خواجہ سعد رفیق اور لیہ … انجم صحرائی
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءخواجہ سعد رفیق جو کئی مہینوں سے اپنے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ "اسیر ...
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءخواجہ سعد رفیق جو کئی مہینوں سے اپنے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ "اسیر ...
نوازشریف کی اچانک طبعیت خرابی اور پھر ڈاکٹروں کی طرف سے خطرے کی گھنٹی ، حکومت کے کانوں میں ایسی ...
لیہ {صبح پا کستان} صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب سینءر صحافی عبد الرحمن فریدی نماءندہ روزنامہ جنگ ناسازی طبیعت کی باعث ...
اسلام آباد ۔ انٹرنیشل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے مودی کے طیارے کوفضائی حدود نہ دینے کی بھارتی درخواست مستردکرتے ...
لاہور ۔ پاکستان بھر کے بڑے شہروں میں تاجروں کی بڑی تعداد حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ...
اسلام آباد ۔ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کا آزادی مارچ دوسرے روز بھی جاری ہے اور قافلہ مولانا ...
جی وہ خود کئی روز تک نہ آئیں ۔ ۔ تو ان کی فون کال ضرور آجاتی ہے کیونکہ ایک ...
لیہ(رضوان مرزا سے )ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان ملک محمد خالد اعوان ایڈووکیٹ کی ڈسٹرکٹ پریس کلب لیہ آمد،صحافیوں سے گفتگو،ملک ...
لاہور: وزیراعظم عمران خان نے ننکانہ صاحب میں بابا گرو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران ...
لاہور ۔ پروفیسر محمود ایاز کا کہنا ہے پلیٹ لیٹس کے لئے لگائے جانے والے انجکشنز اور سٹیرائیڈز مزید طبی ...
لاہور (صبح پا کستان) میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب کے زیر اہتمام میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا...
Read moreDetails
سعد رفیق مسلم لیگ ن کے بڑے متحرک اور فعال رہنماء ہیں ، سعد رفیق کا شمار شریف فیملی کے انتہائی با اعتماد سا تھیوں میں ہو تا ہے ،مسلم لیگ ن کے ہر دور حکومت میں وزیر رہے ، سا بقہ دور حکومت میں بھی وفاقی وزیر ریلوے تھے ، ہو نے والے الیکشن میں اپنے آ بائی ھلقہ سے عمران خان سے ہار گئے ۔ لیکن بعد میں عمران خان کے نششت چھوڑنے پر دوباہ ضمنی الیکشن لڑا اور پی ٹی آ ئی کے حکو متی امیدوار کے مقابلہ میں ممبر قو می اسمبلی منتخب ہو گئے اور کئی مہینوں سے خواجہ بردران پیراگون سکینڈل میں نیب کے زیر حراست ہیں
سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق شہید میدان سیاست اور سماجی خدمات کے حوالے سے ایک بڑا نام ہے گو ان کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا لیکن حق گو ئی بے باکی میں اپنے وقت کے شہہ سوار تھے
خواجہ رفیق شہید ہمیشہ سر مایہ داروں ، استحصالی جا گیرداروں اور استبدادی آمرانہ حکو متوں کے خلاف سینہ سپر رہے ، خواجہ رفیق شہید نے نے ہمیشہ بنیادی آزادیوں اور عوامی جمہوری حقوق کے لئے آواز بلند کی ۔
1972 کے پی پی پی دور حکومت میں ڈیرہ غازیخان میں ڈاکٹر نذیر شہید کے قتل کے بعد لا ہور خواجہ رفیق شہید کی شہادت بڑا سیاسی قتل تھا ، خواجہ رفیق شہید کو حکومت مخالف جلوس میں گو لی ماری گئی ۔ خواجہ رفیق شہید کے قتل کی ایف آ ئی آرملک غلام مصطفی کھر ، میاں افتخار تاری سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج کی گئی لیکن گواہوں کے منحرف ہو جانے کے سبب سبھی نامزد ملزمان بری ہو گئے ۔
والد کی شہادت کے وقت سعد رفیق سات سال کے تھے ۔ غم سے نڈھال والدہ بیگم فرحت رفیق نے کہا کہ وہ کیس کی پیروی نہیں کر سکتیں میں اپنے شو ہر کا مقدمہ اللہ کی عدالت میں دا ئر کر تی ہوں ۔ اللہ ہی بڑا منصف ہے اور وہی مجھے اور میرے معصوم بچوں کو انصاف دے گا ۔ بیگم فرحت رفیق نے انتہائی صبر اور عزم سے اپنے بچوں کی تر بیت کی اور یہ اسی عظیم ماں کی تر بیت کا ثمر ہے کہ آج خواجہ رفیق شہید کے دونوں بیٹے لا ہور کی پہچان ہیں ، سعد رفیق سے سیاسی و نظریاتی اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن وطن سے محبت خواجہ رفیق شہید کے بیٹوں کے لہو میں شا مل ہے اور ان سے یہ اعزاز کو ئی نہیں چھین سکتا
