• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

ڈی پی او تبادلہ کیس؛ آئی جی پنجاب کو ایک ہفتے میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم

webmaster by webmaster
ستمبر 5, 2018
in قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
ڈی پی او تبادلہ کیس؛ آئی جی پنجاب کو ایک ہفتے میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ڈی پی او پاک پتن تبادلہ از خود نوٹس کیس میں آئی جی پنجاب کو ایک ہفتے میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کررہا ہے۔ عدالتی حکم پر خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا پیش ہوگئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ نے ڈی پی او کو وزیر اعلی ہاؤس جانے سے کیوں نہیں روکا، آپ وزیر اعلی ہاؤس میں بھی بات کر سکتے تھے کہ میرے افسر کو براہ راست نہ بلائیں۔ آپ نے کہا آج حاکم کے حکم کی تعمیل فرما دیں۔ جانتے ہیں اگر آپ نے بدنیتی اور ڈکٹیشن کی بنیاد پر حکم جاری کیا تو پھر کیا ہو گا؟۔
آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ میں عدالت کے رحم و کرم پر ہوں، میں اس وقت اسلام آباد میں تھا، مجھے جب بتایا گیا ڈی پی او راستے میں تھے۔ حالات کے تناظر میں مجھے حقائق جاننے کیلئے تحقیقات کروانا پڑی، ڈی پی او نے مجھ سے حقائق چھپائے، لڑکی کو روکنے اور چھوڑنے کے شواہد ملے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ فائل کہاں ہے جس میں ٹرانسفر کے احکامات ہیں، جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ زبانی حکم پر تبادلہ کیا گیا۔ عدالتی استفسار پر پی ایس او حیدر نے کہا کہ میں اس وقت وہاں موجود نہیں تھا، وزیر اعلی نے ڈی پی او اور آر پی او کو چائے کے لئے بلانے کے لئے کہا تھا۔ ڈی پی او کو فون تبادلے کا علم ہونے کے بعد کیا۔

چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ کے پی ایس او سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر آپ لوگوں کو بلاتے رہے، وزیراعلی عدالت میں کیوں موجود نہیں، وزیراعلی کیا خدا ہے، ہم وزیراعلی کو بھی بلائیں گے، یہ لوگ کون ہوتے ہیں ایسے حکم دینے والے۔ پولیس نے بیٹی کے وقار کو برقرار نہیں رکھا، پولیس افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، احسن جمیل کے خلاف بھی کارروائی ہو گی، جس نے وزیر اعلی سے رابطہ کر کے پولیس افسران کو دھکیلا۔

آئی ایس آئی کے کرنل طارق نے عدالت کو بتایا کہ رضوان گوندل اور میں ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں، مجھے ایک مشترکہ دوست نے واقعے کے بارے میں بتایا، میں نے رضوان گوندل کو ذاتی حیثیت میں فون کیا۔

خاور مانیکا نے عدالت کے روبرو بیٹی کے ساتھ پولیس کی بدتمیزی کا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران شراب پی کر ڈیوٹی کر رہے تھے، پاک پتن پہنچا تو بچی کانپ رہی تھی، میں نے ڈی پی او کو واقعے کے بارے میں بتایا لیکن انہوں نے 22 اگست تک کچھ نہیں کیا۔ جس پر چیف جسٹس نے خاور مانیکا سے واقعے پر معذرت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہر کوئی عدالت سے جھوٹ بول رہا ہے، آئی جی پنجاب وزیر اعلی ہاؤس کے معاملے پر مکمل تحقیقات کریں۔

سماعت سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے خاور مانیکا نے کہا کہ کیس پر کوئی بات نہیں کروں گا، جو بات ہوگی وہ عدالت میں ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس نے خاور مانیکا کے علاوہ احسن جمیل اقبال گجر، آئی جی پنجاب سید کلیم امام ، آرپی او ساہیوال ، ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابو بکر خدا بخش، وزیر اعلیٰ کے پی ایس او حیدر علی اور سی ایس او عمر کے علاوہ آئی ایس آئی کے کرنل طارق فیصل کو بھی طلب کیا تھا۔

Post Views: 10
Tags: National News
Previous Post

لیہ ۔مقتول محمد صادق کے قتل ملزمان سے 20 لا کھ روپے رشوت لے کر بے گناہ کر نے کا الزام ، مقتول کے ورثا ء کا پو لیس کے خلاف احتجاج

Next Post

مائی ماتاں مندر بھی تبدیلی کا منتظر ہے !!! خضرکلاسرا

Next Post
مائی ماتاں مندر بھی تبدیلی کا منتظر ہے !!! خضرکلاسرا

مائی ماتاں مندر بھی تبدیلی کا منتظر ہے !!! خضرکلاسرا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر  ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق  نے شہریوں کی شکایات سنیں
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق نے شہریوں کی شکایات سنیں

by webmaster
جون 14, 2026
0

لاہور{ صبح پا کستان} وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پروزیراعلی شکایات سیل کی ٹیم نے ضلع ملتان...

Read moreDetails
اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

جون 13, 2026
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

جون 10, 2026
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جون 7, 2026
ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام  دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

جون 4, 2026
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ڈی پی او پاک پتن تبادلہ از خود نوٹس کیس میں آئی جی پنجاب کو ایک ہفتے میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کررہا ہے۔ عدالتی حکم پر خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا پیش ہوگئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ نے ڈی پی او کو وزیر اعلی ہاؤس جانے سے کیوں نہیں روکا، آپ وزیر اعلی ہاؤس میں بھی بات کر سکتے تھے کہ میرے افسر کو براہ راست نہ بلائیں۔ آپ نے کہا آج حاکم کے حکم کی تعمیل فرما دیں۔ جانتے ہیں اگر آپ نے بدنیتی اور ڈکٹیشن کی بنیاد پر حکم جاری کیا تو پھر کیا ہو گا؟۔ آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ میں عدالت کے رحم و کرم پر ہوں، میں اس وقت اسلام آباد میں تھا، مجھے جب بتایا گیا ڈی پی او راستے میں تھے۔ حالات کے تناظر میں مجھے حقائق جاننے کیلئے تحقیقات کروانا پڑی، ڈی پی او نے مجھ سے حقائق چھپائے، لڑکی کو روکنے اور چھوڑنے کے شواہد ملے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ فائل کہاں ہے جس میں ٹرانسفر کے احکامات ہیں، جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ زبانی حکم پر تبادلہ کیا گیا۔ عدالتی استفسار پر پی ایس او حیدر نے کہا کہ میں اس وقت وہاں موجود نہیں تھا، وزیر اعلی نے ڈی پی او اور آر پی او کو چائے کے لئے بلانے کے لئے کہا تھا۔ ڈی پی او کو فون تبادلے کا علم ہونے کے بعد کیا۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ کے پی ایس او سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر آپ لوگوں کو بلاتے رہے، وزیراعلی عدالت میں کیوں موجود نہیں، وزیراعلی کیا خدا ہے، ہم وزیراعلی کو بھی بلائیں گے، یہ لوگ کون ہوتے ہیں ایسے حکم دینے والے۔ پولیس نے بیٹی کے وقار کو برقرار نہیں رکھا، پولیس افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، احسن جمیل کے خلاف بھی کارروائی ہو گی، جس نے وزیر اعلی سے رابطہ کر کے پولیس افسران کو دھکیلا۔ آئی ایس آئی کے کرنل طارق نے عدالت کو بتایا کہ رضوان گوندل اور میں ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں، مجھے ایک مشترکہ دوست نے واقعے کے بارے میں بتایا، میں نے رضوان گوندل کو ذاتی حیثیت میں فون کیا۔ خاور مانیکا نے عدالت کے روبرو بیٹی کے ساتھ پولیس کی بدتمیزی کا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران شراب پی کر ڈیوٹی کر رہے تھے، پاک پتن پہنچا تو بچی کانپ رہی تھی، میں نے ڈی پی او کو واقعے کے بارے میں بتایا لیکن انہوں نے 22 اگست تک کچھ نہیں کیا۔ جس پر چیف جسٹس نے خاور مانیکا سے واقعے پر معذرت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہر کوئی عدالت سے جھوٹ بول رہا ہے، آئی جی پنجاب وزیر اعلی ہاؤس کے معاملے پر مکمل تحقیقات کریں۔ سماعت سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے خاور مانیکا نے کہا کہ کیس پر کوئی بات نہیں کروں گا، جو بات ہوگی وہ عدالت میں ہوگی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس نے خاور مانیکا کے علاوہ احسن جمیل اقبال گجر، آئی جی پنجاب سید کلیم امام ، آرپی او ساہیوال ، ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابو بکر خدا بخش، وزیر اعلیٰ کے پی ایس او حیدر علی اور سی ایس او عمر کے علاوہ آئی ایس آئی کے کرنل طارق فیصل کو بھی طلب کیا تھا۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.