ و انا الیہ راجعون

امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: انا للہ و انا الیہ راجعون

مارچ 1, 2026
ملتان ۔پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیرِ اہتمام پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی افسران کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ  کا انعقاد

ملتان ۔پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیرِ اہتمام پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی افسران کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

فروری 21, 2026
عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی

عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی

فروری 13, 2026
مریم نواز نے لاہور ڈویژن کا اجلاس بلالیا، آج پھر ریلی نکالیں گی

پنجاب بھر میں کھیلوں کے حوالے سے بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز

فروری 11, 2026
اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت کیس کا مختصر فیصلہ آج ہی سنائے گی۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینج نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا، جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا تو پنشن بھی نہیں مل سکتی۔ عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توسیع سے متعلق نوٹیفکیشن جبکہ جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے متعلق دستاویزات طلب کیں۔ وقفے کے بعد جب دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں، عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں، تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کر دی، کیا آرمی چیف کا عہدہ آج خالی ہے، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، آرمی چیف کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، آپ ادھر ادھر گھومتے رہے ہم نے کسی کو ایڈوائس نہیں کرنا، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا نئی تعیناتی آرٹیکل 243 ون بی کے تحت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مطمئن کرنا ہوگا اب ہونیوالی تعیناتی درست کیسے ہے ؟ اس عہدے کو پُر کرنا ہے تو ضابطے کے تحت کیا جانا چاہیے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا جو سمری پیش کی گئی اس میں تنخواہ اور مراعات کا ذکر نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا سمری میں اگر خلا رہ گیا ہے تو اسے بہتر کریں گے، بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب آپ نے سینے سے لگا کر رکھی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو، تین سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو، کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، ہمارا حق ہے کہ سوال پوچھیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے۔ جسٹس منصور علی خان کل آپ کہہ رہے تھے جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، پارلیمنٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں جو سسٹم ٹھیک کر سکے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا یہ بھی طے کر لیا جائے آئندہ توسیع ہو گی یا نئی تعیناتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا یہ بھی طے کر لیا جائے آئندہ توسیع ہو گی یا نئی تعیناتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ حکومت پہلی بار آئین پر واپس آئی ہے، جب کام آئین کے مطابق ہو تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید نے کہا آرٹیکل 243 میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں، 3 سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانونی نہیں، عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت کا ذکر نہ ہو تو حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.