• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

جواب دینے کا مقصد اہلیت بتانا، آئیں !عقل اور حکمت استعمال کرتے ہوئے مذاکرات سے مسائل حل کریں: وزیراعظم

webmaster by webmaster
فروری 27, 2019
in First Page, قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
جواب دینے کا مقصد اہلیت بتانا، آئیں !عقل اور حکمت استعمال کرتے ہوئے مذاکرات سے مسائل حل کریں: وزیراعظم

اسلام آباد . وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کے بعد جواب دینا ہماری مجبوری تھی اور اس کا مقصد اپنی صلاحیت بتانا تھا۔ انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں، تھوڑی سی عقل اور حکمت کا استعمال کریں، آئیں مذاکرات سے مسائل کو حل کرتے ہیں۔

ضرور پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ،وزیراعلیٰ اورآئی جی سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر7 روز میں ریکارڈ پیش کرنے کا حکم
تفصیلات کے مطابق قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے پلوامہ سانحہ کے بعد ہندوستان کو تحقیقاقت کی مکمل پیشکش کی۔ پلوامہ سانحہ میں جو ہلاکتیں ہوئیں، مجھے معلوم ہے کہ ان کے لواحقین کو کیسی تکلیف پہنچی ہو گی کیونکہ پاکستان میں 10 سال کے دوران 70 ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ان 10 سالوں کے دوران میں بہت سے ہسپتالوں میں گیا ہوں اور ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کے بازو نہیں، ٹانگیں نہیں، آنکھیں نہیں، اس لئے ہم نے سیدھا سیدھا ہندوستان کو پیشکش کی کہ کسی طرح کی بھی تحقیقات چاہتے ہیں اور اگر کوئی بھی پاکستانی ملوث ہے تو پاکستان پوری طرح تعاون کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ پیشکش صرف اس لئے کی کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں کہ ہماری زمین کسی کیخلاف استعمال کی جائے اور نہ ہی باہر سے کوئی پاکستان کی زمین استعمال کرے، لہٰذا اس حوالے سے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا لیکن پھر بھی ہم تیار تھے کیونکہ مجھے یہ خدشہ تھا کہ اس پیشکش کے باوجود ہندوستان نے کوئی ایکشن لینا ہے اور وہ اس لئے کیونکہ وہاں الیکشن ہو رہے ہیں، اور اسی لئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی جارحیت ہوئی تو جواب دینا مجبوری ہو گی کیونکہ کوئی بھی خودمختار ملک اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی اور ان کی حدود میں آ کر کارروائی کرے۔

ضرور پڑھیں: ”بھارت کو دی گئی دعوت واپس نہ ل گئی تو ۔۔“پاکستان نے او آئی سی کو خط لکھتے واضح اعلان کر دیا
وزیراعظم نے کہا کہ کل صبح جو کارروائی کی گئی اس کے بعد میری آرمی چیف اور ائیر چیف سے بات ہوئی اور کوئی الیکشن نہیں لیا کیونکہ ہمیں پوری طرح معلوم نہیں تھا کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور ایسے حالات میں کارروائی کرنا بھی غیر ذمہ داری ہوتی کہ ہمارے ہاں ہلاکتیں نہ ہوئی ہوں اور آپ کی ہلاکتیں ہو جائیں۔ ہم نے انتظار کیا اور پھر ایکشن لیا، ہم نے منصوبہ بنایا تھا کہ کوئی ہلاکتیں نہ ہوں اور صرف یہ بتا سکیں کہ ہمارے پاس اہلیت ہے، اگر آپ ہمارے ملک میں آ کر کارروائی کر سکتے ہیں تو ہم بھی آپ کے ملک میں جا کر کارروائی کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے سرحد کی خلاف ورزی کی جس پر ان کے طیارے گرائے گئے اور پائلٹ بھی ہمارے پاس ہیں۔ اب میں ہندوستان سے مخاطب ہو کر یہ کہتا ہوں کہ یہاں عقل اور حکمت استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ دنیا میں جتنی بھی دنیا میں جنگیں ہوئی ہیں ، سب میں غلط اندازے لگائے گئے اور کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ جنگ کدھر جائے گی۔ پہلی جنگ عظیم جسے 6 ماہ میں ختم ہونا تھا، اسے 6 سال لگ گئے، دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے سوچا کہ روس کو فتح کر لوں، ویت نام کی جنگ میں بھی غلط اندازے لگائے گئے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کیا امریکہ نے سوچا تھا کہ وہ 17 سال تک افغانستان میں پھنسے رہیں گے؟ دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگوں میں غلط اندازے لگائے جاتے ہیں۔ میں بھارتی حکومت سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جو ہتھیار آپ کے اور میرے پاس ہیں، کیا ہم غلط اندازوں کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ اگر یہ معاملہ یہاں سے آگے بڑھتا ہے تو پھر کہاں جائے گا؟ معاملہ میرے کنٹرول میں رہے گا اور نہ ہی مودی کے کنٹرول میں رہے گا، میں پھر سے دعوت دیتا ہوں کہ ہم سانحہ پلوامہ میں ہر طرح کے تعاون کیلئے اور دہشت گردی سمیت ہر معاملے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں ، اس وقت ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنے چاہئیں ۔

Post Views: 15
Tags: National News
Previous Post

بھارتی طیاروں کی دراندازی پرعسکری وسیاسی ردعمل .. محمدصدیق پرہار

Next Post

لیہ ۔ پولیس کمپلینٹ ہینڈلنگ سیل کی کا میابی ، زمین کا تنازعہ حل ،فریقین میں صلح

Next Post
لیہ ۔ پولیس کمپلینٹ ہینڈلنگ سیل کی کا میابی ، زمین کا تنازعہ حل ،فریقین میں صلح

لیہ ۔ پولیس کمپلینٹ ہینڈلنگ سیل کی کا میابی ، زمین کا تنازعہ حل ،فریقین میں صلح

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر  ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق  نے شہریوں کی شکایات سنیں
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق نے شہریوں کی شکایات سنیں

by webmaster
جون 14, 2026
0

لاہور{ صبح پا کستان} وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پروزیراعلی شکایات سیل کی ٹیم نے ضلع ملتان...

Read moreDetails
اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

جون 13, 2026
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

جون 10, 2026
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جون 7, 2026
ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام  دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

جون 4, 2026
اسلام آباد . وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کے بعد جواب دینا ہماری مجبوری تھی اور اس کا مقصد اپنی صلاحیت بتانا تھا۔ انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں، تھوڑی سی عقل اور حکمت کا استعمال کریں، آئیں مذاکرات سے مسائل کو حل کرتے ہیں۔ ضرور پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ،وزیراعلیٰ اورآئی جی سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر7 روز میں ریکارڈ پیش کرنے کا حکم تفصیلات کے مطابق قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے پلوامہ سانحہ کے بعد ہندوستان کو تحقیقاقت کی مکمل پیشکش کی۔ پلوامہ سانحہ میں جو ہلاکتیں ہوئیں، مجھے معلوم ہے کہ ان کے لواحقین کو کیسی تکلیف پہنچی ہو گی کیونکہ پاکستان میں 10 سال کے دوران 70 ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ان 10 سالوں کے دوران میں بہت سے ہسپتالوں میں گیا ہوں اور ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کے بازو نہیں، ٹانگیں نہیں، آنکھیں نہیں، اس لئے ہم نے سیدھا سیدھا ہندوستان کو پیشکش کی کہ کسی طرح کی بھی تحقیقات چاہتے ہیں اور اگر کوئی بھی پاکستانی ملوث ہے تو پاکستان پوری طرح تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ پیشکش صرف اس لئے کی کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں کہ ہماری زمین کسی کیخلاف استعمال کی جائے اور نہ ہی باہر سے کوئی پاکستان کی زمین استعمال کرے، لہٰذا اس حوالے سے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا لیکن پھر بھی ہم تیار تھے کیونکہ مجھے یہ خدشہ تھا کہ اس پیشکش کے باوجود ہندوستان نے کوئی ایکشن لینا ہے اور وہ اس لئے کیونکہ وہاں الیکشن ہو رہے ہیں، اور اسی لئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی جارحیت ہوئی تو جواب دینا مجبوری ہو گی کیونکہ کوئی بھی خودمختار ملک اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی اور ان کی حدود میں آ کر کارروائی کرے۔ ضرور پڑھیں: ”بھارت کو دی گئی دعوت واپس نہ ل گئی تو ۔۔“پاکستان نے او آئی سی کو خط لکھتے واضح اعلان کر دیا وزیراعظم نے کہا کہ کل صبح جو کارروائی کی گئی اس کے بعد میری آرمی چیف اور ائیر چیف سے بات ہوئی اور کوئی الیکشن نہیں لیا کیونکہ ہمیں پوری طرح معلوم نہیں تھا کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور ایسے حالات میں کارروائی کرنا بھی غیر ذمہ داری ہوتی کہ ہمارے ہاں ہلاکتیں نہ ہوئی ہوں اور آپ کی ہلاکتیں ہو جائیں۔ ہم نے انتظار کیا اور پھر ایکشن لیا، ہم نے منصوبہ بنایا تھا کہ کوئی ہلاکتیں نہ ہوں اور صرف یہ بتا سکیں کہ ہمارے پاس اہلیت ہے، اگر آپ ہمارے ملک میں آ کر کارروائی کر سکتے ہیں تو ہم بھی آپ کے ملک میں جا کر کارروائی کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے سرحد کی خلاف ورزی کی جس پر ان کے طیارے گرائے گئے اور پائلٹ بھی ہمارے پاس ہیں۔ اب میں ہندوستان سے مخاطب ہو کر یہ کہتا ہوں کہ یہاں عقل اور حکمت استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ دنیا میں جتنی بھی دنیا میں جنگیں ہوئی ہیں ، سب میں غلط اندازے لگائے گئے اور کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ جنگ کدھر جائے گی۔ پہلی جنگ عظیم جسے 6 ماہ میں ختم ہونا تھا، اسے 6 سال لگ گئے، دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے سوچا کہ روس کو فتح کر لوں، ویت نام کی جنگ میں بھی غلط اندازے لگائے گئے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کیا امریکہ نے سوچا تھا کہ وہ 17 سال تک افغانستان میں پھنسے رہیں گے؟ دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگوں میں غلط اندازے لگائے جاتے ہیں۔ میں بھارتی حکومت سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جو ہتھیار آپ کے اور میرے پاس ہیں، کیا ہم غلط اندازوں کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ اگر یہ معاملہ یہاں سے آگے بڑھتا ہے تو پھر کہاں جائے گا؟ معاملہ میرے کنٹرول میں رہے گا اور نہ ہی مودی کے کنٹرول میں رہے گا، میں پھر سے دعوت دیتا ہوں کہ ہم سانحہ پلوامہ میں ہر طرح کے تعاون کیلئے اور دہشت گردی سمیت ہر معاملے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں ، اس وقت ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنے چاہئیں ۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.