دنیا کی ہر مہذب ریاست کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا طاقتور ہتھیار نہیں ہوتے بلکہ وہ کمزور ہاتھ ہوتے ہیں جنہیں ریاست گرنے سے پہلے تھام لیتی ہے۔ جب مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہو، روزگار سکڑ رہا ہو، اور ایک غریب ماں اپنے بچوں کے دودھ، دوائی اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو، تب فلاحی ریاست کا تصور محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال بن جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبے لاکھوں مجبور خاندانوں کے لیے امید کی آخری کرن بن جاتے ہیں۔
یہ کہنا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بند کر دینا چاہیے، دراصل ان لاکھوں بیواؤں، یتیم بچوں، معذور افراد اور مفلس خاندانوں کی سانسیں روکنے کے مترادف ہے جن کے چولہے انہی چند ہزار روپوں سے جلتے ہیں۔ شاید ایک صاحبِ حیثیت فرد کے لیے یہ رقم معمولی ہو، مگر کسی غریب ماں کے لیے یہی رقم اس کے بچے کے دودھ، اسکول کی فیس یا زندگی بچانے والی دوائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ دیہات اور پسماندہ علاقوں میں جب یہ امدادی رقم کسی مستحق عورت کے ہاتھ میں پہنچتی ہے تو اس کے چہرے پر ابھرنے والی خوشی محض ایک جذباتی منظر نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کی علامت ہوتی ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز 2008 میں ایک قومی سماجی تحفظ کے منصوبے کے طور پر کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد غربت میں گھرے خاندانوں کو براہِ راست مالی مدد فراہم کرنا تھا۔ اس پروگرام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ امداد براہِ راست خواتین کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے تاکہ خاندان کے اندر مالی تحفظ اور خودمختاری کو فروغ دیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بے شمار بیوائیں اور نادار خواتین اس پروگرام کو محض مالی امداد نہیں بلکہ اپنی عزتِ نفس کا سہارا سمجھتی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی سماجی تحفظ کے ایسے نظاموں کو ریاستی استحکام کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ امریکہ میں فوڈ اسٹیمپس، برطانیہ میں یونیورسل کریڈٹ، برازیل میں بولسا فامیلیا اور کئی یورپی ممالک میں کم آمدنی والے طبقے کے لیے براہِ راست مالی امداد کے پروگرام جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی مالیاتی ادارے بھی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ سماجی تحفظ کے مؤثر منصوبے غربت میں کمی، معاشی ناہمواری کے خاتمے اور انسانی وقار کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کی کوئی سنجیدہ ریاست اپنے غریب طبقے کو مکمل طور پر بے سہارا نہیں چھوڑتی کیونکہ غربت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی بے چینی، جرائم اور انسانی المیوں کو جنم دینے والا خطرناک بحران بھی ہے۔
بلاشبہ اس پروگرام پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ بعض حلقے بدعنوانی، نااہلی اور وسائل کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر کسی منصوبے میں خامیوں کا مطلب یہ نہیں کہ پورا نظام ہی ختم کر دیا جائے۔ اگر کسی اسپتال میں انتظامی کمزوریاں ہوں تو اسپتال بند نہیں کیے جاتے بلکہ اصلاحات کی جاتی ہیں۔ اسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بھی نگرانی، شفافیت، ڈیجیٹل نظام اور مستحقین کی درست جانچ کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ امداد حقیقی حق داروں تک پہنچے۔
اگر واقعی ریاست کو اخراجات کم کرنے ہیں اور قومی خزانے پر بوجھ گھٹانا ہے تو سب سے پہلے غریب کی معمولی امداد نہیں بلکہ طاقتور طبقوں کی شاہانہ مراعات ختم ہونی چاہییں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک بیوہ کے بچوں کے دودھ کے چند ہزار روپے تو ریاست کو کھٹکتے ہیں مگر دوسری طرف بیوروکریسی کے بے تحاشا ٹی اے ڈی اے، لگژری گاڑیوں کے قافلے، لاکھوں لیٹر مفت پٹرول، سرکاری پروٹوکول، اعلیٰ افسران کی شاہانہ رہائش گاہیں اور عوام کے ٹیکس سے چلنے والی غیر ضروری آسائشیں کسی کو نظر نہیں آتیں؟ اگر کفایت شعاری واقعی مقصود ہے تو پھر سیاستدانوں کے غیر ملکی دوروں پر ڈالروں میں ہونے والے اخراجات، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام، درجنوں گاڑیوں پر مشتمل پروٹوکول، سرکاری بنگلوں کی آرائش، مفت بجلی، مفت گیس، مفت سفری سہولیات اور اقتدار کے نام پر ملنے والی بے شمار مراعات پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔ ایک طرف غریب ماں اپنے بچے کے دودھ کے لیے قطار میں کھڑی ہو اور دوسری طرف اشرافیہ قومی خزانے کو ذاتی آسائش سمجھ کر استعمال کرے، تو ایسے معاشرے میں محرومی اور نفرت جنم لینا فطری امر ہے۔ قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب قربانی کا آغاز ایوانوں سے ہوتا ہے، نہ کہ جھونپڑیوں سے۔ اگر اصلاحات کرنی ہیں تو ان ہاتھوں کو روکا جائے جو اربوں کھاتے ہیں، نہ کہ ان مجبور ہاتھوں کو جنہیں چند ہزار روپے زندگی کا سہارا دیتے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ مسلسل بڑھ رہے ہوں، وہاں ایسے پروگرام ختم کرنا نہیں بلکہ مزید مؤثر اور مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب ریاست اپنے غریب شہری کو سہارا دیتی ہے تو دراصل وہ مستقبل کے عدم استحکام کو روک رہی ہوتی ہے۔ ایک بھوکا بچہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا سوال ہوتا ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام محض ایک امدادی اسکیم نہیں بلکہ لاکھوں ٹوٹے ہوئے گھروں کی امید، بھوکے بچوں کی مسکراہٹ اور بیواؤں کے آنسوؤں کا سہارا ہے۔ اگر یہ پروگرام بند کر دیا گیا تو اس کے اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی بھی ہوں گے۔ غربت بڑھے گی، بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی، غذائی قلت میں اضافہ ہوگا اور محرومی کا احساس شدت اختیار کرے گا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں غریب کے چہرے سے آخری امید بھی چھن جائے، وہاں جرائم، نفرت اور بے چینی جنم لینے لگتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سیاسی بحث کا نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، معاشی انصاف اور قومی ذمہ داری کا معاملہ سمجھا جائے۔ ایک مہذب قوم اپنے کمزور طبقے کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ ریاست کا اصل حسن اسی میں ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہری کے آنسو پونچھ سکے ۔ کیونکہ قومیں صرف ایٹمی طاقت یا بلند عمارتوں سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اس وقت عظیم بنتی ہیں جب ان کے معاشرے میں کوئی بچہ بھوک سے نہ سوئے اور کوئی بیوہ بے بسی سے نہ روئے ۔
الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز
لاہور۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معروف بزرگ صحافی و’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیرالطاف حسن قریشی کے انتقال پر...
Read moreDetails










