"ماضی قریب کی اصطلاح ‘انجمنِ ستائشِ باہمی’ اور آج کے سوشل میڈیا ‘ٹرولنگ گروپس’ کا مفہوم، کام اور کردار یقیناً ایک جیسا ہی ہے۔ گزرے زمانے میں ادبی نشستوں اور مشاعروں میں یہ انجمنیں زیادہ فعال ہوتی تھیں۔ اپنے گروپ کی واہ واہ کرنا اور مخالفین کی ہوٹنگ کرنا، لقمہ دینا، تمسخر اڑانا، پھبتیاں کسنا اور شور و غوغا کرنا انہی اراکینِ انجمن کی ذمہ داری ہوتی تھی۔
وقت بدلا، تو نہ نگر نگر ہونے والے وہ مشاعرے رہے، نہ وہ سامعین اور نہ ہی ‘انجمنِ ستائشِ باہمی’ کے وہ منظم ادبی تخریب کار! اب ڈیجیٹل سرگرمیوں کا دور آ گیا ہے اور مشاعرے بھی آن لائن ہونے لگے ہیں۔ اب نہ کسی بزم کا جھنجٹ ہے، نہ سامعین کی واہ واہ اور مکررمکرر کی صدائیں، اور نہ ہی ہوٹنگ یا بے ہنگم شور شرابہ۔ اب سنانے والے بھی خود ہیں اور سننے والے بھی خود! ماحول ایسا ہے کہ خود ستائی اور مکرر مکرر کی ڈیجیٹل گونج کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ٹرولنگ گروپس نے کل کی ‘انجمنِ ستائشِ باہمی’ کی جگہ پوری طرح لے لی ہے۔ پہلے تو ہوٹنگ یا مخالفت صرف ایک مشاعرے یا محفل کی حد تک محدود ہوتی تھی، لیکن آج دنیا کے تمام سوشل میڈیا فورمز ٹرولنگ کے باقاعدہ ہتھیار بن چکے ہیں۔ اب جو شخص یا جو بات کسی کو پسند نہیں آتی، وہاں سائبر جتھے کے جتھے متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان ستم ظریفوں کا انداز بھی خوب ہوتا ہے؛ ‘صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں’ کے مصداق، پہلے ایک صاحب پوسٹ پر مبہم کمنٹس کرتے ہیں، پھر دوسرے صاحب ان کمنٹس کرنے والے کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں بات کو آگے بڑھاتے ہیں، اور پھر تیسرے صاحب حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے اس پوسٹ اور پوسٹ کرنے والے کو ہدفِ تنقید بنا کر ٹرولنگ کا راستہ ہموار کر دیتے ہیں۔ اس منظم حملے کے بعد، پوسٹ کرنے والا بے چارہ اپنا چاکِ گریبان سنبھالتا ہی رہ جاتا ہے۔
ہمیں خود سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے خاصا عرصہ ہو چکا ہے۔ ہم اپنے صبح پاکستان فیس بک پیج پر علاقائی خبروں سمیت اخبارات میں شائع ہونے والی اہم قومی اور بین الاقوامی خبریں شیئر کرتے ہیں، جن میں تمام تقریباسیاسی جماعتوں کا احوال ہوتا ہے۔ مگر حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ان معلوماتی خبروں پر بھی ہمیں مفت میں ‘صلواتیں’ سننے کو ملتی ہیں۔ اس طرح کے بے شمار واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں چند مخلص ‘کرم فرماؤں’ نے ہمیں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے میڈیا سیل کا کارندہ قرار دے کر اپنے دل کی خوب بھڑاس نکالی۔ ابھی گزشتہ دنوں ہمارے ایک تاریخِ معلوماتی مضمون پر کمنٹس کرنے والوں نے وہ وہ طعنے دئیے اور مغلظات سنائیں کہ الامان و الحفیظ!
حد تو یہ ہے کہ یہاں حق بات کرنا بھی گناہ بن چکا ہے۔ چند ماہ قبل لیّہ سے منتخب مسلم لیگی ایم پی اے نے تونسہ میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کے تناظر میں لیّہ تونسہ پل کے حوالے سے سکیورٹی خدشات پر ایک بیان دیا۔ اس کے فوراً بعد لیّہ میں دن دیہاڑے ڈاکو ایک دکاندار سے کروڑوں روپے کی نقدی اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ہم نے عوامی مفاد میں ایم پی اے کے اسی بیان کا حوالہ دے کر حکومت سے مؤثر سکیورٹی اور امن و امان کا مطالبہ کیا۔ لیکن افسوس! یار لوگوں نے ایک اہم اور سنجیدہ انتظامی مسئلے کو ‘لسانی رنگ’ دے کر ایسا اچھالا کہ اصل حقیقت اور امن و امان کا بنیادی سچ کہیں پیچھے چھپ گیا۔ہم نے تو لیہ میں ہو نے والے ڈکیتی کے واقعہ کی بنیاد پر موثر سیکیورٹی کی بات کی ، تھل صوبہ اور سرائیکی صوبوں کے مہان ہماری قومی شناخت کے ہی پیچھے پڑ گئے ،اب اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ جہاں ڈکیتی اور دہشت گردی جیسے مسائل پر بات کرنے کے بجائے تنقید کرنے والے کو ہی نشانہ بنا دیا جائے، وہاں معاشرتی اصلاح کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟
ایک اور عجب ہواابھی چند دن پہلے ہمارے ایک معاصرِ عزیز اور سینیئر جرنلسٹ نے مقامی صحافتی سر گرمیوں کے تناظر میں سو شل میڈیا پرایک طویل کالم تحریر کیا۔ اس کالم میں یوں تو کہیں بھی ہمارے نام کا تذکرہ نہیں تھا، لیکن آخر میں ایک خصوصی نوٹ ڈال کر ہمارے نام کو باقاعدہ ہائی لائٹ کیا گیا اور فرمایا گیا کہ ‘میں ان واقعات کی تصدیق کے لیے ایم این اے کو کال کر لوں’۔ اب بھلا اس بے تکی بات کا کیا جواز تھا؟ جب ہم نے ان سے استفسار کیا کہ جناب! آپ نے میرا نام کیوں گھسیٹا اور میں کیوں ایم این اے کو کال کروں؟ تو ان کے پاس معذرت کے سوا کچھ نہ تھا۔ مگر افسوس کہ ان کی اس معذرت سے پہلے مذکورہ کالم میں بلا جوازہمارے نام کے ہائی لائٹ ہو نے سے ہمیں اور ہمارے متعلقین کو جو ذہنی اذیت برداشت کرنا پڑی وہ ہم بھگت چکے تھے۔
اس تمام صورتحال کو دیکھ کر اب ہمیں بھی شدت سے محسوس ہو رہا ہے کہ اس ڈیجیٹل یلغار کے دور میں بے چارہ اکیلا سوشل ایکٹیوسٹ بِھی کچھ نہیں ۔ لگتا ہے اب ہمیں بھی کسی ‘انجمنِ ستائشِ باہمی’ کا باقاعدہ ممبر بننا ہی پڑے گا، تاکہ اپنے دفاع کے لیے ایک جتھہ تیار رکھ سکیں اور وقت آنے پر جوابی ٹرولنگ کا ‘ثواب’ کما سکیں!”
الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز
لاہور۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معروف بزرگ صحافی و’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیرالطاف حسن قریشی کے انتقال پر...
Read moreDetails










