ا نجم صحرائی کو ہم نے پہلی بار گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کے سامنے ایک تقریب میں سنا تھا۔ تب تحریک استقلال ان کی پہچان تھی اور کسی دور کی اسٹیبلشمنٹ کے ہارٹ فیورٹ ائر مارشل اصغر خان ان کے لیڈر تھے۔ انجم صاحب کو اس محفل میں جاگیرداروں پر برستے سن کر وہ ہمیں ایک ہیرو کی طرح لگے۔ لیہ کے جاگیردار زدہ سماج میں کسی عام آدمی کا طاقتور اشرافیہ کو للکارنا کوئی عام بات نہ تھی البتہ تحریک استقلال سے ان کی وابستگی ہمیں ان کے انقلابی آہنگ سے میل کھاتی نظر نہیں آئی۔ انجم صاحب کے اندر چھپا باغی، مگر کسی خاص تحریک کا قیدی نہ تھا۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ وہ اپنی ذات میں خود ایک تحریک تھے۔ آنے والے سمے نے یہ ثابت بھی کیا، صحافت، سیاست اور سماجی زندگی میں انہوں نے اس انقلابی آہنگ کی لے کو دھیما نہیں ہونے دیا۔ زندگی کی ستر ہنگامہ خیز بہاریں دیکھ کر وہ آج بھی نوجوانوں کی طرح پر عزم ہیں۔
پچھلے دنوں لیہ جانا ہوا تو انجم صاحب نے کمال محبت سے اپنی خود نوشت سوانح عمری عطا فرمائی، یہ کتاب آج کل میرے ساتھ اور میں اس کے ساتھ سفر کرتا ہوں کہ یہ مجھے لیہ کی زندگی کے اس دور کی امین محسوس ہوتی ہے کہ جس میں انجم صاحب نے اپنے شب و روز بسر کیے ہیں۔ یہ دور کوئی ایک دو برس نہیں بلکہ ساٹھ سال کے شعوری اور متحرک جیون پر محیط ہے۔ اسی دور کے کچھ سالوں میں ہم بھی اپنے آپ کو ساتھ چلتا محسوس کرتے ہیں۔ انجم صاحب کی اس کتاب کی ایک خاص بات ہے اور وہ یہ کہ کتاب اپنے آپ کو پڑھواتی ہے اور میرے خیال میں کسی بھی تحریر کی یہ اولین خوبی ہوا کرتی ہے کہ پڑھنے والے کو اسے پڑھنے کے لیے خود کو مجبور نہ کرنا پڑے۔ کتاب کا زیادہ تر حصہ ان کے وہ کالم ہیں کہ جو اخبارات میں سلسلہ وار چھپتے رہے مگر کالموں کا یہ مجموعہ اپنے اندر لیہ کے متعلق بہت قیمتی یادیں سموئے ہوئے ہے۔ ان میں دوستوں کی کج ادائیوں سے لے کر مخالفین کی وضع داریاں شامل ہیں۔ انسانیت نواز لوگوں کی قربانیاں اور انقلاب کے دیوانوں کی سرشاریاں موجود ہیں، تاریخ کے آثار ہیں، نئی دنیا کی تعمیر کے جذبے ہیں اور علم اور فلاح کے جذبے سے سرشار لوگوں کا ذکر ہے۔ کتاب مجھے اداس بھی کرتی ہے، یہ ہجرتوں کے مارے خاندان کے ایک فرد کی روداد بھی ہے، نئی زمینوں میں آباد ہونا کوئی انہونی ریت نہیں۔ ازل سے انسان کے پاؤں گردش میں ہیں اور ابد تک رہیں گے، مگر اس مسافری سے جڑی اداسی کا کیا کیجئیے کہ جو بہت فطری ہے اور کئی نسلوں تک آپ کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔
کتاب میں یوں تو بہت سے واقعات اور کردار ہیں مگر اس سے جڑے دو واقعات میری اداسیوں کو بڑھا گئے، لیہ پبلک سکول کے بانی پرنسپل رانا نذیر احمد مجاہد اپنی والدہ کے ساتھ اس ٹرین کی چھت پر ملتان سے عازم لیہ ہیں کہ جو خون کے دریا عبور کرتی انڈیا سے پاکستان آ رہی ہے۔ گاڑی مظفر گڑھ کے قریب دریائے چناب کے پل پر سے گزر رہی ہے۔ سخت گرمی اور حبس سے گھبرائے مسافروں کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میسر آئے تو اونگھ آنے لگی ہے۔ رانا صاحب کے والد صاحب بخار سے تپ رہے ہیں، والدہ کی گود میں چھوٹی بہن ہے، انہیں اونگھ آتی ہے اور چند لمحوں میں قیامت گزر جاتی ہے، اچانک دیکھتی ہیں تو گود خالی ہے، ٹرین کے شور میں ان کی چیخ گونجتی ہے۔ ہائے میری سروری۔ بیٹی نیند کے عالم میں دریائے چناب کی موجوں میں گم ہو چکی ہے اور ہجرت کے دکھوں کا مارا خاندان ایک نئے دکھ کے ساتھ سفر کیے جا رہا ہے۔ گاڑی مظفرگڑھ رکتی ہے، غم زدہ خاندان اسٹیشن کے قریب ایک درخت کے نیچے بے آسرا بیٹھا ہے، والد صاحب کی حالت غیر ہو جاتی ہے اور وہ اسی حالت میں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ماں ابھی تک بیٹی کا دکھ قبول نہ کر پائی تھی، اس کے دل پر جانے کیا گزری ہو گی اور ننھے سے رانا مجاہد نے اس دکھ کو کیسے سہا ہو گا، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔
” شالا مسافر کوئی نہ تھیوے ککھ جنہاں تھیں بھارے ہو“
دوسرا منظر پس منظر کے ساتھ ہے، تقسیم کے بعد لیہ کے اولین وکلاء میں سے چوہدری سلیمان گجر تھے، ان کا ذکر کتاب میں پڑھا تو اس سے ایک ہی دن پہلے چک نمبر 256 ٹی ڈی اے میں چوہدری عاصم اقبال گجر کے والد صاحب چوہدری جلال الدین سے 1947 کے بارے میں کیے گئے انٹرویو کا ایک سوال یاد آ گیا۔
”جب آپ ہندؤوں کے گھیرے میں تھے اور یہ فیصلہ ہو رہا تھا کہ پہلے بزرگوں کو مارا جائے یا بچوں کو تو آپ لوگوں میں سب سے کم عمر بچہ کون تھا؟ سلیمان۔ وہ زندہ ہیں؟ جی نہیں وہ فوت ہو گئے، وہ ہمارے خاندان کے اولین وکیل تھے، لیہ میں پریکٹس کرتے رہے، چوہدری اصغر سے بھی پہلے۔ پروفیسر توقیر سرور نے بزرگوں کی اداسی کو لقمہ دیا۔ یاد رہے کہ ارنیالہ ضلع ہوشیارپور کی 1947 کی اس کہانی کے تمام کردار اس وقت محفوظ رہے جب اسی گاؤں سے ریٹائر ہو چکے ٹیچر ماسٹر تلسی رام نے اچانک وہاں پہنچ کر ان لوگوں کی جان بچائی۔ چوہدری سلیمان کے بارے میں پڑھ کر دل میں ایک لہر سی اٹھی، کاش آج وہ زندہ ہوتے تو میں ان سے بھی اس وقت کی کہانی سنتا۔ رانا مجاہد صاحب ماشاءاللہ حیات ہیں اور ڈاکٹر ظفر عالم ظفری سے وعدہ ہے کہ کسی روز ان سے ان کی کہانی سننے جاؤں گا کہ میری آنکھیں ایک مدت سے نم نہیں ہوئی ہیں۔
آپ بیتیاں اور سوانح عمریاں آپ کو ماضی کے سفر پر لے جاتی ہیں، اس آپ بیتی کا سفر بھی سمانہ نام کے تاریخی قصبے سے شروع ہوتا ہے کہ جہاں مولوی قلندر بخش نام کے ایک درویش صفت بزرگ تھے کہ جو قرآن کی تعلیم دینے میں تین نسلوں کے استاد تھے اور جن کے پڑھے ہوئے لوگ جب لیہ میں ان کے پوتے انجم صحرائی کے سامنے دادا کا ذکر احترام سے کرتے تھے تو ان کا سینہ محبت اور فخر سے چوڑا ہو جاتا تھا۔ کوٹ سلطان، لیہ اور دادا کی سرزمین سمانہ سے انجم صاحب کی محبت چھپائے نہیں چھپتی، پاکستانیت تو جیسے ان کو گھٹی میں ملی، جماعت اسلامی نے ان کے نظریات تشکیل دیے، تحریک استقلال میں انہوں نے انقلاب کا راستہ تلاش کیا، تحریک انصاف سے انصاف اور گمشدہ انقلاب کی امید میں ناتا جوڑا، بے سر و سامانی کے باوجود ضلعی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہوئے۔ ڈاکٹر خیال امروہوی کی قلمی مزاحمت کے بعد انجم صحرائی نے لیہ کے جاگیردار زدہ سماج میں عملی مزاحمت کی بنیاد رکھی، اگرچہ وہ مارکسی نہیں تھے مگر تمام عمر پرولتاریہ کے ساتھ جیے اور اپنے دور کے بورژوا سماج کے خلاف اپنے ایجاد کیے مزاحمتی اسلوب کے ساتھ لڑتے رہے۔ انجم صحرائی نے پنجاب کے اس دور دراز شہر پر ایک نوازش اور کی اور وہ یہ کہ اپنی سوانح عمری کے ذریعے اس کے کئی عشروں کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی زندگی محفوظ کر دی۔ اگرچہ یہ کتاب تاریخ کی کتاب نہیں ہے، نہ ہی تحقیقی مقالہ ہے مگر مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب آنے والے دور میں ان دونوں موضوعات پر کام کرنے والوں کے لیے ایک راہنما کا کام کرے گی۔










