• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کل کی "انجمن ستائش باہمی "آج کے "ٹرولنگ گروپ”۔۔ الاماں …تحریر , انجم صحرائی

webmaster by webmaster
مئی 17, 2026
in کالم
0
کوٹ سلطان کے ملک کریم بخش کھوکھر , لیّہ یونیورسٹی اور بہادر ای لائبریری .. تحریر: انجم صحرائی

"ماضی قریب کی اصطلاح ‘انجمنِ ستائشِ باہمی’ اور آج کے سوشل میڈیا ‘ٹرولنگ گروپس’ کا مفہوم، کام اور کردار یقیناً ایک جیسا ہی ہے۔ گزرے زمانے میں ادبی نشستوں اور مشاعروں میں یہ انجمنیں زیادہ فعال ہوتی تھیں۔ اپنے گروپ کی واہ واہ کرنا اور مخالفین کی ہوٹنگ کرنا، لقمہ دینا، تمسخر اڑانا، پھبتیاں کسنا اور شور و غوغا کرنا انہی اراکینِ انجمن کی ذمہ داری ہوتی تھی۔
وقت بدلا، تو نہ نگر نگر ہونے والے وہ مشاعرے رہے، نہ وہ سامعین اور نہ ہی ‘انجمنِ ستائشِ باہمی’ کے وہ منظم ادبی تخریب کار! اب ڈیجیٹل سرگرمیوں کا دور آ گیا ہے اور مشاعرے بھی آن لائن ہونے لگے ہیں۔ اب نہ کسی بزم کا جھنجٹ ہے، نہ سامعین کی واہ واہ اور مکررمکرر کی صدائیں، اور نہ ہی ہوٹنگ یا بے ہنگم شور شرابہ۔ اب سنانے والے بھی خود ہیں اور سننے والے بھی خود! ماحول ایسا ہے کہ خود ستائی اور مکرر مکرر کی ڈیجیٹل گونج کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ٹرولنگ گروپس نے کل کی ‘انجمنِ ستائشِ باہمی’ کی جگہ پوری طرح لے لی ہے۔ پہلے تو ہوٹنگ یا مخالفت صرف ایک مشاعرے یا محفل کی حد تک محدود ہوتی تھی، لیکن آج دنیا کے تمام سوشل میڈیا فورمز ٹرولنگ کے باقاعدہ ہتھیار بن چکے ہیں۔ اب جو شخص یا جو بات کسی کو پسند نہیں آتی، وہاں سائبر جتھے کے جتھے متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان ستم ظریفوں کا انداز بھی خوب ہوتا ہے؛ ‘صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں’ کے مصداق، پہلے ایک صاحب پوسٹ پر مبہم کمنٹس کرتے ہیں، پھر دوسرے صاحب ان کمنٹس کرنے والے کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں بات کو آگے بڑھاتے ہیں، اور پھر تیسرے صاحب حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے اس پوسٹ اور پوسٹ کرنے والے کو ہدفِ تنقید بنا کر ٹرولنگ کا راستہ ہموار کر دیتے ہیں۔ اس منظم حملے کے بعد، پوسٹ کرنے والا بے چارہ اپنا چاکِ گریبان سنبھالتا ہی رہ جاتا ہے۔
ہمیں خود سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے خاصا عرصہ ہو چکا ہے۔ ہم اپنے صبح پاکستان فیس بک پیج پر علاقائی خبروں سمیت اخبارات میں شائع ہونے والی اہم قومی اور بین الاقوامی خبریں شیئر کرتے ہیں، جن میں تمام تقریباسیاسی جماعتوں کا احوال ہوتا ہے۔ مگر حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ان معلوماتی خبروں پر بھی ہمیں مفت میں ‘صلواتیں’ سننے کو ملتی ہیں۔ اس طرح کے بے شمار واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں چند مخلص ‘کرم فرماؤں’ نے ہمیں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے میڈیا سیل کا کارندہ قرار دے کر اپنے دل کی خوب بھڑاس نکالی۔ ابھی گزشتہ دنوں ہمارے ایک تاریخِ معلوماتی مضمون پر کمنٹس کرنے والوں نے وہ وہ طعنے دئیے اور مغلظات سنائیں کہ الامان و الحفیظ!
حد تو یہ ہے کہ یہاں حق بات کرنا بھی گناہ بن چکا ہے۔ چند ماہ قبل لیّہ سے منتخب مسلم لیگی ایم پی اے نے تونسہ میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کے تناظر میں لیّہ تونسہ پل کے حوالے سے سکیورٹی خدشات پر ایک بیان دیا۔ اس کے فوراً بعد لیّہ میں دن دیہاڑے ڈاکو ایک دکاندار سے کروڑوں روپے کی نقدی اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ہم نے عوامی مفاد میں ایم پی اے کے اسی بیان کا حوالہ دے کر حکومت سے مؤثر سکیورٹی اور امن و امان کا مطالبہ کیا۔ لیکن افسوس! یار لوگوں نے ایک اہم اور سنجیدہ انتظامی مسئلے کو ‘لسانی رنگ’ دے کر ایسا اچھالا کہ اصل حقیقت اور امن و امان کا بنیادی سچ کہیں پیچھے چھپ گیا۔ہم نے تو لیہ میں ہو نے والے ڈکیتی کے واقعہ کی بنیاد پر موثر سیکیورٹی کی بات کی ، تھل صوبہ اور سرائیکی صوبوں کے مہان ہماری قومی شناخت کے ہی پیچھے پڑ گئے ،اب اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ جہاں ڈکیتی اور دہشت گردی جیسے مسائل پر بات کرنے کے بجائے تنقید کرنے والے کو ہی نشانہ بنا دیا جائے، وہاں معاشرتی اصلاح کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟
ایک اور عجب ہواابھی چند دن پہلے ہمارے ایک معاصرِ عزیز اور سینیئر جرنلسٹ نے مقامی صحافتی سر گرمیوں کے تناظر میں سو شل میڈیا پرایک طویل کالم تحریر کیا۔ اس کالم میں یوں تو کہیں بھی ہمارے نام کا تذکرہ نہیں تھا، لیکن آخر میں ایک خصوصی نوٹ ڈال کر ہمارے نام کو باقاعدہ ہائی لائٹ کیا گیا اور فرمایا گیا کہ ‘میں ان واقعات کی تصدیق کے لیے ایم این اے کو کال کر لوں’۔ اب بھلا اس بے تکی بات کا کیا جواز تھا؟ جب ہم نے ان سے استفسار کیا کہ جناب! آپ نے میرا نام کیوں گھسیٹا اور میں کیوں ایم این اے کو کال کروں؟ تو ان کے پاس معذرت کے سوا کچھ نہ تھا۔ مگر افسوس کہ ان کی اس معذرت سے پہلے مذکورہ کالم میں بلا جوازہمارے نام کے ہائی لائٹ ہو نے سے ہمیں اور ہمارے متعلقین کو جو ذہنی اذیت برداشت کرنا پڑی وہ ہم بھگت چکے تھے۔
اس تمام صورتحال کو دیکھ کر اب ہمیں بھی شدت سے محسوس ہو رہا ہے کہ اس ڈیجیٹل یلغار کے دور میں بے چارہ اکیلا سوشل ایکٹیوسٹ بِھی کچھ نہیں ۔ لگتا ہے اب ہمیں بھی کسی ‘انجمنِ ستائشِ باہمی’ کا باقاعدہ ممبر بننا ہی پڑے گا، تاکہ اپنے دفاع کے لیے ایک جتھہ تیار رکھ سکیں اور وقت آنے پر جوابی ٹرولنگ کا ‘ثواب’ کما سکیں!”

Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، سوالات ، حقائق اور چیلنجز تحریر ۔۔۔ ارشاد راۓ

Next Post

الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز

Next Post
الطاف حسن قریشی  کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔  وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز

الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

الطاف حسن قریشی  کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔  وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز
قومی/ بین الاقوامی خبریں

الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز

by webmaster
مئی 17, 2026
0

لاہور۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معروف بزرگ صحافی و’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیرالطاف حسن قریشی کے انتقال پر...

Read moreDetails
ملتان. حکومت کے عیدالاضحی پر صفائی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے احکامات

لاہور ۔جائیداد کے دستاویزات کے حصول کیلئے بائیو میٹرک تصدیق لازم ،پنجاب حکومت کا فیصلہ

مئی 12, 2026
معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل ,   ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل , ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

مئی 10, 2026
راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

اپریل 20, 2026
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
"ماضی قریب کی اصطلاح 'انجمنِ ستائشِ باہمی' اور آج کے سوشل میڈیا 'ٹرولنگ گروپس' کا مفہوم، کام اور کردار یقیناً ایک جیسا ہی ہے۔ گزرے زمانے میں ادبی نشستوں اور مشاعروں میں یہ انجمنیں زیادہ فعال ہوتی تھیں۔ اپنے گروپ کی واہ واہ کرنا اور مخالفین کی ہوٹنگ کرنا، لقمہ دینا، تمسخر اڑانا، پھبتیاں کسنا اور شور و غوغا کرنا انہی اراکینِ انجمن کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ وقت بدلا، تو نہ نگر نگر ہونے والے وہ مشاعرے رہے، نہ وہ سامعین اور نہ ہی 'انجمنِ ستائشِ باہمی' کے وہ منظم ادبی تخریب کار! اب ڈیجیٹل سرگرمیوں کا دور آ گیا ہے اور مشاعرے بھی آن لائن ہونے لگے ہیں۔ اب نہ کسی بزم کا جھنجٹ ہے، نہ سامعین کی واہ واہ اور مکررمکرر کی صدائیں، اور نہ ہی ہوٹنگ یا بے ہنگم شور شرابہ۔ اب سنانے والے بھی خود ہیں اور سننے والے بھی خود! ماحول ایسا ہے کہ خود ستائی اور مکرر مکرر کی ڈیجیٹل گونج کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ٹرولنگ گروپس نے کل کی 'انجمنِ ستائشِ باہمی' کی جگہ پوری طرح لے لی ہے۔ پہلے تو ہوٹنگ یا مخالفت صرف ایک مشاعرے یا محفل کی حد تک محدود ہوتی تھی، لیکن آج دنیا کے تمام سوشل میڈیا فورمز ٹرولنگ کے باقاعدہ ہتھیار بن چکے ہیں۔ اب جو شخص یا جو بات کسی کو پسند نہیں آتی، وہاں سائبر جتھے کے جتھے متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان ستم ظریفوں کا انداز بھی خوب ہوتا ہے؛ 'صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں' کے مصداق، پہلے ایک صاحب پوسٹ پر مبہم کمنٹس کرتے ہیں، پھر دوسرے صاحب ان کمنٹس کرنے والے کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں بات کو آگے بڑھاتے ہیں، اور پھر تیسرے صاحب حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے اس پوسٹ اور پوسٹ کرنے والے کو ہدفِ تنقید بنا کر ٹرولنگ کا راستہ ہموار کر دیتے ہیں۔ اس منظم حملے کے بعد، پوسٹ کرنے والا بے چارہ اپنا چاکِ گریبان سنبھالتا ہی رہ جاتا ہے۔ ہمیں خود سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے خاصا عرصہ ہو چکا ہے۔ ہم اپنے صبح پاکستان فیس بک پیج پر علاقائی خبروں سمیت اخبارات میں شائع ہونے والی اہم قومی اور بین الاقوامی خبریں شیئر کرتے ہیں، جن میں تمام تقریباسیاسی جماعتوں کا احوال ہوتا ہے۔ مگر حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ان معلوماتی خبروں پر بھی ہمیں مفت میں 'صلواتیں' سننے کو ملتی ہیں۔ اس طرح کے بے شمار واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں چند مخلص 'کرم فرماؤں' نے ہمیں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے میڈیا سیل کا کارندہ قرار دے کر اپنے دل کی خوب بھڑاس نکالی۔ ابھی گزشتہ دنوں ہمارے ایک تاریخِ معلوماتی مضمون پر کمنٹس کرنے والوں نے وہ وہ طعنے دئیے اور مغلظات سنائیں کہ الامان و الحفیظ! حد تو یہ ہے کہ یہاں حق بات کرنا بھی گناہ بن چکا ہے۔ چند ماہ قبل لیّہ سے منتخب مسلم لیگی ایم پی اے نے تونسہ میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کے تناظر میں لیّہ تونسہ پل کے حوالے سے سکیورٹی خدشات پر ایک بیان دیا۔ اس کے فوراً بعد لیّہ میں دن دیہاڑے ڈاکو ایک دکاندار سے کروڑوں روپے کی نقدی اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ہم نے عوامی مفاد میں ایم پی اے کے اسی بیان کا حوالہ دے کر حکومت سے مؤثر سکیورٹی اور امن و امان کا مطالبہ کیا۔ لیکن افسوس! یار لوگوں نے ایک اہم اور سنجیدہ انتظامی مسئلے کو 'لسانی رنگ' دے کر ایسا اچھالا کہ اصل حقیقت اور امن و امان کا بنیادی سچ کہیں پیچھے چھپ گیا۔ہم نے تو لیہ میں ہو نے والے ڈکیتی کے واقعہ کی بنیاد پر موثر سیکیورٹی کی بات کی ، تھل صوبہ اور سرائیکی صوبوں کے مہان ہماری قومی شناخت کے ہی پیچھے پڑ گئے ،اب اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ جہاں ڈکیتی اور دہشت گردی جیسے مسائل پر بات کرنے کے بجائے تنقید کرنے والے کو ہی نشانہ بنا دیا جائے، وہاں معاشرتی اصلاح کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ ایک اور عجب ہواابھی چند دن پہلے ہمارے ایک معاصرِ عزیز اور سینیئر جرنلسٹ نے مقامی صحافتی سر گرمیوں کے تناظر میں سو شل میڈیا پرایک طویل کالم تحریر کیا۔ اس کالم میں یوں تو کہیں بھی ہمارے نام کا تذکرہ نہیں تھا، لیکن آخر میں ایک خصوصی نوٹ ڈال کر ہمارے نام کو باقاعدہ ہائی لائٹ کیا گیا اور فرمایا گیا کہ 'میں ان واقعات کی تصدیق کے لیے ایم این اے کو کال کر لوں'۔ اب بھلا اس بے تکی بات کا کیا جواز تھا؟ جب ہم نے ان سے استفسار کیا کہ جناب! آپ نے میرا نام کیوں گھسیٹا اور میں کیوں ایم این اے کو کال کروں؟ تو ان کے پاس معذرت کے سوا کچھ نہ تھا۔ مگر افسوس کہ ان کی اس معذرت سے پہلے مذکورہ کالم میں بلا جوازہمارے نام کے ہائی لائٹ ہو نے سے ہمیں اور ہمارے متعلقین کو جو ذہنی اذیت برداشت کرنا پڑی وہ ہم بھگت چکے تھے۔ اس تمام صورتحال کو دیکھ کر اب ہمیں بھی شدت سے محسوس ہو رہا ہے کہ اس ڈیجیٹل یلغار کے دور میں بے چارہ اکیلا سوشل ایکٹیوسٹ بِھی کچھ نہیں ۔ لگتا ہے اب ہمیں بھی کسی 'انجمنِ ستائشِ باہمی' کا باقاعدہ ممبر بننا ہی پڑے گا، تاکہ اپنے دفاع کے لیے ایک جتھہ تیار رکھ سکیں اور وقت آنے پر جوابی ٹرولنگ کا 'ثواب' کما سکیں!"
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.