• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

*”ﻧﻮﺍﺏ ﺳﺮ ﺻﺎﺩﻕ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ عباسی”*

webmaster by webmaster
مئی 24, 2018
in کالم
0
*”ﻧﻮﺍﺏ ﺳﺮ ﺻﺎﺩﻕ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ عباسی”*

*نواب سر صادق محمد خان عباسی* ریاست بہاولپور کے آخری حکمران تھے۔۔ آپ September ،1904 میں پیدا ہوئے اور May 1967 کو وفات پائی۔۔ آپ تین سال کی عمر میں ریاست بہاولپور کے نواب بننے اور آپ نے 1955 تک بہاولپور پر حکمرانی کی۔۔
نواب صادق نے ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻟﺸﻤﺲ ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻘﻤﺮ ﻣﺤﻞ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﮱ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮬﮯ ۔
ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ملک ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻄﯿﺮ ﺭﻗﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ آپ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﺎﮨﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺑﻄﻮﺭ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺟﻨﺮﻝ ﺣﻠﻒ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮔﺌﮯ۔۔
آپ نے پاکستان کے سربراہ قائداعظم کو ان کے شایان شان مہنگی ترین رولز رائس گاڑی ان کو تحفے میں دے دی جبکہ ان کی رہائش کے لیے ذاتی محل بھی پیش کردیا۔۔۔
جب ایران کا صدر پہلی بار پاکستان کے دورے پر آئے تو پاکستانی حکومت کے پاس اچھے برتن بھی نہ تھے، جسے وہ ایرانی صدر کے سامنے پیش کر سکتے۔ اس موقع پر بھی نواب صادق نے شاہی برتنوں سے بھر کر ایک ٹرین کراچی روانہ کی۔ جن میں زیادہ تر برتن چاندی اور سونے کے بھی تھے۔ آپ نے یہ برتن بھی بعد میں واپس نہیں لئے۔۔
ﺟﺲ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ نے آپ کو ”ﻣﺤﺴﻦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ” ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ” ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ۔”
جی ہاں، وہ ریاست جہاں ستلج ویلی پراجیکٹ اور برصغیر کے سب سے بہترین نہری نظام کی وجہ سے "باغات کی سر زمین” کہا جاتا تھا۔۔
یہ برصغیر کی واحد ریاست تھی جس کی سرکاری زبان اردواور مذہب اسلام تھا۔۔۔
وہ ریاست جس میں صادق ایجرٹن کالج، صادق ڈین ہائی سکول اور جامعہ اسلامیہ جیسے ادارے مفت تعلیم کے فروغ میں کوشاں رہے، جہاں سے منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی اور شفیق الرحمان جیسی نامور شخصیات نے صلاحیتیں پروان چڑھیں۔۔۔
وہ ریاست جہاں بہاول وکٹوریہ ہسپتال اور سول ہسپتال احمد پور شرقیہ جیسے مراکز میں جدید طبی سہولیات مفت فراہم کی جاتی تھیں اور مریضوں کے لیے وظیفہ مقرر ہوتا تھا۔۔۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ پنڈت نہرو لندن میں ریاست بہاول پور کے امیر نواب صادق خان عباسی کو ہندوستان میں شمولیت پر اکساتے ہوئے اقتدار اور مراعات کی ترغیب دے رہا ہے۔۔۔مورخ سانس روکے نواب آف بہاول پور کے فیصلے کا منتظر ہے۔۔ایک طرف ذاتی مفاد ہے اور دوسری طرف عوام کی خواہش۔۔۔ نواب صاحب ذاتی مفاد کو پس پشت ڈال کر مذہبی رشتے اور عوامی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کرتے ہیں۔۔ مورخ نے ان کی عظمت کو سلام پیش کیا اور تاریخ کے اوراق پر ان لمحات کو محفوظ کر لیا۔۔
۔ آپ نے 05 اکتوبر 1947 کو ریاست بہاولپور کا الحاق پاکستان کے ساتھ کیا۔۔ اس طرح بہاولپور پہلی ریاست تھی جس نے سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔
نواب صاحب نے تحریک پاکستان کے لیے 52 ہزار پاؤنڈ کی امداد دینے کے بعد نوزائیدہ ملک کو مالی طور پر مستحکم کرنے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مزید 10 کروڑ روپے حکومت پاکستان کو دیے جو موجودہ تقریباً چار-پانچ ارب سے زائد روپے بنتے ہیں۔۔۔
آپ نے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں کو رہنے کے لئے جگہ دی اور بہترین سہولیات فراہم کی۔۔
جب 1935 میں کوئٹہ میں شدید زلزلہ آیا تو آپ نے متاثرین کی ہر طرح سے امداد کی۔۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق آپ نے پنجاب یونیورسٹی ، ایچی سن کالج اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کو بیش بہا عطیات دیے جو کبھی زمین کے تحفہ کی صورت میں اور کبھی عمارتیں بنانے کے لیے سرمایہ کی فراہمی کی صورت میں تھے۔۔۔
آپ نے 1942 میں بہاولپور میں ایک چڑیاگھر بنوایا۔۔ ڈرنگ سٹیڈیم بنوایا۔۔۔ 1954 میں پاکستان اور بھارت کا پہلا میچ بھی ڈرنگ سٹیڈیم میں ہوا تھا۔۔ یہ فہرست بہت طویل ہے۔۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮧ ﺁﺝ ﻣﻠﮏ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺍﺏ ﺳﺮ ﺻﺎﺩﻕ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻭﻧﺸﺎﻥ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻧﮧ ﮨﯽ ﻧﺼﺎﺏ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ
ﺟﺴﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺮﺗﺮﯾﻦ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﻧﻮﺍﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻧﻮﺯﺍﺋﺪﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﮩﻼ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻣﺎﺳﮏ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯿﺎ ۔۔

مرسلہ انتخاب ، غلام رسول اصغر

Tags: history pak
Previous Post

لیہ ۔ امیدوار قو می اسمبلی حلقہ 188 سردار عتیق خان مرانی کے بڑے بھائی عبد الرحمن مرانی مرحوم ایصال ثواب کے لے رسم قل خوانی کل ادا کی جائے گی

Next Post

الیکشن 2018 /ووٹرزکی تعداد*

Next Post
الیکشن 2018 /ووٹرزکی تعداد*

الیکشن 2018 /ووٹرزکی تعداد*

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
*نواب سر صادق محمد خان عباسی* ریاست بہاولپور کے آخری حکمران تھے۔۔ آپ September ،1904 میں پیدا ہوئے اور May 1967 کو وفات پائی۔۔ آپ تین سال کی عمر میں ریاست بہاولپور کے نواب بننے اور آپ نے 1955 تک بہاولپور پر حکمرانی کی۔۔ نواب صادق نے ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻟﺸﻤﺲ ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻘﻤﺮ ﻣﺤﻞ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﮱ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮬﮯ ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ملک ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻄﯿﺮ ﺭﻗﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ آپ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﺎﮨﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺑﻄﻮﺭ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺟﻨﺮﻝ ﺣﻠﻒ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮔﺌﮯ۔۔ آپ نے پاکستان کے سربراہ قائداعظم کو ان کے شایان شان مہنگی ترین رولز رائس گاڑی ان کو تحفے میں دے دی جبکہ ان کی رہائش کے لیے ذاتی محل بھی پیش کردیا۔۔۔ جب ایران کا صدر پہلی بار پاکستان کے دورے پر آئے تو پاکستانی حکومت کے پاس اچھے برتن بھی نہ تھے، جسے وہ ایرانی صدر کے سامنے پیش کر سکتے۔ اس موقع پر بھی نواب صادق نے شاہی برتنوں سے بھر کر ایک ٹرین کراچی روانہ کی۔ جن میں زیادہ تر برتن چاندی اور سونے کے بھی تھے۔ آپ نے یہ برتن بھی بعد میں واپس نہیں لئے۔۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ نے آپ کو ''ﻣﺤﺴﻦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ'' ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ " ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ۔" جی ہاں، وہ ریاست جہاں ستلج ویلی پراجیکٹ اور برصغیر کے سب سے بہترین نہری نظام کی وجہ سے "باغات کی سر زمین" کہا جاتا تھا۔۔ یہ برصغیر کی واحد ریاست تھی جس کی سرکاری زبان اردواور مذہب اسلام تھا۔۔۔ وہ ریاست جس میں صادق ایجرٹن کالج، صادق ڈین ہائی سکول اور جامعہ اسلامیہ جیسے ادارے مفت تعلیم کے فروغ میں کوشاں رہے، جہاں سے منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی اور شفیق الرحمان جیسی نامور شخصیات نے صلاحیتیں پروان چڑھیں۔۔۔ وہ ریاست جہاں بہاول وکٹوریہ ہسپتال اور سول ہسپتال احمد پور شرقیہ جیسے مراکز میں جدید طبی سہولیات مفت فراہم کی جاتی تھیں اور مریضوں کے لیے وظیفہ مقرر ہوتا تھا۔۔۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ پنڈت نہرو لندن میں ریاست بہاول پور کے امیر نواب صادق خان عباسی کو ہندوستان میں شمولیت پر اکساتے ہوئے اقتدار اور مراعات کی ترغیب دے رہا ہے۔۔۔مورخ سانس روکے نواب آف بہاول پور کے فیصلے کا منتظر ہے۔۔ایک طرف ذاتی مفاد ہے اور دوسری طرف عوام کی خواہش۔۔۔ نواب صاحب ذاتی مفاد کو پس پشت ڈال کر مذہبی رشتے اور عوامی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کرتے ہیں۔۔ مورخ نے ان کی عظمت کو سلام پیش کیا اور تاریخ کے اوراق پر ان لمحات کو محفوظ کر لیا۔۔ ۔ آپ نے 05 اکتوبر 1947 کو ریاست بہاولپور کا الحاق پاکستان کے ساتھ کیا۔۔ اس طرح بہاولپور پہلی ریاست تھی جس نے سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ نواب صاحب نے تحریک پاکستان کے لیے 52 ہزار پاؤنڈ کی امداد دینے کے بعد نوزائیدہ ملک کو مالی طور پر مستحکم کرنے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مزید 10 کروڑ روپے حکومت پاکستان کو دیے جو موجودہ تقریباً چار-پانچ ارب سے زائد روپے بنتے ہیں۔۔۔ آپ نے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں کو رہنے کے لئے جگہ دی اور بہترین سہولیات فراہم کی۔۔ جب 1935 میں کوئٹہ میں شدید زلزلہ آیا تو آپ نے متاثرین کی ہر طرح سے امداد کی۔۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق آپ نے پنجاب یونیورسٹی ، ایچی سن کالج اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کو بیش بہا عطیات دیے جو کبھی زمین کے تحفہ کی صورت میں اور کبھی عمارتیں بنانے کے لیے سرمایہ کی فراہمی کی صورت میں تھے۔۔۔ آپ نے 1942 میں بہاولپور میں ایک چڑیاگھر بنوایا۔۔ ڈرنگ سٹیڈیم بنوایا۔۔۔ 1954 میں پاکستان اور بھارت کا پہلا میچ بھی ڈرنگ سٹیڈیم میں ہوا تھا۔۔ یہ فہرست بہت طویل ہے۔۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮧ ﺁﺝ ﻣﻠﮏ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺍﺏ ﺳﺮ ﺻﺎﺩﻕ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻭﻧﺸﺎﻥ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻧﮧ ﮨﯽ ﻧﺼﺎﺏ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺮﺗﺮﯾﻦ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﻧﻮﺍﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻧﻮﺯﺍﺋﺪﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﮩﻼ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻣﺎﺳﮏ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯿﺎ ۔۔ مرسلہ انتخاب ، غلام رسول اصغر
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.