لا ہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب بھر میں جشن آزادی کی سرگرمیاں تیز...
Read moreDetailsلاہور {ویب ڈیسک } وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بھارت کا گنڈاپور کے بیان کو فیٹف...
Read moreDetailsفیصل آباد:انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا...
Read moreDetailsوزارت خزانہ کپاکستان اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا ہے، اس معاہدے کا مقصد دو...
Read moreDetailsلاہور: (ویب ڈیسک ) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جمشید دستی کی درخواست پر این اے 175...
Read moreDetailsریاض (صبح پاکستان) پاکستان ڈاکٹرز گروپ ریاض ( سعودی عرب) (PDGR) نے پاکستان ایمبیسی ریاض میں ایک کامیاب مینی میڈیکل...
Read moreDetailsلاہور (ویب ڈسک ) قائم مقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے حکومتی رکن حسان ریاض کو تھپڑ مارنے والے اپوزیشن...
Read moreDetailsپاک فوج کے عظیم سپوت اور نشانِ حیدر حاصل کرنے والے پہلے شہید کیپٹن محمد سرور کا 77واں یومِ شہادت...
Read moreDetailsلاہور ( ویب ڈیسک ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک پر ظلم کا نظام...
Read moreDetailsوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا انجام عبرت ناک موت ہے،...
Read moreDetailsوفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...
Read moreDetailsوزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں، رہائی کی تحریک کو لیڈ کرنا چاہتے ہیں تو پھر گرفتاری ان کے لیے بڑی ضروری ہے، وہ گرفتار ہوں گے تو لیڈر بنیں گے‘۔
ڈان نیوز کے پروگرام لائیو ود عادل شاہ زیب میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’عمران خان کے بیٹوں کو ویزے دیئے جائیں گے، اگر تو وہ والد سے صرف ملاقات کرنے آئیں تو ان کی ملاقات کی بھی کروائی جائے گی اور سیکیورٹی بھی دی جائے گی، بحفاظت جب تک وہ واپس جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں‘۔
’لیکن اگر وہ یہاں آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں، اور انہوں نے تحریک کو لیڈ کرنا ہے تو پھر انہیں گرفتار کرنا اس بھی لیے ضروری ہے کہ پھر وہ لیڈر بنیں اور عمران خان کی پارٹی کو لیڈ کریں‘۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ’اگر وہ یہاں آکر پارٹی کو لیڈ کرتے ہیں تو یقینا اس سے پارٹی کو ایک چہرہ ملے گا، یہی اعتراض ہم پر اور پیپلز پارٹی پر کیا کرتے تھے کہ وہاں مورروثی سیاست ہو رہی ہے تاہم اس کی اپنی ایک ویلیو ہے جس کی اب ان کو بھی ضرورت بھی پیش آگئی ہے۔ اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا‘۔
وزیر اعظم کے سیاسی مشیر کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کو سیاست کرنی چاہیے، پولیٹیکل پارٹیز اور لیڈر شپ کےساتھ بیٹھنا چاہیے‘۔
’انہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے کہ ہم صرف اسٹیبلیشمنٹ سے ہی بات کریں گے، سیاست دانوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، راستہ جو بھی نکلنا ہے ِادھر سے ہی نکلنا ہے، حالات اور معاملات کو اگر ٹھیک ہونا ہے تو پولیٹیکل پارٹیز اور فورسز نے ہی کرنے ہیں، کوئی اگر یہ کہے کہ باقی سب کو نہیں چھوڑوں گا یا میں ختم کر دوں گا، تو ایسا نہیں ہو سکے گا‘۔